BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 30 March, 2007, 15:10 GMT 20:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستان میں غربت کم ہو گئی‘

 فائل فوٹو
’ملک میں غربت کی شرح کو دو ہزار پندرہ تک تیرہ فیصد تک لے جانے کا ہدف بڑا مشکل ہے‘
حکومت نے ایک رپورٹ میں پھر یہ دعوی کیا ہے کہ گزشتہ چار سالوں کے دوران غربت میں تقریبًا دس فیصد کمی ہوئی ہے۔

حکومت کے پلاننگ کمیشن اور غربت میں کمی پر تحقیق کرنے والے ایک ادارے کے اشتراک سے بنائی گئی ملینیم ڈولپمینٹ گولز رپورٹ جمعہ کو وزیراعظم کے دفتر سے جاری کی گئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں سن دو ہزار ایک میں غربت کی شرح انتالیس فیصد تھی جو حکومتی اقدام کی بدولت سن دو ہزار چار اور پانچ میں کم ہو کر اٹھائیس فیصد رہ گئی۔

غربت میں کمی کے جن چند اسباب کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سن دو ہزار چار اور پانچ کے دوران گندم کی اچھی فصل ہونے کو بھی اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

اسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سن دو ہزار ایک میں غریبوں کی تعداد انچاس ملین سے زیادہ تھی جو کم ہو کر چھتیس ملین ہو گئی ہے۔

حکومت پاکستان کی اس رپورٹ کو اقتصادی ماہرین نے رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ میں ان پرانے اعداد و شمار کو شامل کیا گیا ہے جن کو عالمی اقتصادی ادارے پہلے ہی رد کر چکے ہیں۔

گندم کی اچھی فصل کو غربت میں کمی کا ایک سبب بتایا گیا ہے

کراچی میں ترقیاتی امور کے ماہر نصیر میمن کا کہنا تھا کہ ورلڈ بینک کی دسمبر دو ہزار چھ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں غربت کی شرح انتیس فیصد سے آگے بڑہ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت مارچ دو ہزار چھ کے نیشنل اکنامک کونسل کے اجلاس میں غربت میں کمی کے دعوے کر رہی ہے۔ حکومت کی ان رپورٹوں کو عالمی اقتصادی ادارے اس لیے نہیں مانتے کیونکہ حکومتی تحقیق کے طریقہ کار واضح اور تحقیق کے عالمی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتے ہیں۔

حکومتی کمیشن کے ڈپٹی چئرمین اور مملکتی وزیر انجینئر ڈاکٹر اکرم شیخ نے کہا ہے کہ ملک میں غربت کی شرح کو دو ہزار پندرہ تک تیرہ فیصد تک لے جانے کا ہدف بڑا مشکل ہے کیونکہ آج بھی پاکستان کے ہر چار میں سے ایک فرد غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارتا ہے۔

ملینیم ڈولمپمنٹ گولز کی رپورٹ کے مطابق حکومت کا دوسرا بڑا ہدف پرائمری تعلیم کے عالمی معیار تک پہنچنا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دس سے اٹھارہ سال کی عمر کے بچوں کے سکول چھوڑنے کی شرح میں پانچ فیصد کمی آئی ہے۔

مذکورہ رپورٹ کے مطابق دو ہزار ایک میں سکول چھوڑنے والے بچوں کی تعداد پندرہ فیصد تھی (فائل فوٹو)

اس رپورٹ کے مطابق دو ہزار ایک میں سکول چھوڑنے والے بچوں کی تعداد پندرہ فیصد تھی جو دو ہزارپانچ میں کم ہو کر دس فیصد ہو گئی ہے۔

پرائمری سکول میں داخلہ لینے والے بچوں کی تعداد میں رپورٹ کےمطابق شہری آبادیوں میں سترہ فیصد جبکہ دیہاتوں میں بارہ فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ سکول چھوڑنے والے غریب بچوں کی تعداد کم غریب بچوں کی تعداد سے دوگنی ہوگئی ہے۔

رپورٹ میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ غریب بچے سکول میں معمول سے بھی کم کارکردگی دکھاتے ہیں اس لیے دوران تعلیم وہ سکول چھوڑ جاتے ہیں جبکہ عالمی ادارہ یونیسکو کی نومبر دو ہزار چھ میں جاری کی گئی’تعلیم سب کے لیے‘ نامی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کےچھ ملین سے زیادہ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ اس رپورٹ میں پاکستان کو نائجیریا کے بعد دوسرے نمبر پر رکھا گیا ہے جہاں کے چھ ملین میں سے اسی فیصد بچے کبھی سکول نہیں گئے۔

ورلڈ بینکعالمی بینک کا قرضہ
مقصد غربت مٹاؤ یا پاکستانی فوج پر نوازشات
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد