ایران کے مسئلے پر بات چیت ناکام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی اس قرارداد پر کہ ایران کو اس کے جوہری پروگرام پر سزا دی جائے، چھ ملکوں کی بات چیت کسی فیصلے پر پہنچنے میں ناکام رہی ہے۔ وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس مسئلے پر ’کافی حد تک پیش رفت‘ ہوئی ہے لیکن ابھی تک’ کئی مسائل ایسے ہیں جن کا حل باقی ہے‘۔ ایران کے جوہری مسئلے پر بات چیت کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ملکوں کے سفارت کاروں کے علاوہ جرمنی کے سفارت کار بھی موجود تھے۔ کونسل نے اس وقت ایران پر پابندیاں لگانے کی سفارشات پیش کیں تھیں جب ایران نے یورینیم کی افزودگی کو ترک کرنے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن پر عمل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ سلامتی کونسل کی بات چیت شروع ہونے سے قبل امریکی سفارت کار نے کہا تھا کہ وہ اس مسئلے پر کسی قسم کی واضح کامیابی کی توقع نہیں کر رہے ہیں۔ سلامتی کونسل کے سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ اب وہ اس مسئلے پر بات چیت نیویارک میں اقوام متحدہ کے مرکزی دفاتر میں کریں گے تاکہ اس سلسلے میں کوئی معاہدہ طے پا سکے۔ اس مسئلے میں امریکہ کی خواہش ہے کہ ایران پر پابندیاں لگائی جائیں جبکہ چین اور روس چاہتے ہیں کہ یورینیم کی افزودگی کو ترک کرانے کے لیے ایران سے مذید مزاکرات کیے جائیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے یورپی یونین کے ایک سفیر نے بتایا ہے کہ فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے روس سے کہا ہے کہ وہ تینوں چاہتے ہیں کہ ایران پر پابندیاں لگانے کی قرارداد اس سال کے آخر تک منظور کر لی جائے۔ برطانیہ، جرمنی اور فرانس نے ایران کے خلاف جو قرارداد منظوری کے لیے پیش کی ہے اس میں انہوں نے ایران کے ساتھ کسی بھی ایسی تجارت پر پابندی لگانے کی سفارش کی ہے جس سے اس کے جوہری پروگرام یا میزائیل بنانے کے عمل میں مدد ملتی ہو۔ اس کے ساتھ ان افراد کے سفر پر بھی پابندی کی سفارش کی جا رہی ہے جو کہ ایران کے جوہری اور میزائیل پروگرام سے منسلک ہیں۔ روس اور چین اس بات سے اختلاف کر رہے ہیں کیونکہ ا کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کے نتیجے میں مختلف افراد کو نشانہ بنایا جائے۔ اور اس کہ ساتھ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ پابندیاں صرف معینہ مدت کے لیے ہونی چاہیں۔ ایران کے صدر احمدی نژاد نے اس بات کی دھمکی دی ہے کہ وہ ان ملکوں کے ساتھ ، جو کہ ان پابندیوں کی حمایت کر رہے ہیں، اپنے تعلقات پر نظر ثانی کریں گے۔ | اسی بارے میں ایران سےشدید تشویش ہے: امریکہ 11 March, 2006 | آس پاس سلامتی کونسل کے اراکین کی تشویش12 April, 2006 | آس پاس جوہری ٹیکنالوجی کے حق کا دعویٰ11 October, 2006 | آس پاس ’اسرائیل کومنہ توڑ جواب دیں گے‘12 November, 2006 | آس پاس ’جوہری اسلحہ کی تیاری کا ثبوت نہیں‘21 November, 2006 | آس پاس ایران عالمی معائنہ کاری پر رضامند24 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||