BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فلسطین کے لیئے پاکستان کی امداد

وزیر خارجہ محمود الزھر
فلسطینی وزیر خارجہ نے امداد دینے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا
پاکستان نے فلسطین کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے ان کی حکومت کو تیس لاکھ ڈالر مالی امدد دینے کا اعلان کیا ہے۔

بدھ کے روز دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچنے والے فلسطین کے وزیر خارجہ محمود الزھر سے ملاقات کے بعد ان کے میزبان ہم منصب خورشید محمود قصوری نے اس امداد کا اعلان کیا۔

فلسطینی وزیر خارجہ نے اپنی حکومت اور عوام کو درپیش مالی مشکلات کے بارے میں محمود قصوری کو تفصیلات بتائیں اور بعد میں تیس لاکھ ڈالر کی امداد پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے مشکل حالات میں ان کی بروقت مدد کی ہے ۔

پاکستان کے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستتان ابتدا سے ہی فلسطینی ریاست کے قیام اور اسرائیل کے تمام مقبوضہ علاقے سے نکل جانے کا حامی ہے۔ تاہم انہوں نے فلسطینی وزیر پر زور دیا کہ وہ تعمیری انداز میں مشرق وسطیٰ کی امن بات چیت میں تمام فریقین کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھائے۔

خورشید محمد قصوری نے کہا پاکستان فلسطین کے متعلق اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور مارچ سن دو ہزار دو میں بیروت میں منعقد کردہ عرب لیگ کے اجلاس میں عبداللہ امن منصوبے کی بھی حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی حکومت اور عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی مدد کی ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔

مہمان وزیر کی سربراہی میں آنے والے وفد نے پاکستان کے وزیر خارجہ سے باضابطہ بات چیت کی اور تمام دوطرفہ، عالمی اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

واضح رہے کہ فلسطین میں سخت گیر موقف کی حامل جماعت حماس کے اقتدار میں آنے کے بعد جہاں اسرائیل نے ان کے فنڈز روک دیے ہیں وہاں ان کی زیادہ تر عالمی امداد بھی بند ہوگئی ہے اور حماس کی انتظامیہ کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے۔

پاکستان میں سخت گیر جماعت اسلامی نے ایسے حالات میں چند ہفتے قبل حماس کی حکومت کی مالی مدد کے لیے فنڈ اکٹھا کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن تاحال یہ معلوم نہیں کہ انہوں نے کتنا فنڈ جمع کیا۔

فلسطین میں حماس کے برسراقتدار آنے کے بعد اسرائیل نے فسلطینی علاقوں سے وصول ہونے والے ٹیکس میں سے حماس حکومت کو ادائیگی کرنے سے انکار کر دیا جبکہ امریکہ اور چند دوسرے یورپی ممالک نے ان کی مالی امداد بند کر دی ہے۔

امداد روکنے والے ممالک حماس پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کر لے تاہم حماس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد