 | | | خیال کیا جاتا ہے کہ ایران حزب اللہ کی مدد کرتا ہے |
بی بی سی کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سن 2003 میں عراق پر امریکی حملوں کے وقت ایران نے لبنانی شدت پسند گروہ حزب اللہ کو اپنی عسکری حمایت اور فلسطینی تنظیم حماس کو اپنی مدد بند کرنے کی امریکہ کو پیشکش کی تھی۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران نے عراق کی صورتحال میں استحکام پیدا کرنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کی پیشکش کی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ وہ اپنے نیوکلیئر پروگرام کو دنیا کے سامنے کھولنے کے لیے تیار ہے۔ بی بی سی ٹیلی ویژن کے پروگرام ’نیوز نائٹ‘ کی اس تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی بی سی کو ایک خط دستیاب ہوا ہے جس میں ایران نے اپنی پیشکش کے بدلے میں امریکہ سے دشمنی اور اقتصادی پابندیاں ختم کرنے اور ایرانی باغی گروپ مجاہدین الخلق کو تحلیل کرنے کی اپیل کی تھی۔ امریکی وزارت خارجہ کے ایک سابق اہلکار لارنس وِلکرسن نے ’نیوز نائٹ‘ کو بتایا کہ ایران کی اس پیشکش کو امریکی نائب صدر ڈِک چینی کے دفتر نے ٹھکرا دیا۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ کالن پاول ایران کی پیشکش پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہتے تھے۔ وِلکرسن نے بتایا کہ یہ ایک موقع تھا جب وزیر خارجہ اور ان کے نائب اس پیشکش پر غور کرنا چاہتے تھے لیکن جیسے ہی یہ پیشکش نائب صدر کے دفتر پہنچی تو جواب آیا: ’ہم شیطان سے بات نہیں کرتے۔‘ وِلکرسن کا کہنا تھا کہ انہیں لگا کہ امریکی انتظامیہ ایک بڑی غلطی کررہی ہے۔ امریکی صدر جارج بش نے گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد ایران کو ’بدی کے محور‘ کا حصہ قرار دیا تھا۔ سن 1979 کے ایران کے اسلامی انقلاب کے وقت سے امریکہ اور ایران کے تعلقات ٹھیک نہیں رہے ہیں۔
|