سونےکی درآمد میں کمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان برِصغیر سمیت دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں سونا روایتی پس منظر کے طور پر اہمیت کا حامل ہےاور ہردور میں اس کی کھپت بھی زیادہ رہی ہے، تاہم رواں مالی سال کے پہلےآٹھ ماہ کے دوران پاکستان میں سونے کی درآمد میں ساٹھ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سونے کی درآمد میں کمی کے حوالے سے درآمد کنندگان، زیورات کی تیاری اور اس کی تجارت سے وابستہ صراف درآمدات پرعائد ٹیکس اور اسمگلنگ سمیت مختلف وجوہات بتاتے ہیں، لیکن سب سے ٹھوس حقیقت پاکستان میں وفاقی ادارہ برائے شماریات کے اعداد و شمار بیان کرتے ہیں۔ جن کے مطابق’ فروری سن دو ہزار چھ کے ایک ماہ کے دوران پاکستانی درآمد کنندگان نے تین ہزارگیارہ کلو سونا درآمد کیاتھا۔ اس کے مقابلے میں فروری سن دو ہزار سات کے دوران سونے کی درآمدی مقدار صرف گیارہ کلو رہی ہے۔، وفاقی ادارہ برائے شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق موجودہ مالی سال کے گزشتہ آٹھ مہینوں جولائی سن دو ہزار چھ سے فروری سن دو ہزار سات کے دوران سونے کی درآمد میں لگ بھگ ساٹھ فیصد تک کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس مدت کے دوران مجموعی طور پر سونے کی درآمد آٹھ ہزارسات سو چارکلو گرام رہی ہے۔ اسی مدت کے دوران گزشتہ مالی سال 2006-2005 کے عرصے میں سونے کی درآمدات بیس ہزار چار سوکلو گرام رہی تھیں۔ پاکستان میں سونے کی طلب ہمیشہ درآمد کے ذریعے ہی پورا کی جاتی رہی ہیں۔ گزشتہ عشروں میں سونے کی درآمد کا بڑا ذریعہ اسمگلنگ رہا ہے، لیکن گزشتہ بارہ تیرہ برسوں کے دوران قانونی درآمد کو باقاعدگی حاصل ہوئی اور کئی درآمد کنندگان کو لائسنس جاری کیے گئے۔ بینظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت میں سونے کے تجارتی ادارے اے آر وائی گولڈ کو درآمدی لائسنسس جاری کیا گیا۔ جسے آئندہ چند برسوں تک واحد درآمد کنندہ کا اعزاز حاصل رہا۔ اس کے بعد نواز شریف کے دوسرے دورِ حکومت کے دوران مزید دو اور کمپنیوں کو لائسنس جاری کیا گیا۔ نیز سونے کی درآمد پر فی تولہ (یعنی گیارہ اعشاریہ چون گرام) پر ایک ڈالر درآمدی ڈیوٹی بھی عائد کردی گئی۔ پاکستان میں سونے کی کھپت اور طلب کے حوالے سے کراچی کے بزرگ صراف محمود علی بتاتے ہیں ’ چند برس قبل تک پاکستان میں درآمد کیے جانے والے سونے کی چالیس فیصد مقدار کی کھپت زیورات میں ہوتی تھی، جبکہ لگ بھگ اتنی ہی مقدار بھارت اسمگل ہوجاتی تھی، جس کا سبب پاکستان کے مقابلے میں وہاں قیمت کا زیادہ ہونا تھا۔ جبکہ بسکٹ کی شکل میں موجود لگ بھگ بیس فیصد سونا سرمایہ کاری کے لیے محفوظ کرلیا جاتا ، مگر اب حالات تبدیل ہوچکے ہیں۔،
سونے کی درآمد پر عائد مختلف ٹیکسوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کراچی کے صراف سید مظہر سعیدی کا کہنا تھاکہ ’جاری مالی سال 2007-2006 ء سے قبل درآمدی ڈیوٹی اور انکم ٹیکس وغیرہ ملا کر فی تولہ بتیس روپے مجموعی محصولات بنتے تھے، تاہم جاری مالی سال کے بجٹ میں وفاقی حکومت نے مزید ایک فیصد ویلتھ ٹیکس نافذ کردیا۔ اس طرح فی تولہ ٹیکس کی مجموعی رقم دو سو نوے روپے ہوگئی۔ اس وجہ سے پاکستان میں کی جانے والی اسمگلنگ کی حوصلہ افزائی ہوئی اور یوں غیر قانونی طور پر، زیادہ تر دبئی سے سونا اسمگل کیا جانے لگا ہے۔، سونے کی تجارت سے وابستہ ٹیسوری گروپ کے ایک افسر نےنام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کرتے ہوئے اعداد وشمار میں تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ سعیدی کی بات کی تائید کرتے ہیں مگران کا کہنا تھا! ’جاری مالی سال کے بجٹ سے قبل مجموعی محصولات فی تولہ باسٹھ روپے بنتے تھے جو اب بڑھ کر دو سو تین روپے ہوچکے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ قانونی درآمد تیزی سے کم ہوئی اور غیر قانونی طریقے سے ملک میں سونے کی درآمد بڑھ رہی ہے۔ یہی وہ بنیادی سبب ہے جس کے باعث قانونی تقاضوں کے مطابق درآمد میں نہایت شدید کمی آئی ہے۔، سونے کی زیورات کی تیاری اور فروخت سے وابستہ شیخ محمد سلیم کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران سونے کی عالمی منڈی میں قیمتوں کے تیز رفتار اضافے کے سبب لوگوں کی قوتِ خرید میں خاصی کمی آئی ہے۔ صرف یہی نہیں روز مرہ اشیائے استعمال کی قیمتوں میں اضافے نے عام آدمی کی جیب پر دباؤ بڑھادیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب زیادہ تر لوگ شادی بیاہ کے لیے بھی بہت کم زیورات بنواتے ہیں۔ جھومر اور ٹیکا تو اب دلہن کے لیے ہم سے کرائے پر لیے جاتے ہیں۔،
ملکی تاریخ میں پہلی بار سونے کے نرخ میں تیز ترین اضافہ مئی سن دو ہزار چھ میں ہوا ہے۔ جب پاکستانی صرافہ مارکیٹ میں ایک تولہ (لگ بھگ بارہ گرام) سونے کے نرخ تقریبا سولہ ہزار روپے ہوگئے، جبکہ یکم جنوری سن دو ہزار چھ کو چوبیس قیراط فی تولہ سونے کے نرخ گیارہ ہزار سات سوروپے تھے۔ یکم جنوری دو ہزار چھ سے مئی کے وسط تک نرخوں میں ساڑھے چھ ہزارروپے کا ریکارڈ اضافہ کیا گیا ہے۔ ملک میں پرچون سطح پرصرافہ کاروبار کے حوالے سے اعداد و شمار بالعموم دستیاب نہیں ، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں صرافہ بازار کی سطح پر روزانہ اوسط کی بنیاد پر تیس تا پینتیس ہزار تولہ سونا فروخت ہوتا تھا، تاہم قیمتوں میں اضافے کے بعد اس تجارت میں پچاس فیصد سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی ہے۔ جس کا اثر درآمدات پر بھی پڑا ہے۔ |
اسی بارے میں پلاٹوں کے بجائے فائلوں کا دھندہ08 July, 2005 | پاکستان پشاور میں تاجروں کا احتجاج30 December, 2004 | پاکستان پاکستان ایک کاروبار موافق ملک 14 September, 2005 | پاکستان بھارت سے درآمد بڑھانے کا فیصلہ27 September, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||