اگلے برس سے فون بینکنگ شروع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں آئندہ سال سے موبائل بینکنگ سروس شروع ہو جائےگی اور بینکوں کی تمام برانچیں آن لائن ہو جائیں گی۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کےگورنر ڈاکٹر عشرت حسین نے ایک مقامی ہوٹل میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بینکنگ کے شعبے میں نمایاں ترقی کی ہے۔ ملک میں سال 2006 تک بینکوں کی تمام برانچیں آن لائن ہو جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ سال 2006 میں موبائل بینکنگ سروس بھی شروع کی جا رہی ہے جس کے تحت کھاتے دار اپنے موبائل فون کے ذریعے بینکنگ کی سروس حاصل کر سکیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ بینکوں کے آن لائن ہونے سے ٹرانزیکشن کی لاگت میں کمی آئے گی۔ اور یہ صرف چھ روپے فی ٹرانزیکشن رہ جائےگی۔ گورنر سٹیٹ بینک نے بینکوں پر زور دیا کہ وہ بینکاری کے شعبے میں آنے والی تبدیلیوں کے مطابق اپنے آپ کو اپ ڈیٹ کریں۔ تاکہ عالمی سطح پر چیلنجوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اب ٹیکنالوجی کا دور ہے اس لیے بینکوں کو چاہیے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی اپنائیں۔ پاکستان میں اس وقت سرکاری شعبے میں چلنے والے نیشنل بینک آف پاکستان کے علاوہ باقی تقریباً تمام بینک آن لائن ہیں۔ لیکن یہ سہولت صرف چند شہروں تک محدود ہے اور وہ بھی چند ہی برانچوں میں۔ ان برانچوں میں کھاتے دار کارڈ کے ذریعے اپنی رقم بینک اوقات کے بعد بھی کسی وقت نکال سکتے ہیں۔ اسٹیٹ بنک کے ذرائع کے مطابق آن لائن بینکنگ اسٹیٹ بنک کی پانچ سالہ حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت دو سال کی مدت میں بینکوں کو آن لائن کرنا ہے۔ تاکہ کہ اس شعبے کو ای بینکنگ کی طرف لے جایا جا سکے۔ ایک سینیئر بینکار کا کہنا ہے کہ الیکٹرونک فنڈ ٹرانسفر کے لیے ایک بل کا مسودہ بن چکا ہے جس کو آخری شکل دی جا رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||