BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 26 March, 2005, 12:19 GMT 17:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بانڈز کی نیلامی، بولیاں مسترد

اسٹیٹ بینک
حکومت ہر سال سرمایہ کاری بانڈز کا اجراء کرتی ہے
اسٹیٹ بینک نے آج پاکستان سرمایہ کاری بانڈز کی نیلامی کے سلسلے میں بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کی بولیوں کو شرحِ سود زیادہ ہونے کی بنیاد پر مسترد کردیا ہے۔

حکومت پاکستان اسٹیٹ بینک کے ذریعہ سال میں دو سے تین مرتبہ سرمایہ کاری بانڈز کا اجراء کرتی ہے تاکہ بجٹ پر عملدرآمد کے لیے طویل المدت شرحِ سود پر قرضہ حاصل کیا جاسکے۔

مگر آج ان بانڈز کی نیلامی کے جواب میں موصول ہونے والی بولیوں کو اسٹیٹ بینک نے زیادہ شرحِ سود کی بولیاں کہہ کر مسترد کر دیا ہے۔

انویسٹ کیپیٹل ایکویٹیز کے تجزیہ نگار خالد اقبال کے مطابق 2005 کی پہلی سہ ماہی کی اس نیلامی میں بینکوں نے کوئی خاص دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا جبکہ دوسری جانب خود حکومت کو بھی اس موقع پر فنڈز کی بہت زیادہ ضرورت نہیں تھی۔

آج سرمایہ کاری بانڈز کی فروخت کے ذریعے حکومت نے تقریباً تین بلین روپے کا ہدف حاصل کرنا تھا جو خالد اقبال کے مطابق کافی کم تھا۔ انہوں نے کہا کہ’حکومت کو فنڈز کی ضرورت نہیں تھی یہی وجہ ہے کہ تین بلین روپے کا مطلوبہ ہدف کافی کم تھا اور شاید اسی سبب بینکوں نے نیلامی میں بڑھ چڑھ کر حصہ نہیں لیا۔‘

ایک اور تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے آج سرمایہ کاری بانڈز کی تقریباً 8 اعشاریہ 5 فیصد شرحِ منافع کے ساتھ کی جانے والی بولیوں کو اس لئے مسترد کیا ہے کہ ان بانڈز پر شرحِ منافع بڑھنے کی صورت میں حکومت کو قومی بچت کی اسکیموں پر بھی شرحِ منافع میں اضافہ کرنا پڑتا جو حکومت کی خواہشات کے برعکس ہوتا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد