BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 May, 2006, 22:47 GMT 03:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشاور میں دو روزہ ترقیاتی فورم

اس فورم میں کئی ممالک کے سفیر اور عالمی امدادی تنظیموں نے نمائندے شرکت کر رہے ہیں
صوبہ سرحد میں دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی حکومت نے جب اقتدار سنبھالا تو دنیا خصوصاً مغربی ممالک کو تنظیموں کو خدشہ تھا کہ اس کے ساتھ روابط استوار کرنا شاید مشکل ہو، لیکن ایسا ہرگز نہیں ہوا۔

کچھ خدشات تو تین سال کے تعاون سے دور ہوگئے جبکہ باقی رہا سہا خوف صوبائی دارالحکومت پشاور میں دو روزہ ترقیاتی فورم کے انعقاد سے دور ہو جانا چاہیے۔ اس اجتماع میں ایم ایم اے کی صوبائی حکومت دنیا کو باور کرانے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ باہر کی دنیا چاہے وہ مغربی ہی کیوں نہ ہو کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کو تیار اور ان کی امداد اس کے لیئے قابل قبول ہے۔

اس پہلے دو روزہ بین الاقوامی ترقیاتی فورم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صوبائی حکومت ترقیاتی منصوبوں کے لیئے اپنی ضروریات سے امداد دینے والے ممالک اور تنظیموں کو آگاہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

پشاور کے ایک مقامی ہوٹل میں شروع ہونے والے اس فورم میں کئی ممالک کے سفیر اور عالمی امدادی تنظیموں نے نمائندے شرکت کر رہے ہیں، تاہم اسلامی ممالک کے نمائندے کم ہی دیکھائی دیے۔

فورم کی افتتاحی تقریب میں سٹیج پر وزیر اعلیٰ کے برابر صوبائی وزیر تعلیم اور وزیر صحت کے بیٹھنے سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ صوبائی حکومت کی ترجیحات یہی دو شعبے ہیں اور وہ انہیں دو کے لیئے امداد کی خواہاں ہے۔

وزیر اعلی اکرم خان دورانی نے شرکاء سے تفصیلی ڈیڑھ گھنٹے کے صبر آزما خطاب میں اپنی تین سالہ کارکردگی کے اہم نقاط سامنے رکھے۔ اردو زبان میں کی جانے والی تقریر کا انگریزی ترجمہ شرکاء کی آسانی کے لیئے تقسیم کیا گیا۔

ان کی تقریر کا خلاصہ یہی تھا کہ ان کی حکومت دیگر صوبوں کے برعکس زیادہ اہل اور موثر رہی ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں تعلیمی اور صحت کے شعبوں میں اصلاحات کا خصوصی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بنیاد پر کسی بھی دوسری صوبائی حکومت سے مقابلے کے لیئے تیار ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت نے شفاف حکمرانی کی ہے اور کوئی بدعنوانی کا واقعہ سامنے نہیں آیا ہے۔

سینئر صوبائی وزیر سراج الحق نے اس موقع پر شرکاء کو بتایا کہ صوبے میں امن و امان کی بہتر صورتحال، سیاسی استحکام، قدرتی وسائل کی فراوانی اور سستے مزدور اس علاقے کو سرمایہ کاری کے لیئے مناسب بناتے ہیں۔

اگرچہ کئی مقامات پر شرکاء کو سوال جواب کے ذریعے اپنی رائے کے اظہار کا موقع تھا تاہم تمام تقاریر اور پریزینٹیشنز صوبائی حکومت کے اہلکاروں نے ہی کی۔

بعد میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے، برطانیہ کے بین الاقوامی ترقی کی وزارت ڈی ایف آئی ڈی کے ایک اہلکار ٹم ہیٹن کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایم ایم اے کی حکومت کو انتہائی تعاون پر تیار پایا۔

’مجھے خوشی ہے یہ کہتے ہوئے کہ ہمارے ایم ایم اے حکومت کے ساتھ مضبوط روابط ہیں۔ ہمارے پالیسی کے کئی معاملات پر بات چیت کا ایک باقاعدہ سلسلہ ہے۔ ہم نے جو بیانات ابھی ڈونرز کے سنے ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان سب کا مضبوط تعلق ہے صوبائی حکومت سے۔‘

کبھی ایک وقت تھا جب یہی مذہبی جماعتیں بین الاقوامی امدادی تنظیموں کو شک کی نگاہ سے دیکھتی تھیں۔ آج وہی جماعتیں ان کی میزبان دکھائی دیں کئی شرکاء کے مطابق یہ ایک اچھی اور مثبت تبدیلی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد