’اسملامی فاشزم بڑھتی جا ئے گی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی مصنف حنیف قریشی نے برطانیہ میں تارکین وطن مسلمانوں اور دیگر ایشیائیوں کے خلاف نسل پرستی، ان میں آنی والی تبدیلیوں اور بقول انکے ’اسلامی فاشزم‘ پر بات کی ہے۔ انہوں نے یہ بات بدھ کے روز امریکی نیشنل پبلک ریڈیو (این پی آر) پر ایک انٹرویو میں کی جو کہ بدھ کو نشر ہوا ہے۔ حنیف قریشی تقسیم ہند کے وقت بمبئی یا اب ممبئی سے ہجرت کر کے برطانیہ میں بسنے والے ایک مسلمان تارک وطن باپ کے بیٹے ہیں جنہوں نے ایک انگریز خاتون سے شادی کی تھی۔ حنیف قریشی کے لکھے ہوئے ناولوں اور فلموں میں لندن میں پاکستانی مسلمان تارکین وطن کی طرز زندگی اور برطانوی سماج میں ضم ہونے نہ ہونے جیسے مسائل کا ذکر اکثر پایا جاتا ہیں۔ اپنے انٹرویو میں حنیف قریشی نے کہا کہ وہ اپنا سکرین ڈرامہ ’مائی بیوٹیفل لانڈریٹ‘ لکھنے کے لیئے پہلی بار پاکستان گئے تھے اور انہوں نے وہ سکرین ڈرامہ وہیں لکھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ پہلا موقع تھا کہ وہ اس قوت یا طاقت سے واقف ہوئے جو اب ’اسلامی ریڈیکلزم‘ کہلاتی ہے- حنیف قریشی کی ایک اور فلم ’مائی سن دی فنیٹک‘ ہے جو ان کے ایک ناول پر سے بنی ہے لندن میں ایک پاکستانی تارک وطن ٹیکسی ڈرائیور کی کہانی جو خود تو کامیاب نہیں ہو سکا لیکن اپنے بیٹے کو کامیاب دیکھنا چاہتا ہے- باپ کی امیدوں کے برعکس فرید ایک مسلمان بنیاد پرست بن جاتا ہے۔ حنیف قریشی کی اس فلم کی گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کو امریکہ پر دہشتگردانہ حملوں سے بہت دن پہلے برطانیہ اورامریکہ میں نمائش ہوئی تھی۔ بنیادی طور پر حنیف قریشی نے ’مائی سن دی فینیٹک‘ مصنف سلمان رشدی کے خلاف ایران کے آیت اللہ خمینی کی فتوی اور اس کے حق میں پر تشدد ردعمل کے پس منظر میں لکھی تھی۔ انہوں نے اس سوال کہ انہوں نے سلمان رشدی کے خلاف فتوے پر تب کیا سوچا تھا اور اب انکے خیالات کیا ہیں تو انہوں نے اپنے جواب میں کہا ’میرے خیال میں رشدی کے خلاف فتوی ایک اہم واقعہ تھا- اور اسی فتوی کے بعد ہی مسلمان طاقتور ہوئے۔ میری کچھ مسلمانوں سے بات ہوئی انہوں نے کہا اگرچہ وہ رشدی کو قتل کرنے میں تو ناکام ہو گۓ ہیں لیکن خود کو منظم اور طاقتور کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔‘ حنیف قریشی نے برطانیہ کے مسلمانوں کے حوالے سے کہا ’میرے خیال میں برطانیہ زیادہ سے زیادہ مذہبی اور زیادہ سے زیادہ اسلامی بن جائے گا۔ یہ لوگ (اسلامی بنیاد پرست) ناقابل یقین حد تک طاقتور بن گۓ ہیں- آپ انکا جتنا زیادہ صفایا کرنے کی کوشش کریں گے وہ زیادہ طاقتور ہوجائيں گے۔ یہ ایک بہت ہی خطرناک قسم کی فاشزم ہے۔ میرے خیال میں یہ ہماری لبرل اقدار پر حملہ کرتے ہیں اور اس عمل کے دوران انہیں جتنے زیادہ شہری حقوق دیئے جائيں گے اس سے اسلامی فاشزم اور زیادہ مظبوط ہوگی۔‘ اس سوال کہ برطانیہ میں اپنے بچپن میں انہوں نے بھی بمبئي کے ایک مسلمان تارک وطن کے بیٹے ہونے کی بنیاد پر خود کو الگ تھلگ محسوس کیا تھا تو انہوں نے کہا ’ہاں‘۔ برطانیہ میں بجپن میں وہ زبردست نسلی منافرت کا شکار ہوئے - یہ انیس سو ساٹھ اور سرد جنگ کا زمانہ تھا۔ گلیوں میں میرا پیچھا کیا گیا اور مجھ پر ’پاکیز! اپنے ملک واپس جائو‘ جیسے جملے کیے گۓ اور میرے منہ پر تھوکا گیا۔ برطانیہ میں بڑے پیمانے پر پاکستانی کمیونٹی ساٹھ اور ستر کی دہائی سےبھیانک قسم کی نسلی منافرت سے دوچار ہوئی تھی اور دوسرے ایشیائی لوگ بھی اس زمانے میں بڑی ہی پرتشد قسم کی نسل پرستی سے گزرے ہیں اور یہ کوئي تعجب خيز بات نہیں کہ ان کمیونٹیوں کے لیئے خود کو برطانوی سماج میں ضم کرنا بہت مشکل ہے۔ انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہ وہ ایک نسل پرستانہ ماحول والے بچپن کا اپنے بیٹوں کے ماحول سے کیسے موازنہ کریں گے تو انہوں نے کہا ’میں جس زمانے میں بڑا ہورہا تھا وہ مختلف لندن تھا اور میرے بیٹے اور میں جس لندن میں اب رہتے ہیں وہ کثیر الثقافتی (ملٹی کلچرل) ہے جہاں کوئی ہمارے منہ پر نہیں تھوکتا، گالیاں نہیں بکتا، پاکیز کہہ کر ہم پر نہیں چِلاتا اور نہ ہی روزگار میں ہم سے امتیاز برتا جاتا ہے۔ اگرچہ میرے بچوں کے مسلمان نام ہیں لیکن وہ اس نسل پرستانہ ماحول میں بڑے نہیں ہوئے جس میں میں رہ رہا تھا۔‘ |
اسی بارے میں مسلمان کس بات پر ہنستے ہیں؟29 September, 2005 | فن فنکار برطانوی مسلمان بمبارفلم کےپردے پر 14 August, 2005 | فن فنکار مرایا کیری سے مسلمان ’پریشان‘17 January, 2004 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||