اسلام آباد سے آٹا غائب ہو گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی میں آٹے کی شدید قلت پیدا ہوگئی ۔ اور اکثر لوگ چاول یا پھر تندور کی خمیری روٹی لے کر کھارہے ہیں۔ یکم فروری سے پانچ فروری عیدالاضحٰی کی چھٹیاں تھیں اس دوران ایک تو فلور ملز اور آٹے کی چکیوں کو گندم کی فراہمی میں کمی ہوئی اور پھر ملز بھی بند رہیں جس کی وجہ سے بحران پیدا ہوا ۔ حکومت بحران پر قابو پانے اور قلت ختم ہونے کے دعوٰی کررہی ہے جبکہ دوکاندار اور عوام بحران جاری رہنے آٹا مارکیٹ سے غائب ہونے اور مہنگے داموں فروخت ہونے کی شکایات کررہے ہیں ۔ وفاقی وزارت خوارک و زراعت میں متعلق شعبہ کے سربراہ گندم کمشنر قادر بخش بلوچ سے جب پوچھا گیا تو انہوں نے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی تو کیا کسی بھی جگہ آٹے کی قلت نہیں ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ انکو شکایات ملیں کہ مارکیٹ سے آٹا غائب ہے اور اگر کہیں دستیاب بھی ہے تو بارہ سے تیرہ روپے فی کلو فروخت ہورہا ہےاور افغانستان سمگل ہورہا ہے۔۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے علاوہ گذشتہ اتوار کو اٹک اور پشاور بھی گئے اور ہرجگہ آٹا بدستور موجود تھا البتہ بیشتر دوکانوں پر مقررہ ریٹ ساڑھے دس روپے فی کلو گرام پر دستیاب تھا جبکہ کہیں کہیں گیارہ اور بارہ روپے بھی بک رہاتھا۔ بلوچ نے مزید بتایا کہ عید سے دو دن قبل پنجاب کو اندم کی یومیہ فراہمی پندرہ ہزار ٹن سے بڑھا کر بیس ہزار ٹن گندم کی گئی۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کی دو درجن کے لگ بھگ فلور ملز چھٹیوں کی وجہ سے بند رہیں اور آٹے کی قلت پیدا ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ سندہ میں گندم کی فصل مارچ کی ابتدا میں مارکیٹ میں آئے گی اور حکومت نے گندم کا امدادی نرخ 350 فی چالیس کلو گرام مقرر کیا ہے اور خدشہ ہے کہ اپریل میں اّٹا فی چالیس کلو گرام 420 روپے سے بڑہ کر 470 روپے ہوجائے گا۔ اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس ٹو میں واقع ارم مارکیٹ کے بڑے دوکاندار عتیق نے بتایا کہ دو فروری کو عید کی شام انہوں نے جیسے ہی دوکان کھولی خریداروں کی بڑی تعداد آٹے کی خریداری کے لئے آ گئی ان کے پاس بیس کلو گرام کے تیس تھیلے تھے جو ہاتھوں ہاتھ بک گئے۔ اس کے بعد آٹھ فروری تک آٹے کی فراہمی بندرہی۔ پیر نو فروری سے انہیں تیس تھیلے بیس کلو کے ملے جب کہ کھپت اورطلب دو سو تھیلے کی ہے۔
سٹور مالک نے بتایا کہ وہ وقار فلور ملز سے آٹا دو سو تین روپے میں بیس کلو گرام خریدتے ہیں اور دو سو دس روپے میں بیچتے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ والد صاحب نے منع کیا ہے ورنہ یہ کمانے کا اچھا موقعہ ہے لوگ دو سو تیس روپے فی تھیلا تک خریدنے کے لیے تیار ہیں۔ عتیق کا کہنا تھا کہ پشاور کی پارٹیاں بڑی تعداد میں اسلام آباد اور راولپنڈی کی فلور ملز سے دو تیس سے دو سو چالیس روپے تک فی بیس کلو گرام کا تھیلا خرید رہے ہیں اور مال افعانستان سمگل ہو رہا ہے۔ دوکاندار سے بات ہورہی تھی کہ ایک گاہک آیا اس نے آٹا مانگا تو دوکاندار نے کہا کہ ان پوچھیں۔ گاہک نے بتایا کہ وہ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن میں ملازم ہے عید کے دن سے انہوں نے آٹا نہیں دیکھا چاول اور ڈبل روٹی کھا کر تنگ آگئے ہیں ۔ غریب ہونے کی وجہ سے تندور کی خمیری روٹی بھی نہیں خرید نہیں سکتے اور یوں بھی خمیری کھانے کے عادی ی نہیں۔ عتیق کے مطابق عام آٹا چار سو بیس روپے فی چالیس کلو گرام جبکہ خمیری کے لیے میدہ چھ سو روپے فی چالیس کلوگرام ملتا ہے اس لئے عام آدی میدے والا آٹا نہیں ئرید سکتا۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس والے بھی ان سے آٹا لیتے ہیں اور ایک ہفتے سے طلباء کو چاول کھلارہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||