| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
آٹے کا بحران
سکندر کوئلے کی کان میں میں مزدوری کرتا ہے اور سخت محنت و مشقت کے باوجود وہ آج پھر مایوس گھر لوٹے گا۔ ’تین روز سے سرکاری سطح پر فروخت ہونے والے سستے آٹے کی خریداری کے لیے کوششیں کر رہا ہوں لیکن اتنی بھیڑ میں میری عمر نہیں ہے کہ آٹے کے تھیلے کے لیے دھکے کھا سکوں‘۔ یہ الفاظ ہیں سکندر کے جو بھیڑ سے الگ کھڑا حسرت بھری نگاہوں سے آٹے کے تھیلوں کی فروخت دیکھ رہا ہے۔ ’میری پانچ بیٹیاں ہیں بیٹا نہیں ہے۔ کوئلے کی کان میں کبھی مزدوری ملتی ہے اور کبھی نہیں گھر کا خرچ کیسے چل رہا ہے خدا بہتر جانتا ہے۔ تین روز سے اس ٹرک کے پیچھے پیچھے گھوم رہا ہوں کہ کہیں کچھ راستہ ملے تو ایک سو بیاسی روپے کا یہ آٹے کا تھیلا میں بھی خریدوں‘۔ ’شہر میں بھاری نرخ پر آٹے کا تھیلا نہیں خرید کر سکتا کیونکہ دونوں مقامات پر قیمتوں میں پچاس روپے سے زیادہ کا فرق ہے جو لگ بھگ میری ایک روز کی مزدوری بنتی ہے‘۔ سکندر نے بتایا کہ وہ سبی کا رہنے والا ہے کوئٹہ مزدوری کے لیے آتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ کوئلے کی کان کے اندر اندھیرے سے اتنا خوف کبھی نہیں آیا جتنا سورج کی روشنی میں مختلف اشیاء کی قیمتیں معلوم کرنے کے بعد انکھوں کے سامنے چھا جانے والے اندھیرے سے آتا ہے۔ کوئٹہ میں ان دنوں آٹے کی قلت ہے جس وجہ سے آٹے کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا ہے۔ تین روز تک نان بائیوں نے ہڑتال کیے رکھی اور کہا کہ اب روٹی کی قیمت میں اضافہ کیا جائے۔ کوئٹہ میں ایک روٹی چار روپے میں فروخت ہوتی ہے۔ نانبائی قیمت مزید بڑھانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کوئٹہ کی ضلعی حکومت کا کہنا ہے کہ آٹے کی قلت کہیں نہیں ہے۔ آٹا وافر مقدار میں موجود ہے۔ صوبائی حکومت سے کوئٹہ کے لیے اضافی ساٹھ ہزار بوری منظور کرا لی گئی ہے جو کہ شہر میں فروخت ہو رہا ہے۔ آٹے کی قیمتیں بھی قابو میں ہیں۔ آٹے کی اس فروخت کا منظر خدا کسی کو نہ دکھائے۔ آٹا ایسے فروخت ہو رہا تھا جیسے بھیک تقسیم کی جا رہی ہو بڑے بوڑھے جوان خواتین بچے سب قطار میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کرتے رہے جبکہ زورآور لوگ بغیر قطار کے آٹے کے تھیلے لے جا رہے تھے۔ ایک سرکاری ملازم خداداد نے بتایا کہ اس کی تنخواہ ساڑھے تین ہزار روپے ہے۔ ’مشکل سے یہ تھیلا خریدا ہے۔ میرے آٹھ بچے ہیں، گھر کرائے کا ہے اور اس تنخواہ میں گزارہ بہت مشکل سے ہوتا ہے۔ حکومت یا تو مہنگائی پر قابو پانے کی کوشش کرے یا ملازمین کی تنخواہ بڑھائے۔ کوئی اور چارہ نہیں ہے‘۔ ایک نوجوان جو دسویں جماعت کا طالب علم ہے اور ساتھ ساتھ پکوڑے بیچنے کا کاروبار بھی کرتا ہے، وہ بھی قطار میں چار گھنٹے تک کھڑا رہا اور بعد میں مایوس واپس لوٹ گیا۔ اس نے بتایا کہ اس کے والد ریٹائر ہو چکے ہیں اور اب کام نہیں کر سکتے، باقی چھوٹے بھائی اور بہنیں ہیں اور اسے ہی کام کرنا پڑتا ہے‘۔ یہ مختصر کہانیاں ہیں مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی جنھیں ہم عام آدمی کہہ سکتے ہیں۔صدر پاکستان وزیر اغظم اور وزیر خزانہ یہ کہتے نہیں تھکتے کہ ملک کی معاشی حالت بہتر ہو رہی ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے سے کافی فائدہ ہوا ہے۔ ایک عام آدمی پوچھتا ہے کہ کہاں ہے وہ فائدہ ۔ ان کی زندگی تو روز بروز اجیرن ہوتی جا رہی ہے۔ ان لوگوں سے میں نے غلطی سے یہ سوال بھی کر لیا کہ عید آرہی ہے کیا تیاریاں کر رہے ہیں؟ بوڑھے سکندر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور کہنے لگا ’یہاں دو وقت کی روٹی کی فکر ہے آپ عیاشی کی باتیں کر رہے ہیں۔ بچوں کو کپڑوں اور جوتوں کے مطالبے پر ڈانٹ ڈپٹ سے خاموش کرا سکتا ہوں، پاپی پیٹ کو کس طرح چپ کراؤں گا‘۔ غم دوراں کے ہاتھوں بے نشاں ہونے سے ڈرتے ہیں ہمارے عہد کے بچے جواں ہونے سے ڈرتے ہیں |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||