BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 February, 2004, 12:38 GMT 17:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان میں آٹے کا تیرھواں مہینہ

پاکستان میں یہ آٹے کا تیرھواں مہینہ ہے
ساڑھے دس روپے کلو کے سرکاری نرخ کے مقابلے میں لاہور میں آٹا تیرہ سے چودہ روپے فی کلو گرام فروخت ہورہا ہے اور سندھ اور سرحد میں آٹے کی شدید قلت ہے۔ پاکستان میں یہ آٹے کا تیرھواں مہینہ ہے۔

سندھ میں گندم کی فصل مارچ کے پہلے ہفتے سے اور پنجاب میں اپریل میں کٹنا شروع ہوتی ہے۔ اس سے پہلے کا ایک مہینا آٹے کا تیرھواں مہینہ کہلاتا ہے جب اس کی اصل یا مصنوعی قلت سے عام لوگوں کے کھانے کی سب سے بڑی شے یا تو سرے سے غائب ہوجاتی ہے یا اس کے مہنگے دام ان کی برداشت سے باہر ہونے لگتے ہیں۔

سندھ اور سرحد میں شدید اور پنجاب میں ذرا کم لیکن پورے پاکستان میں لوگوں کو اس وقت آٹے کی کمی اور مہنگائی کا سامنا ہے۔ دکانوں پر قطاریں لگنی شروع ہوگئی ہیں اور لوگوں کے نانبائیوں سے جھگڑے ہورہے ہیں۔ فلور ملوں اور چکی ماکان کے خلاف کاروائیاں ہو رہی ہیں اور حکومت اعلانات کر رہی ہے کہ ملک میں گندم کی قلت نہیں ہے۔

پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے مشیر بلال اسلم صوفی کا کہنا ہے کہ بحران سندھ سے شروع ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ سندھ میں کاغذوں میں چھ لاکھ ٹن گندم پچھلے سال موجود تھی جو انیس سو ننانوے سے پڑی ہے اور پچھلی گرمیوں میں نئی فصل آنے پر صوبائی حکومت نے ڈھائی لاکھ ٹن گندم اور خرید لی جو ان کے خریداری کے چھ لاکھ ٹن کے ہدف سے کم تھی۔

اس سے بڑھ کر یہ کہ بلال اسلم صوفی کا کہنا ہے کہ سندھ میں محکمہ خوراک بہت بدعنوان ہے اور وہاں گندم کے چھ لاکھ کے ذخائر کاغذوں میں دکھاۓ جاتے ہیں وہ دراصل خراب اور خردبرد شدہ گندم ہے جو حقیقت میں موجود نہیں ہے اس لیے سندھ کا محکمہ خوراک آٹے کی ملوں کو بہانے بازی کرتے ہوۓ پوری مقدار میں گندم فراہم نہیں کرتا رہا۔

فلور ملز کے مشیر کا کہنا ہے کہ محکمہ خوراک کے پاس گندم کی اس کمی کی وجہ سے سندھ میں ایک آٹے کی مل کو روزانہ اسی سے سو بوری گندم پسائی کے لیے دی جاتی ہے جبکہ ایک مل کو چھ گھنٹے چلانے کے لیے پانچ سو سے چھ سو بوری گندم درکار ہے۔ اس لیے مل والے تین چار دن بعد ایک دن کے لیے مل چلاتے ہیں اور صوبہ میں آٹے کی شدید قلت ہے۔

فارمرز ایسوسی ایشن کے مطابق سرحد اور بلوچستان تو گندم میں خود کفیل نہیں ہیں اور ان کا انحصار روایتی طور پر پنجاب پر رہا ہے۔ سندھ میں اتنی گندم ہوتی ہے کہ وہاں کی ضرورت پوری ہوجاۓ۔ فلورملز ایسوسی ایشن کے مطابق روزانہ پنجاب سے تقریبا تین ہزار ٹن آٹا دوسرے صوبوں میں جاتا ہے۔

سندھ اور سرحدمیں آٹےکی قلت سے پنجاب بھی دباؤ میں آگیا ہے اور بیس کلو آٹے کا تھیلا جو سرکاری طور پر دو سو دس روپے کا ہے وہ اب دو سو چالیس اور اس سے بھی زیادہ میں فروخت ہورہا ہے۔

بلال اسلم کا کہنا ہے کہ پاکستان سے آٹا افغانستان بھی جاتا ہے لیکن وہ تو ہر سال جاتا ہے اور جانا بھی چاہیے لیکن اس سال وہاں پر یوکرین سے بھی آٹا آیا ہے اور برف باری زیادہ ہونے کی وجہ سے پاکستان سے آٹا کم مقدار میں وہاں گیا ہے۔ اس لیے جو آٹے کا بحران ہے وہ مقامی ہے۔

کسانوں اور زمینداروں کی غیر سرکاری تنظیم فارمرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیف کوآرڈینیٹر محمد ادریس ایک اور کہانی سناتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں ایک بڑا کمیشن مافیا موجود ہے یہ کسی حد تک اس کا کیا دھرا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کوئی چیز درآمد کی جاۓ تو اس میں سرکاری لوگوں کو خاصی کمیشن مل جاتی ہے۔ اس لیے گندم کے ذخائر کی کمی کی افواہیں پھیلائی گئیں۔ پہلے حکومت نے کہا کہ گندم کے ذخائر فاضل ہیں بعد میں بہت تاخیر سے گندم کی درآمد کا فیصلہ کیا گیا اور آسٹریلیا سے فنگس لگی گندم منگوا لی گئی جسے واپس بھجوانا پڑا۔

گندم کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ حکومت نے گزشتہ فصل پر گندم کے تخمینہ لگانے میں غلطی کی اور اس کا جو ہدف تھا کہ انیس ملین ٹن گندم پیدا ہوگی وہ غلط نکلا اور ساڑھے سولہ ملین ٹن (ایک کروڑ پینسٹھ لاکھ) گندم ملک میں پیدا ہوئی اور پنجاب میں حکومت کسانوں سے پینتیس لاکھ ٹن کے ہدف کے مقابلہ میں صرف ساڑھے چوبیس لاکھ ٹن گندم خریدسکی۔

اس لیے ملک میں گندم کی قلت کا اندازہ تو شروع دن سے تھا اس لیے اس کی درآمد کا انتظام بھی جلد ہبنا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا اور بہت تاخیر سے پہلے تین لاکھ ٹن اور پھر پانچ لاکھ ٹن گندم آسٹرلیا سے منگوانے کا انتظام کیا گیا۔

اس بار حکومت نے نجی شعبہ کو بھی کسانوں سے گندم خریدنے کی اجازت دی تھی اور پنجاب میں کاٹن جنرز اور چاولوں کے ملوں والوں نے بھی گندم خریدی جس کے لیے بینکوں نے انہیں پیسے فراہم کیے۔

فلور ملز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اس نے آٹے کی قلت دیکھتے ہوۓ حکومت پنجاب سے کہا تھا کہ وہ ستمبر کے وسط میں ملوں کو گندم کی فراہمی شروع کردے تاکہ آٹے کی قلت نہ ہو لیکن حکومت نے دس اکتوبر سے یہ فراہمی شروع کی۔

اب لاہور میں ایک فلور ملز والے کا کہنا ہے ہے کہ نجی شعبہ انہیں ساڑھے چار سو روپے فی من گندم فراہم کررہا ہے جبکہ حکومت انہیں تین سو چالیس روپے فی من کے حساب سےگندم فراہم کرتی ہے۔ فلور ملز والے دونوں گندموں کو ملا کر اٹا بناتے ہیں اس لیے آٹے کے نرخ مقررہ سرکاری نرخوں سے زیادہ تو ہونے ہیں۔

تاہم اس معاملہ کا ایک رخ اور بھی ہے۔ عام لوگ آٹے کے تھیلوں کے بجاۓ کھلا آٹا بھی خریدتے ہیں۔ فلور مل سے جو سرکاری نرخ پر آٹا آتا ہے اسے کھول کر ذرا مہنگا بیچا جاتا ہے جس پر حکومت کا کنٹرول نرم ہےکیونکہ پرچون والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ انتظامی طور پر انہیں قابو کرنا زیادہ مشکل ہے۔

تاہم چکی مالکان کے رہنما لیاقت علی ملک نے احتجاج کیا ہے کہ آٹا چکیوں پر چھاپے مارے جارہے ہیں اور مالکان کو ناجائز طور پر گرفتار کیا جارہا ہے۔

اس وقت پنجاب کی صوبائی حکومت ضلعی حکومتوں کو مورد الزام ٹھہرا رہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ آٹے کی قیمتیں قابو کرنا ان کا کام ہے۔ صوبائی سیکرٹری صنعت فیاض بشر نے کہا ہے کہ مارکٹ میں آٹا فراہم کرنے کے بجاۓ اسمگل کرنے والے فلور ملوں کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لانے کے علاوہ آٹے کی نقل و حمل پر دفعہ ایک سو چوالیس لگا دی جاۓ گی۔ آٹے کی مقامی سطح پر فروخت کے بارے میں غلط معلومات فراہم کرنے پر بہالپور کی پانچ فلور ملوں کا گندم کا کوٹہ بند کردیا گیا ہے۔

آج لاہور میں فلور ملوں نے جمعرات کی صبح سے لاہور میں پونے دو سو فییر پرائس شاپس کھولنے کا اعلان کیا ہے جہاں ہر وقت آٹا سرکاری نرخوں پر فراہم کیا جاۓ گا۔

قصہ مختصر پہلے تو گندم کی فصل تخمینہ سے کم ہوئی تو حکومت اسے چھپاتی رہی اور اس نے بروقت گندم درآمد کرنے کا فیصلہ نہیں کیا جسے قلت دور ہوجاتی۔ سندھ کے ذخائر میں چار لاکھ ٹن خراب گندم نے اس قلت کو شدید کردیا اور پنجاب کی فلورملز والوں نے فائدہ اٹھاتے ہوۓ مہنگا آٹا سندھ کو بیچنا شروع کردیا۔ تاہم کوئی بھی فریق اپنی ذمہ داری ماننے کے بجاۓ دوسرے پر انگلی اٹھاتا ہے۔

ان اقدامات سے صورتحال لاہور میں تھوڑی سی بہتر ہوجانے کا امکان ہے او مارچ کے پہلے ہفتہ میں سندھ میں گندم کی نئی فصل آنے پر دس پندرہ روز تک آٹے کا بحران ختم ہوسکتا ہے۔

ایک مہینے سے زیادہ سرحد اور سندھ کے عوام اور اب ایک دو ہفتوں سے پنجاب کے لوگ مہنگا آٹا خرید رہے ہیں۔ اس سارے عرصے میں جنھوں نے عوام کی تکلیف پر اربوں روپے بنانے تھے بنا لیے وہ فلور ملز والے ہوں، اسمگلر ہوں ، کمیشن مافیا ہو یا سیاستدان کہ ان میں سے بہت سوں نے آٹے کی ملیں لگا رکھی ہیں اور جنھوں نے نہیں لگائی وہ فلور مل والوں کے چندوں سے الیکشن لڑتے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد