BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 February, 2006, 17:47 GMT 22:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کارٹون: او آئی سی اقوام متحدہ جائیگی

شوکت عزیز
حزب اختلاف نے حکومت کو پر تشدد مظاہروں کا ذمہ دار ٹھہرایا
پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ کسی بھی مذہب کے خلاف توہین آمیز مواد کی اشاعت کے خلاف ضابطہ اخلاق مرتب کرنے کے لیے اسلامی ممالک کی تنظیم نے اقوام متحدہ میں قرار داد پیش کرنے کے بارے میں پاکستان کی تجویز مان لی ہے۔

یہ بیان انہوں نے بدھ کو اس وقت دیا جب ایوان میں حزب اختلاف نے پیغمبر اسلام کے متعلق توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں پانچ افراد کی ہلاکت کے بارے میں سخت احتجاج کیا اور سپیکر کو کارروائی روکنا پڑی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت پاکستان انسانی حقوق کی عالمی تنظیم، او آئی سی اور یورپی یونین سے بات کر کے اقوام متحدہ میں ایک قرارداد پیش کرے گی۔ ان کے مطابق اقوام متحدہ سے ایک ایسی قرار داد منظور کرائی جائے گی جس کے تحت کسی بھی مذہب کی توہین کے بارے میں مواد شائع کرنے خلاف ایک جامع ضابطہ اخلاق نافذ کیا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ ایک ایسا نظام وضح کرے گی جس کے تحت خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ان کے ’فریم ورک‘ کے تحت سخت کارروائی ہوسکے گی۔

انہوں نے حزب اختلاف کی جانب سے حالیہ پرتشدد واقعات روکنے میں حکومت پر ناکامی کے الزامات کو مسترد کیا اور انہیں دعوت دی کہ وہ پر تشدد مظاہرے روکنے میں حکومت سے تعاون کریں۔

بعد میں وزیراعظم نے ایک پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا اور جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ڈنمارک سے سفیر واپس بلانے پر غور کر رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ مختلف تجاویز کے بارے میں ’او آئی سی، کی سطح پر غور ہورہا ہے۔

قبل ازیں جیسے ہی اجلاس شروع ہوا تو حزب اختلاف نے پرتشدد مظاہرے روکنے میں ناکامی کا الزام حکومت پر عائد کیا اور سخت احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ معمول کی کارروائی روک کر پرتشدد مظاہروں کے بارے میں بحث کی جائے۔

جب سپیکر نے ایسا نہیں کیا تو حزب مخالف کے اراکین نے صدر جنرل پرویز مشرف اور حکومت کے خلاف ڈیسک بجا کر نعرے لگائے۔ شدید ہنگامے کی وجہ سے سپیکر کارروائی نہیں چلاسکے اور کچھ دیر کے لیے اجلاس ملتوی کردیا۔

احتجاجکارٹون تنازعہ، ایک نظر
اسلامی دنیا اور مغرب کے تعلقات میں کتنی نزاکت ہے۔
ایان ہرسی علیڈچ ایم پی کہتی ہیں
’کارٹون چھاپنا غلط فیصلہ نہیں تھا‘
افغانستان تا صومالیہ
افغانستان اور صومالیہ میں 6 افراد ہلاک
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد