’اسرائیل کومنہ توڑ جواب دیں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان محمد علی حسینی نے خبردار کیا ہے کہ اس کی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی حملے کی صورت میں تہران تباہ کن حملہ کرے گا۔ اسرائیلی نائب وزیر دفاع ایفریم سنیہ نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ آخری حل کے طور پر ایران کی جوہری تنصیبات پر فوجی حملہ کیا جا سکتا ہے۔ ایفریم سنیہ کے اس بیان کے جواب میں ایران نے یہ بیان جاری کیا ہے۔ محمد علی حسینی نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملے کی صورت میں بِنا کسی تاخیر کے ایرانی فوجی منہ توڑ جواب دیں گے۔ ایفریم سنیہ نے کہا تھا کہ وہ فوجی حملے کے حق میں نہیں ہے مگر یہ آخری حل ہےاور بعض اوقات صرف آخری حل پر عمل ہی مسئلے کا حل ہوتا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے ملک کی پالیسی واضح کرتے ہوئے دوبارہ اس بات پہ زور دیا ہے کہ ایران اگلے سال مارچ تک یورینیم کی افزودگی بڑھانے کے لیے مزید تین ہزار سینٹری فیوج مشینیں حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ ایران میں ابھی تک صرف دو سو مشینیں کام کر رہی ہیں۔ امریکہ سے نیوکلیئر معاملے پر براہ راست بات چیت میں ایران نے اب مصالحانہ رویہ اختیار کر لیا ہے۔ محمد علی حسینی نے دوبارہ یہ بھی کہا ہے کہ اگر بات چیت کے لیے امریکہ سرکاری طور پر تحریری درخواست دے تو تہران اس درخواست پر غور کرے گا۔ | اسی بارے میں ’تجاویز پر غور کیلیے تیار ہیں‘04 June, 2006 | صفحۂ اول روس کی تجویز اب زیرغور نہیں:ایران12 March, 2006 | صفحۂ اول جوہری معاہدے پر امریکہ میں تنقید03 March, 2006 | صفحۂ اول ’تحقیق ہر صورت جاری رہےگی‘20 February, 2006 | صفحۂ اول اقوام متحدہ سے تعاون ختم: ایران04 February, 2006 | صفحۂ اول ’تحقیق ہر صورت جاری رہےگی‘04 February, 2006 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||