گندم کی برآمدگی فوری طور پرمعطل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں گندم کی قیمت میں اضافے کے بعد حکومت نے بدھ کو گندم کی برآمدگی فوری طور پر معطل کردی ہے۔ یہ فیصلہ وزیراعظم شوکت عزیز کی صدارت میں منعقد کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں تفصیلی جائزہ لینے کے بعد کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں رواں سال گندم کی ریکارڈ پیداوار کے باوجود بھی ملک کے اندر گندم کی قیمتوں میں اضافہ ناقابل قبول ہے۔ وفاقی وزارتِ خوراک کے ’ویٹ کمشنر‘ قادر بخش بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ رواں سال ساڑھے بائیس ملین ٹن گندم پیدا ہونے کا ہدف تھا لیکن تاحال ساڑھے تئیس ملین ٹن گندم کی پیداوار ریکارڈ ہوئی ہے اور اس میں اضافہ بھی متوقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہر سال چھ لاکھ ٹن کے قریب گندم/ آٹا افغانستان بھیجا جاتا ہے اور ساڑھے اکیس ملین ٹن کے قریب سالانہ پاکستان کی اپنی کھپت ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اور افغانستان کی ضروریات کے لیے بائیس ملین ٹن درکار ہوتے ہیں لیکن گزشتہ سال کی بچت اور رواں سال کی پیداور ملا کر کل چوبیس ملین ٹن گندم اس وقت پاکستان میں موجود ہے۔ قادر بخش بلوچ نے ایک سوال پر بتایا کہ رواں سال حکومت نے گندم کی سپورٹ پرائس یعنی امدادی قیمت سوا چار سو روپے فی چالیس کلوگرام مقرر کی تھی۔ ان کے مطابق حکومت نے کاشتکاروں کو مقررہ نرخ ملنے کو یقینی بنانے کے لیے چند ہفتے قبل پانچ لاکھ ٹن گندم برآمد کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں دو ملین ٹن گندم اضافی ہے لیکن ایک ملین ٹن کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ذخیرہ کرکے ایک ملین ٹن یعنی دس لاکھ ٹن گندم برآمد کی جاسکتی ہے۔ ان کے مطابق مقامی مارکیٹ میں گندم کی قیمتیں مستحکم ہونے کے بعد دوبارہ اجازت دی جائے گی۔ ویٹ کمشنر نے بتایا کہ برآمدگی کی اجازت کے بعد پاکستان کے بعض علاقوں میں گندم کی قیمت امدادی قیمت سے بھی زائد ہوگئی جس کی وجہ سے برآمدگی معطل کردی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گندم کی برآمدگی پر پابندی کی صوبہ سندھ کی حکومت نے بھی درخواست کی تھی۔ کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ ان کے صوبے سے گندم کے ذخائر کم پڑ سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ بندر گاہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تر گندم سندھ سے ہی برآمد ہوتی ہے کیونکہ پنجاب سے گندم کی ایکسپورٹ بھارت کے لیے تو موزوں ہے لیکن دیگر ممالک میں بھجوانے پر ٹرانسپورٹ کے اخراجات زائد آتے ہیں۔ حکام کے مطابق نجی شعبے کو جب چند ہفتے قبل حکومت نے پانچ لاکھ ٹن گندم برآمد کرنے کی اجازت دی تھی تو کچھ روز قبل تک پچیس ہزار ٹن گندم بھارت بھجوانے اور ڈیڑھ لاکھ ٹن ملائیشیا، ویتنام اور انڈونیشیا بھجوانے کا انتظام کیا جاسکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے اچانک گندم کی برآمدگی روکنے سے کئی سودے کھٹائی میں پڑ سکتے ہیں اور اس فیصلے پر جہاں تاجروں کو اعتراض ہوگا وہاں کاشتکار بھی خوش نہیں ہوں گے۔ | اسی بارے میں گندم کا بحران نئی شکل لے رہا ہے27 February, 2004 | پاکستان گندم درآمد کرنے کی منظوری19 May, 2004 | پاکستان گندم کی برآمد پر پابندی ختم27 December, 2006 | پاکستان آٹا ملز:ملک گیر احتجاج کا فیصلہ04 July, 2004 | پاکستان مزید آسٹریلوی گندم مسترد 07 March, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||