ایران عالمی معائنہ کاری پر رضامند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے جوہری ادارے انٹرنیشنل اٹامِک انرجی ایجنسی کے سربراہ ڈاکٹر محمد البرادئی نے کہا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام سے متعلق آلات اور دستاویزات تک ادارے کے معائنہ کاروں کو مزید رسائی دینے پر رضامند ہوگیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک اہلکار نے اسے فروری کے بعد سے اب تک ایران کی کی جانے سے کی جانے والی سب سے نمایاں پیش رفت قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر البرادئی نے ایران کے اس فیصلے کو مثبت سمت میں ایک قدم قرار دیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ تہران کو چاہیے کہ اس سلسلے میں وہ عالمی ادارے سے مزید تعاون کرے۔ آئی اے ای اے کے بورڈ نے ایران کی ایک درخواست پر فیصلہ غیرمعینہ مدت تک کے لیے مؤخر کر دیا تھا جس میں ایران نے طبی مقصد کے لیے ریئکٹر کی تعمیر میں مدد مانگی تھی۔ مغربی ممالک کو خدشہ ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے ذریعے ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ | اسی بارے میں ایران پر صدر بش کی شدید تنقید27 October, 2006 | آس پاس ’اسرائیل کومنہ توڑ جواب دیں گے‘12 November, 2006 | آس پاس جوہری ٹیکنالوجی کے حق کا دعویٰ11 October, 2006 | آس پاس ’جوہری اسلحہ کی تیاری کا ثبوت نہیں‘21 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||