سٹیٹ بینک کی پہلی خاتون گورنر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان حکومت نے سنیچر کے روز ڈاکٹر شمشاد اختر کو تین سال کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان کا گورنر نامزد کردیا ہے۔ ملکی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی خاتون کو ملک کے مرکزی بینک کا گورنر مقرر کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر شمشاد اختر نے برطانیہ سے اقتصادیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور جامعہ ہارورڈ کی فُل برائٹ سکالر بھی ہیں۔ ڈاکٹر شمشاد اختر دس برس تک عالمی بینک میں رہنے کے بعد گزشتہ پندرہ برسوں سے ایشیائی ترقیاتی بینک سے وابستہ ہیں۔ حکام کے مطابق وہ ایشیائی بینک سے مستعفی ہوکر اپنی نئی ذمہ داری سنبھالیں گی۔ سٹیٹ بینک کی نئی نامزد کردہ خاتون گورنر کا تعلق صوبہ سندھ کے شہر نوابشاہ سے بتایا جاتا ہے اور ان کی مادری زبان سندھی ہے۔ ان کے والد ایم اے جی ایم اختر بطور وفاقی سیکریٹری برائے اقتصادی امور سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوئے تھے۔ ڈاکٹر اختر کو ڈاکٹر عشرت حسین کی جگہ سٹیٹ بینک کی گورنر مقرر کیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان05 October, 2005 | پاکستان پاکستانی فضائیہ میں خواتین دستہ10 May, 2005 | پاکستان ’عورتوں پر تشدد، باعثِ شرمندگی‘07 September, 2005 | پاکستان دیووال کی خواتین کا پہلا ووٹ19 August, 2005 | پاکستان ’میں نے ہمت نہیں ہاری‘ ثمینہ ناز06 June, 2005 | پاکستان خواتین رکنِ اسمبلی بھی غیرمحفوظ 19 October, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||