مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان حکومت نے تیس جون کو ختم ہونے والے رواں مالی سال کا اقتصادی جائزہ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ شرح نمو سات فیصد رہی ہے۔ وزیراعظم کے ایک مشیر ڈاکٹر سلمان شاہ نے نیوز بریفنگ میں ’اکنامک سروے‘ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ مالی سال برائے سنہ دو ہزار چھ اور سات کے دوران ملک میں فی کس آمدنی نو سو پچیس ڈالر ریکارڈ کی گئی ہے۔ اقتصادی ترقی کی شرح سات فیصد رہنے کی اہم وجہ انہوں نے زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں میں ترقی بتائی جو باالترتیب پانچ، آٹھ اعشاریہ چار اور آٹھ فیصد ہے۔ گزشتہ مالی برس کی نسبت زراعت کی شرح نمو میں اضافہ جبکہ صنعت کی اقتصادی ترقی کی شرح میں کچھ کمی ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ رواں سال گندم کی ریکارڈ پیداوار دو کروڑ پینتیس ٹن رہی۔ اس سے ان کے مطابق دیہی علاقوں میں آمدن کی صورتحال بہتر ہوئی اور غربت میں بھی کافی حد تک کمی واقع ہوئی۔ حکومت کی جاری کردہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مالی سال سن دو ہزار ایک اور دو سے لے کر مالی سال دو ہزار پانچ اور چھ تک یعنی چار برسوں میں ایک کروڑ سے زائد روزگار کے موقع پیدا ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق خطِ غربت کی شرح میں دس فیصد کمی واقع ہوئی اور خطِ غربت سے نیچے کی زندگی بسر کرنے والوں کی شرح جو چونتیس اعشاریہ چھیالیس فیصد تھی وہ کم ہوکر چوبیس فیصد رہ گئی ہے۔ تعمیرات کے شعبے میں سترہ فیصد سے زائد جبکہ فنانس اور انشورنس کے شعبوں میں اٹھارہ فیصد سے زائد ترقی کی شرح ریکارڈ کی گئی۔ اقتصادی سروے میں بتایا گیا ہے کہ مالیاتی خسارہ پونے چار سو ارب روپے کے قریب ہے جوکہ خام قومی پیداوار یعنی ’جی ڈی پی‘ کا چار اعشاریہ دو فیصد ہے۔
ڈاکٹر سلمان شاہ نے بتایا کہ افراط زر کی شرح جو منگاہی کا سبب بنتی ہے، وہ تقریبا آٹھ فیصد رہی جوکہ حکومتی حدف یعنی ساڑھے چھ فیصد سے زیادہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ بیرونی قرضہ جات میں گزشتہ برس کی نسبت ایک ارب ساٹھ کروڑ ڈالر اضافہ ہوا ہے اور مارچ سنہ دو ہزار سات میں مجموعی بیرونی قرضہ جات پونے انتالیس ارب ڈالر سے بھی زائد رہے۔ اگر پاکستان کی سولہ کروڑ آبادی مانی جائے تو ہر شخص دو سو تینتالیس ڈالر یا چودہ ہزار چھ سو روپے کا مقروض ہے۔ حکومت نے بتایا ہے کہ ملک میں سوا دو لاکھ سے زائد تعلیمی اداروں میں تین کروڑ تینتیس لاکھ طلباء کے لیے ساڑھے تیرہ لاکھ تدریسی عملہ مقرر ہے۔ یعنی چوبیس طلبا کے لیے ایک استاد موجود ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں بارہ سو چون افراد کے لیے ایک ڈاکٹر، بیس ہزار آٹھ سو انتالیس افراد کے لیے ایک دندان ساز، چھبیس سو اکہتر افراد کے لیے ایک نرس اور پندرہ سو افراد کے لیے ہسپتال کا ایک بستر دستیاب ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے تیل اور گیس کی یومیہ پیداوار میں کچھ اضافہ ہوا ہے لیکن بجلی کی پیداوار میں گزشتہ برس کی نسبت کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ قدرتی گیس پر پاکستان میں چلنے والی کل گاڑیوں کی تعداد ساڑھے تیرہ لاکھ بتائی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہر ماہ انتیس ہزار گاڑیاں پیٹرول اور ڈیزل سے قدرتی گیس پر منتقل ہورہی ہیں جس سے پاکستان ایشیا کا قدرتی گیس پر چلنے والی گاڑیوں کے اعتبار سے بڑا ملک بن گیا ہے اور دنیا میں اس اعتبار سے ارجنٹینا اور برازیل کے بعد تیسرے نمبر پر ہے۔ |
اسی بارے میں ’23 برس میں غربت اور ناخواندگی ختم‘01 June, 2007 | پاکستان 40 فیصدغریب جنوبی ایشیا میں25 May, 2007 | پاکستان گندم کی برآمدگی فوری طور پرمعطل 23 May, 2007 | پاکستان سونےکی درآمد میں کمی01 May, 2007 | پاکستان لوڈ شیڈنگ سے پریشان زمیندار19 April, 2007 | پاکستان شرح نمومیں اضافے سےمہنگائی 18 April, 2007 | پاکستان ’پاکستان میں غربت کم ہو گئی‘30 March, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||