ایران کے لیے نیا مسودۂ قرارداد تیار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی ایرانی جوہری پروگرام کے خلاف مجوزہ قرارداد کے لیے نیا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے۔ یہ مسودہ ایران کے ساتھ ماضی میں مذاکرات کرنے والے تین ممالک فرانس جرمنی اور برطانیہ نے تیار کیا ہے۔ نئے مسودۂ قرارداد ان تمام اشیاء کی فہرست شامل کی گئی ہے جنہیں ایران پر ممکنہ پابندیوں کی صورت میں ایران سے برآمد یا درآمد کرنے کی ممانعت ہو گی۔ اس کے علاوہ پہلی قرارداد کی طرح اب بھی جوہری پروگرام ترک نہ کرنے کی صورت میں ایران کے خلاف سخت اقدامات کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ تاہم ان اقدامات کی تفصیل مسودے میں نہیں بتائی گئی۔ مئی میں بھی ایران کے خلاف ایسی ہی ایک قرارداد اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں پیش کی گئی تھی جسے روس اور چین نے بہت سخت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔ نئے مسودے میں ایران کے ساتھ ایسے مواد یا آلات کی تجارت پر پابندی برقرار ہے جن سے ایران کے جوہری یا میزائیل پروگرام کو فروغ ملے۔ تاہم اس دفعہ ممنوعہ مواد یا آلات کی فہرست خاصی تفصیل کے ساتھ تیار کی گئی ہے اور ہر چیز کا نام واضح طور پر شامل کیا گیا ہے۔ روس کے مسلسل اعتراض کے باوجود نئے مسودے سے ان افراد، کمپنیوں یا تنظیموں کے سفر پر پابندی اور اساسوں کو منجمند کرنے کی دھمکی کو نکالا نہیں گیا جن پر ایرانی نیوکلیئر پروگرام میں شمولیت کا شبہ ہو گا۔ یورپی سفارتکاروں کو توقع ہے کہ وہ نئے مسودے پر مشتمل قرارداد کو کرسمس تک سکیورٹی کونسل میں پیش کر دیں گے۔ | اسی بارے میں ایران کے مسئلے پر بات چیت ناکام06 December, 2006 | آس پاس ایران عالمی معائنہ کاری پر رضامند24 November, 2006 | آس پاس ایران قرارداد: روس، چین کی مخالفت06 May, 2006 | آس پاس ایران پر سخت قرار داد کی دھمکی02 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||