’اسلامی دنیا کو تنزلی سے بچناہوگا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی دنیا کو تنزلی سے بچنا ہوگا۔ یہ بات انہوں نے اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں منگل کو او آئی سی کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کے دوران کہی۔ تین روزہ اجلاس میں پچیس ممالک کے وزرائے خارجہ سمیت چھ سو سے زائد مندوبین شرکت کر رہے ہیں۔ اجلاس میں افغانستان، ایران کے جوہری پروگرام، عراق اور فلسطین کے مسائل پر بات ہوگی۔ صدر پرویز مشرف نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسلم امہ تاریخ کے نازک دور سے گزر رہی ہے کیونکہ اسلامی ملکوں کو نہ صرف بیرونی بلکہ اندرونی مسائل کا بھی سامنا ہے۔ ان کا موقف تھا کہ اسلامی ممالک کو تین اہم مسائل درپیش ہیں جن میں سیاسی تنازعات، سماجی اور اقتصادی بدحالی اور انتہاپسندی شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا: ’ہمیں لوگوں کو اسلام کی اصل روح سے شناس کرانا چاہیے، اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے۔ ہمیں چیلنجز کو مواقعوں میں تبدیل کرنا ہوگا‘۔ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے انہوں نے مسئلہ فلسطین کے حل پر بھی زور دیا جبکہ عراق میں پائیدار امن کے لیے ان کی تجویز تھی کہ اس ملک میں بیرونی مداخلت بند ہونی چاہیے۔ صدر کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن کی کثیر الجہتی حکمت عملی اختیار کرنا ہو گی۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے صدر مشرف نے کہا کہ دونوں ممالک اس معاملے پر متفق ہیں کہ کسی مسئلے کا فوجی حل ممکن نہیں اور یہ کہ ماضی کے مقابلے میں اب تعلقات بہت بہتر ہیں۔ اجلاس کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔ | اسی بارے میں او آئی سی: وزرائے خارجہ کا اجلاس14 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||