BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 21 November, 2006, 14:06 GMT 19:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جوہری اسلحہ کی تیاری کا ثبوت نہیں‘
ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے
ایک امریکی جریدے کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسی سی آئے اے کو ایران میں جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے بارے میں کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا ہے۔

ایک تجربہ کار تحقیقات کار اور رپورٹر سیمور ہرش نے ’دی نیو یارکر‘ میگزین میں سی آئی اے کی ایک خفیہ رپورٹ کا حوالہ دیا ہے جوکہ سیٹلائیٹ سے لی گئی تصاویر اور دیگر معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی تھی۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مبینہ دستاویز میں واشنگٹن کے ان خیالات کو چیلنج کیا گیا ہے جن کے مطابق امریکی انتظامیہ کا خیال ہے کہ ایران جوہری اسلحہ بنانے کی نیت رکھتا ہے۔

جریدے میں کہا گیا ہے کہ سی آئی اے کی مذکورہ رپورٹ کے بارے میں وائٹ ہاؤس کا رویہ اسے نظر انداز کردینے والا تھا۔

امریکہ اور یورپ کا کہنا ہے کہ ایران ایک خفیہ جوہری پروگرام پر کام کررہا ہے جس کا مقصد جوہری ہتھیار تیار کرنا ہے۔ ایران اس الزام کی سختی سے تردید کرتا ہے۔

کچھ پتہ نہیں
 سی آئی اے کو اب تک کوئی ٹھوس ثبوت نہیں مل سکا ہے کہ ایران کسی خفیہ جوہری پروگرام پر کار بند ہے جو کہ اس کے پرامن جوہری پروگرام کے ساتھ ساتھ چل رہا ہو
سیمور ہرش

جریدے کے مطابق سی آئی اے کی رپورٹ میں کچھ اہلکاروں نے اپنے نام نہ ظاہر کرتے ہوئے یورپ اور امریکہ کے ان دعووں پر شک کا اظہار کیا ہے کہ ایران درحقیقت جوہری ہتھیار تیار کرنے کے قریب پہنچ چکا ہے۔

جریدے کے آرٹیکل میں ہرش لکھتے ہیں ’سی آئی اے کو اب تک کوئی ٹھوس ثبوت نہیں مل سکا ہے کہ ایران کسی خفیہ جوہری پروگرام پر کار بند ہے جو کہ اس کے پرامن جوہری پروگرام کے ساتھ ساتھ چل رہا ہو‘۔

آرٹیکل کے مطابق سی آئی اے نے اپنی رپورٹ تکنیکی معلومات کی بنیاد پر منتج کی ہے جن میں سیٹلائٹ امیج اور دیگر معلومات شامل ہے جوکہ امریکی اور اسرائیلی ایجنٹوں سے حاصل کی گئی ہے۔

جریدے میں کہا گیا ہے کہ ’ایجنسی کے ایک اعلٰی اہلکار نے سی آئی کے تجزیے کی تصدیق کی ہےاور مجھے یہ بھی بتایا ہے کہ وائٹ ہاؤس کا رویہ اس رپورٹ کے بارے میں غیر دوستانہ ہے‘۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان ڈانا پرینو نے آرٹیکل پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بش انتظامیہ کے بارے میں غلط اندازوں پر مبنی ہے۔ ’وائٹ ہاؤں ایسے شخص کے کام اور تجزیے کو تسلیم نہیں کرے گا جو ہمارے فوجیوں کی ہتک کرتا رہا ہو اور اس کی تحقیق جھوٹ پر مبنی ہو اور جس کا مقصد اس کے اپنے بنیاد پرست خیالات کا جواز پیش کرنا ہو‘۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار ایڈم براکس کا کہنا ہے کہ اگر ’دی نیویارکر‘ کا آرٹیکل درست ہے تو اس سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں کوئی نتیجہ اخذ کرنے کے حوالے سے سی آئی اے بش انتظامیہ کی نسبت زیادہ محتاط ہے۔

ضرورت کیا ہے؟
ایران کے جوہری پروگرام پر نئی بحث
اصفہان کا ایٹمی پلانٹایرانی پیش رفت
یورینیم کی افزدگی میں ایرانی پیش رفت
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد