BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 01 June, 2007, 00:53 GMT 05:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’23 برس میں غربت اور ناخواندگی ختم‘

پاکستان غربت فائل فوٹو
منصوبے میں پانی کو اس دور کے ایک بہت بڑے مسئلے کے طور پر پیش کیا گیا ہے
حکومتِ پاکستان نے کہا ہے کہ آئندہ تئیس برس کے دوران ملک سے غربت اور جہالت کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا جائے گا۔

یہ بات حکومت کے وژن دو ہزار تیس پروگرام میں کہی گئی ہے جس میں اس مدت کے لیےمعاشی اہداف کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اس تئیس سالہ منصوبے کی منظوری جمعرات کو وزیر اعظم کی زیر صدارت ہونے والے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں دی گئی۔

یہ کونسل اقتصادی امور پر فیصلہ کرنے والا ملک کا اعلی ترین ادارہ ہے جس میں چاروں صوبوں کے وزراء اعلی کے علاوہ ملک کے چنیدہ بیوروکریٹس بھی شرکت کرتے ہیں ۔

منصوبے میں درج تفصیلات کے مطابق آئندہ تئیس برس کے دوران ملک سے غربت کا مکمل طور پر خاتمہ کردیا جائے گا، پاکستان میں کوئی ان پڑھ نہیں ہوگا، فی کس آمدنی دس ہزار ڈالر سالانہ سے تجاوز کر جائے گی، آبادی میں اضافے کی شرح ایک فیصد تک گر جائے گی اور ملکی معیشت کا حجم سو کھرب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔

منصوبہ بندی کمیشن کے نائب سربراہ ڈاکٹر اکرم شیخ نےاخبار نویسوں کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ان اہداف کا حصول معیشت میں تیز رفتار ترقی، تربیت یافتہ افرادی قوت کی تیاری اور ٹیکنیکل تعلیم اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے ممکن بنایا جائے گا۔

پانی کو اس دور کے ایک بہت بڑے مسئلے کے طور پر پیش کرتے ہوئے تئیس سالہ منصوبے میں کہا گیا ہے کہ اس مدت کے دوران تمام ڈیمز مکمل کر لئے جائیں گے۔

منصوبے میں کہا گیا ہے کہ اس دوران ریاستی اداروں کو استحکام دیا جائے گا تاکہ ملک میں جمہوری کلچر مضبوط ہو سکے، انفراسٹرکچر اور دولت ہر فرد کی دسترس میں ہواور انصاف کا حصول ہر ایک کے لئے ممکن ہو۔

پاکستان میں غربت
’پاکستان میں کوئی ان پڑھ نہیں ہوگا‘

یہ سب ممکن بنانے کے لئے عدلیہ کی آزادی یقینی بنائی جائے گی اور ایسا قانونی ڈھانچہ ترتیب دیا جائے گا جس میں کسی فرد کے خلاف ہونے والے جرم کو ریاست کے خلاف جرم تصور کیا جائے گا۔

قومی اقتصادی کونسل کو بتایا گیا کہ انیس سو ننانوے کی فوجی بغاوت کے بعد سے ملکی معیشت نے مثالی رفتار سے ترقی کی ہے۔ اس دوران غیر ملکی سرمایہ کاری میں سولہ گنا، ملکی آمدن میں تقریباً تین گنا، قومی بچت میں پانچ گنا اور بیرون ملک سے آنے والی رقوم میں بھی پانچ گنا اضافہ ہوا ہے

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد