BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 December, 2006, 17:05 GMT 22:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گندم کی برآمد پر پابندی ختم

گندم
گندم ملکی ضرورت سے پندرہ لاکھ ٹن زیادہ ہے
حکومت پاکستان نے گندم کے ذخائر ملکی ضرورت سے زیادہ ہونے پر اس کی برآمد پر اڑھائی سال سے لگی پابندی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

گندم کی برآمد پر سے پابندی اٹھانے کا فیصلہ وزیراعظم شوکت عزیز کی صدارت میں کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے بدھ کو ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔

اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کے بارے میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اعظم کے مشیر برائے اقتصادی امور ڈاکٹر اشفاق حسن خان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس سال ملکی ضرورت سے پندرہ لاکھ ٹن گندم زیادہ ہے، لیکن قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے حکومت نے نجی شعبے کے ذریعے صرف پانچ لاکھ ٹن گندم برآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل پاکستان نے بنگلہ دیش کو کم قیمت پر پچاس ہزار ٹن گندم فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔

عارف جبیب کے کارخانے کا ذکر

اشفاق حسن خان نے بریفنگ میں بتایا کہ ساٹھ ارب روپے سے زائد لاگت سے نجی شعبے میں قائم ہونے والے کھاد کے کارخانے ’فاطمہ فرٹیلائیزر‘ کو حکومت نے گیس فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کارخانے کے لیے سرمایہ نیشنل بینک آف پاکستان سمیت گیارہ بینکوں پر مشتمل ایک کنسورشیم نے فراہم کیا ہے۔

وزیر اعظم کے اقتصادی امور کے مشیر سے جب پوچھا گیا کہ وزارت پیداوار نے تو قانونی تقاضے پورے نہ ہونے کے سبب کھاد کے اس کارخانے کو قدرتی گیس فراہم کرنے کی مخالفت کی تھی تو ان کا کہنا تھا کہ اب تمام قانونی شرائط پوری کی جا چکی ہیں۔

وزیر اعظم سے دوستی
 حکومت نے فاطمہ فرٹیلائیزر کو گیس فراہم کر کے بڑا فائدہ پہنچایا ہے، جس کے مالکان وزیر اعظم کے دوست عارف حبیب بھی شامل ہیں
خواجہ آصف

اس کارخانے کو جب گیس فراہم کرنے کی حکومت نے منظوری دی تھی تو اس پر حزب مخالف کے اراکین اسمبلی نے قومی اسمبلی کی متعلقہ قائمہ کمیٹی میں سخت اعتراضات اٹھائے تھے۔

اس قائمہ کمیٹی کے رکن خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ حکومت نے فاطمہ فرٹیلائیزر کو گیس فراہم کر کے بڑا فائدہ پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق اس کمپنی کے مالکان میں عارف حبیب بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج کے مبینہ مصنوعی بحران کے، جس میں چھوٹے سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے تھے، ذمہ داران میں عارف حبیب کا نام سرفہرست تھا۔

جبکہ ملک کے سب سے بڑے فولاد کے کارخانے ’پاکستان سٹیل ملز‘ کی جب نجکاری ہوئی تو اس کے خریداروں میں بھی عارف حبیب شامل تھے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے سٹیل ملز کی نجکاری مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سودے میں خریداروں کو اربوں روپے کافائدہ پہنچایا گیا ہے۔

عارف حبیب کا شمار پاکستان کے بڑے سرمایہ کاروں میں ہوتا ہے اور انہیں وزیراعظم شوکت عزیز کا قریبی دوست بھی سمجھا جاتا ہے۔

سیمنٹ کی صنعت کو سہولتیں

اشفاق حسن خان کا کہنا تھا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی مے اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں سیمنٹ کی پیداوار پونے دو کروڑ ٹن سے بڑھ کر پانچ کروڑ ٹن ہوچکی ہے۔ ان کے مطابق اس صنعت کی ضروریات پوری کرنے کی خاطر حکومت نے ڈمپر اور ٹرالرز پر عائد تیس فیصد کسٹم ڈیوٹی کم کرتے ہوئے صرف پانچ فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مہنگائی اور بے روزگاری میں کمی کا دعویٰ

اشفاق حسن خان نے پریس بریفنگ میں دعویٰ کیا کہ ملک میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں کمی ہو رہی ہے، جبکہ ملک میں اقتصادی ترقی کی وجہ سے بے روزگاری کی شرح بھی گزشتہ چند برسوں میں کافی کم ہوئی ہے۔

اسی بارے میں
برفباری میں کھاد کی تقسیم
29 November, 2005 | پاکستان
معاشی ترقی کا واہمہ
01 June, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد