BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 July, 2004, 17:36 GMT 22:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آٹا ملز:ملک گیر احتجاج کا فیصلہ
بلوچستان
بلوچستان میں اس سے پہلے بھی آٹے کا بحران پیدا ہو چکا ہے
گندم کی بین الصوبائی ترسیل پر پابندی کے خلاف آج ملک بھر کی آٹا ملز کے نمائندوں نے پندرہ جولائی سے ملک گیر احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انھوں نے وفاقی حکومت سے کہا ہے کہ گندم کی ترسیل پر پابندی اٹھائی جائے اور محکمہ خوراک کو بند کر دیا جائے۔

کوئٹہ پریس کلب میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین نیاز احمد نے کہا ہے کہ پنجاب نے گندم کی ترسیل پر پابندی لگا رکھی ہے جس سے باقی تین صوبوں میں ایک تو گندم کی قلت پیدا ہوئی ہے اور دوسرا آٹا ملوں کو شدید خسارے کا سامنا ہے۔

بلوچستان میں آٹا ملوں کی تنظیم کے چیئرمین عبدالواحد نے کہا ہے کہ آج پاکستان بھر کی فلور ملز ایسوسی ایشن کے نمائندوں کا اجلاس منعقد ہوا ہے جس میں صوبہ سرحد، سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے نمائندوں نے شرکت کی ہے اور یہ فیصلہ کیا ہے کہ اگر گندم کی بین الصوبائی ترسیل پر سے پابندی نہ اٹھائی گئی تو پندرہ جولائی سے ملک بھر کی ملیں بند کر دی جائیں گی۔

انھوں نے کہا ہے کہ اس میں صوبہ پنجاب کی ملیں بھی ان کا ساتھ دیں گی اور وہ دیگر صوبوں کو آٹے کی فراہمی روک دیں گے جس سے ملک میں آٹے اور گندم کی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔

ان سے پوچھا گیا کہ پنجاب نے بلوچستان کو گندم کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی تھی تو انھوں نے کہا ہے کہ ایک بوری گندم بھی فراہم نہیں کی گئی جبکہ بلوچستان کی حکومت نے بھی اس حوالے سے کسی قسم کے اقدامات نہیں کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت صرف تسلی دے رہی ہے لیکن عملاً بلوچستان کے پاس گندم نہیں ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد