گندم کا بحران نئی شکل لے رہا ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ میں آٹے کے بحران سے نمٹنے کے لیے آسٹریلیا سے درآمد کی جانے والی گندم کے ذخائر کراچی کے ساحل پر بڑھتے جا رہے ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ مسائل میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ابھی دو جہازوں سے آنے والی اسی ہزار ٹن گندم میں ایک خاص قسم کی پھپھوند یعنی فنگس سے پیدا ہونے والی پریشانی ہی کم نہیں ہوئی تھی کہ آسٹریلیا سے ایک اور جہاز مزید پینتیس ہزار ٹن گندم لے کر کراچی کی پورٹ قاسم بندرگاہ پہنچ گیا۔ پاکستان کی وفاقی وزارتِ خوراک و زراعت کا کہنا ہے کہ پہلے دو بحری جہازوں سے پاکستان پہنچنے والی آسٹریلوی گندم میں نہ صرف ’گلوٹن ‘ کی سطح کم ہے بلکہ اس میں’ کرنال بنٹ‘ نامی فنگس بھی ہے جس کے وجہ سے پاکستان اس گندم کو قبول نہیں کر سکتا۔ آسٹریلوی گندم کے بارے میں یہ رپورٹ پی سی ایس آئی آر اور گرین کوالٹی ٹیسٹ لیبارٹری نے جاری کی ہے۔ رپورٹ میں ان زندہ کیڑوں کا ذکر بھی ہے جو گندم میں موجود ہیں۔ کراچی کی بندرگاہ پر پڑی ایک لاکھ پندرہ ہزار ٹن گندم کی از سرِ نو جانچ پڑتال کے لیے چار آسٹریلوی ماہرین کراچی پہنچ چکے ہیں۔ یہ گندم حکومتِ سندھ نے وفاقی حکومت کی اجازت سے، زرعی اجناس کی فراہمی کے ذمہ دار ادارے پاسکو کے ذریعے درآمد کی ہے۔
تیسرے بحری جہاز کے ذریعے پہنچنے والی گندم کے نمونے بھی تجزیے کے لیے بھیج دیے گئے ہیں اور سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس گندم کو لیبارٹری سے رپورٹ آنے کے بعد ہی قبول کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ گندم کو مسترد کیے جانے کی اطلاع کے بعد کراچی میں آٹے کی قیمت بارہ روپے سے بڑھ کر سترہ روپے فی کلو گرام ہو گئی ہے۔ سندھ کے محکمہ خوراک کا کہنا ہے کہ وہ ہنگامی طور پر پنجاب سے پچاس ہزار ٹن گندم حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||