40 فیصدغریب جنوبی ایشیا میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’محبوب الحق ہیومن ڈیولپمینٹ سینٹر‘ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ دنیا کے چالیس فیصد غریب جنوبی ایشیا میں رہائش پذیر ہیں۔ سن دو ہزار چھ کی سالانہ رپورٹ جو جمعہ کو جاری کی گئی اس میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا کی آبادی دنیا کی کل آبادی کا بائیس فیصد ہے لیکن یہاں پر دنیا کے چالیس فیصد غریب بستے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں سن انیس سو نوے سے سنہ دو ہزار تک کے عشرے میں اقتصادی ترقی کی شرح مسلسل بڑھتی رہی لیکن اس کا غربت کی کمی پر خاطر خواہ اثر نہیں پڑا۔ رپورٹ کے اجراء کی تقریب سے وزیراعظم شوکت عزیز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غربت محض آمدنی کی کمی ہی نہیں بلکہ حقیقت میں زندگی کی ترقی کے مواقع میسر نہ ہونا ہے۔ انہوں نے پاکستان حکومت کی جانب سے غربت میں قابل ذکر حد تک کمی لانے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ حکومت نے عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے اربوں روپے خرچ کیے ہیں۔ محبوب الحق سینٹر کی سربراہ خدیجہ حق نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں جو غربت کی صورتحال ایک دہائی پہلے تھی آج بھی اس میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔
اس موقع پر جاری کردہ تقریبا دو سو صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا کے بیشتر ممالک میں تخفیفِ غربت کے جتنے بھی پروگرام حکومتی انتظام کے تحت چل رہے ہیں وہ غیر موثر ثابت ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حکومتی پروگرامز کی ناکامی کی اہم وجوہات کمزور انتظامی صلاحیت، بدعنوانی، نگرانی کا مناسب انتظام نہ ہونا، غیر ضروری اور پیچیدہ طریقہ کار سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں تقریبا پچاس کروڑ کے قریب آبادی ایک ڈالر یومیہ آمدن سے بھی کم پر زندگی بسر کر رہی ہے جبکہ تین چوتھائی آبادی کی آمدن دو ڈالر یومیہ سے بھی کم ہے۔ ستاسی کروڑ لوگ صفائی اور تیس کروڑ افراد کھانے جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا کی چالیس کروڑ بالغ آبادی پڑھنے لکھنے سے قاصر ہے اور اتنی بڑی تعداد میں ناخواندہ افراد اس خطے کو دنیا کا ایک بڑا ان پڑھ علاقہ شمار کرتی ہے۔ دنیا کی خواتین کی کل آبادی کا ایک چوتھائی جنوبی ایشیا میں رہتا ہے لیکن ان کا ’فیمیل لیبر فورس‘ میں حصہ محض پونے چودہ فیصد ہے۔ واضح رہے کہ محبوب الحق کا شمار ان چند پاکستانیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے انسانی ترقی جیسے موضوع پر کام کیا۔ انہوں نے اپنے نام سے منسوب یہ مرکز انیس سو پچانوے میں قائم کیا اور انیس سو ستانوے سے تاحال ہر سال ایک رپورٹ جاری کی جاتی ہے۔ |
اسی بارے میں امیر پاکستان اور غریب پاکستان29 November, 2006 | پاکستان ’غریب امدادی سامان سے محروم‘25 October, 2005 | پاکستان امیر سیاستدان، غریب جماعتیں08 November, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||