| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مرایا کیری سے مسلمان ’پریشان‘
ملائشیا کی اسلامی حزبِ اختلاف نے کہا ہے کہ گلوکارہ مرایا کیری کو ملک میں کنسرٹ کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ پین ملیشین اسلامی پارٹی کے یوتھ ونگ کے سربراہ احمد سبکی یوسف نے حکومت کو لکھے گئے ایک خط میں کہا کہ گلوکارہ غیر اسلامی اصولوں کا پرچار کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’سب کو معلوم ہے کہ مرایا کیری اپنے آپ کو سیکسی، ناقابلِ قبول اور ناشائستہ طریقے سے پیش کرتی ہیں‘۔ کیری کو ملائشیا میں پرفارم کرنے کی سرکاری طور پر اجازت دی گئی ہے لیکن ساتھ ساتھ انہیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایسے کپڑے نہ پہنیں جس سے لوگوں کے جذبات مجروح ہوں۔ وہ 22 فروری کو کوالالمپور کے پچاس ہزار سیٹوں والے سٹیڈیم میں پرفارم کرنے والی ہیں۔ احمد سبکی نہیں کہا کہ وہ ملائشیا کے نوجوانوں کے لیے مناسب رول ماڈل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا: ’اس طرح کے کنسرٹ کو اجازت دینے سے ان اقدار کو بڑھاوا ملتا ہے جو ہمارے کلچر اور زندگی کا حصہ نہیں۔‘ ’ہم اپنے بچوں کے لیے غیر اخلاقی اقدار نہیں چاہتے، چاہے وہ مسلمان ہوں یا کوئی اور۔‘ یہ خط ثقافت، فنونِ لطیفہ اور سیاحت کی وزارت کو دے دیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مرایا کیری نے حکومت کو اس بات کی یقین دہانی دلائی ہے کہ وہ لباس کے ضوابط کا خیال رکھیں گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||