BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 14 May, 2007, 16:35 GMT 21:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
او آئی سی: وزرائے خارجہ کا اجلاس

اسلامی کانفرنس کی تنظیم او آئی سی
موتمر عالمِ اسلامی، مسلمان ملکوں کی تنظیم ہے جن کے وزرائے خارجہ کا اجلاس منگل کو سلام آْاد میں ہو رہا ہے
اسلامی ممالک کی وزرائے خارجہ کی تنظیم کا 34 واں تین روزہ اجلاس منگل سے اسلام آباد میں شروع ہو رہا ہے جس میں اسلامی ممالک کو درپیش سیاسی، معاشی، سماجی اور ثقافتی مسائل پر غور کیا جائے گا اور اس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔

دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے پیر کو یہاں ایک بریفنگ میں صحافیوں کو بتایا کہ کانفرنس میں 57 اسلامی ممالک کے وفود شریک ہوں گے جب کہ تنظیم کی سربراہی پاکستان کے پاس ہے اس لیے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری اس کی صدارت کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں مغربی دنیا میں مسلمانوں کے خلاف امتیاز اور عدم برداشت کی صورتحال اور اسلام کی بدنامی پر خصوصی طور پر غور کیا جائیگا اور تہذیبوں کے درمیان مذاکرات کی ضرورت پر بھی بات ہوگی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس مسلم امہ کو درپیش موجودہ اور نئے ابھرتے چیلنجز پر اسلامی سربراہی کانفرنس کو سمت فراہم کرنے میں مدد گار ثابت ہوگا۔

افغان مہاجرین کو ترغیبات
 افغان مہاجرین کو ان کے وطن واپس بھیجنے کے لیے انہیں سرحد پار ترغیبات فراہم کرنا ہوں گی تاکہ وہ واپس جاکر اپنی زندگی دوبارہ شروع کرسکیں

ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ افغان مہاجرین کی افغانستان واپسی کے لیے پاکستان، افغانستان اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین ایک حکمت عملی پر مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں جس کے تحت مہاجرین کی واپسی کا عمل 2009 تک مکمل کیا جائے گا۔

تاہم انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین کو ان کے وطن واپس بھیجنے کے لیے انہیں سرحد پار ترغیبات فراہم کرنا ہوں گی تاکہ وہ واپس جاکر اپنی زندگی دوبارہ شروع کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں پاکستان نے سب سے پہلے 50 لاکھ ڈالر کی امداد دی ہے۔ ایک دوسرے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین کوئی تنازعہ نہیں ہے اور پاکستان افغانستان میں مستقل امن کا قیام چاہتا ہے۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ امریکہ الزام لگاتا ہے کہ القاعدہ پاکستان میں کام کررہی ہے جبکہ پاکستان اس الزام کو مسترد کرتا رہا ہے۔ تو ترجمان نے کہا کہ پاکستان میں ان لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہے اور میں کبھی نہیں کہوں گی کہ پاکستان میں ایسا کچھ نہیں ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان میں کوئی امریکی فوجی کارروائی نہیں کررہے البتہ پاکستان اور امریکہ کے مابین دہشتگردی کے خلاف اشتراک عمل اور خفیہ معلومات کا تبادلہ ضرور ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حدود میں کوئی بھی فوجی کارروائی ہوگی تو وہ ہماری فوجیں ہی کریں گی یہ ہماری ذمہ داری ہے ہم کسی اور کو اسکی اجازت نہیں دیں گے۔

امریکہ کو ’پیشکش‘
’حزب اللہ کی مدد بند کرنے کی پیشکش کی‘
محمد خاتمی دہشگردی میں اضافہ
پالیسی تشدد کو فروغ دے رہی ہیں: خاتمی
حنیف قریشی فاشزم اور نسل پرستی
حنیف قریشی کا امریکہ میں انٹرویو
مشرق وسطیٰ بحران
لبنان اور اسرائیل تنازعے کا انجام کیا ہو گا
riceمشن مشرق وسطیٰ
مشرق وسطیٰ سے امریکہ کو کیا حاصل ہوگا؟
اسی بارے میں
مسلم ممالک کی اقتصادی یونین
05 November, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد