BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 01 May, 2007, 08:29 GMT 13:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سونےکی درآمد میں کمی

سونے کے زیورات
پاکستان میں درآمد شدہ سونے کا چالیس فی صد زیورات میں استعمال ہوتا ہے
پاکستان برِصغیر سمیت دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں سونا روایتی پس منظر کے طور پر اہمیت کا حامل ہےاور ہردور میں اس کی کھپت بھی زیادہ رہی ہے، تاہم رواں مالی سال کے پہلےآٹھ ماہ کے دوران پاکستان میں سونے کی درآمد میں ساٹھ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

سونے کی درآمد میں کمی کے حوالے سے درآمد کنندگان، زیورات کی تیاری اور اس کی تجارت سے وابستہ صراف درآمدات پرعائد ٹیکس اور اسمگلنگ سمیت مختلف وجوہات بتاتے ہیں، لیکن سب سے ٹھوس حقیقت پاکستان میں وفاقی ادارہ برائے شماریات کے اعداد و شمار بیان کرتے ہیں۔ جن کے مطابق’ فروری سن دو ہزار چھ کے ایک ماہ کے دوران پاکستانی درآمد کنندگان نے تین ہزارگیارہ کلو سونا درآمد کیاتھا۔ اس کے مقابلے میں فروری سن دو ہزار سات کے دوران سونے کی درآمدی مقدار صرف گیارہ کلو رہی ہے۔،

وفاقی ادارہ برائے شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق موجودہ مالی سال کے گزشتہ آٹھ مہینوں جولائی سن دو ہزار چھ سے فروری سن دو ہزار سات کے دوران سونے کی درآمد میں لگ بھگ ساٹھ فیصد تک کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس مدت کے دوران مجموعی طور پر سونے کی درآمد آٹھ ہزارسات سو چارکلو گرام رہی ہے۔ اسی مدت کے دوران گزشتہ مالی سال 2006-2005 کے عرصے میں سونے کی درآمدات بیس ہزار چار سوکلو گرام رہی تھیں۔

 چند برس قبل تک پاکستان میں درآمد کیے جانے والے سونے کی چالیس فیصد مقدار کی کھپت زیورات میں ہوتی تھی، جبکہ لگ بھگ اتنی ہی مقدار بھارت اسمگل ہوجاتی تھی، جس کا سبب پاکستان کے مقابلے میں وہاں قیمت کا زیادہ ہونا تھا۔ جبکہ بسکٹ کی شکل میں موجود لگ بھگ بیس فیصد سونا سرمایہ کاری کے لیے محفوظ کرلیا جاتا ، مگر اب حالات بدل چکے ہیں۔،
صراف محمود علی
اقتصادیات کی ماہر زہرہ کرامت کا کہنا ہے کہ ’یہ اعداد وشمار اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں سونے کی شکل میں کی جانے والی سرمایہ کاری نے نہ صرف سرمایہ کاروں کی توجہ کھودی ہے، بلکہ پرچون کی سطع پر اس کی خریداری میں بھی کمی آئی ہے۔ جو لوگوں کی قوتِ خرید میں کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ جس کا واحد سبب گزشتہ پانچ چھ برسوں کے دوران قیمتوں میں شدید اضافہ ہے۔ جس نے لوگوں کی قوتِ خرید کو انتہائی کم کردیا ہے۔،

پاکستان میں سونے کی طلب ہمیشہ درآمد کے ذریعے ہی پورا کی جاتی رہی ہیں۔ گزشتہ عشروں میں سونے کی درآمد کا بڑا ذریعہ اسمگلنگ رہا ہے، لیکن گزشتہ بارہ تیرہ برسوں کے دوران قانونی درآمد کو باقاعدگی حاصل ہوئی اور کئی درآمد کنندگان کو لائسنس جاری کیے گئے۔ بینظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت میں سونے کے تجارتی ادارے اے آر وائی گولڈ کو درآمدی لائسنسس جاری کیا گیا۔ جسے آئندہ چند برسوں تک واحد درآمد کنندہ کا اعزاز حاصل رہا۔ اس کے بعد نواز شریف کے دوسرے دورِ حکومت کے دوران مزید دو اور کمپنیوں کو لائسنس جاری کیا گیا۔ نیز سونے کی درآمد پر فی تولہ (یعنی گیارہ اعشاریہ چون گرام) پر ایک ڈالر درآمدی ڈیوٹی بھی عائد کردی گئی۔

پاکستان میں سونے کی کھپت اور طلب کے حوالے سے کراچی کے بزرگ صراف محمود علی بتاتے ہیں ’ چند برس قبل تک پاکستان میں درآمد کیے جانے والے سونے کی چالیس فیصد مقدار کی کھپت زیورات میں ہوتی تھی، جبکہ لگ بھگ اتنی ہی مقدار بھارت اسمگل ہوجاتی تھی، جس کا سبب پاکستان کے مقابلے میں وہاں قیمت کا زیادہ ہونا تھا۔ جبکہ بسکٹ کی شکل میں موجود لگ بھگ بیس فیصد سونا سرمایہ کاری کے لیے محفوظ کرلیا جاتا ، مگر اب حالات تبدیل ہوچکے ہیں۔،

سونے کے زیورات
سن دو ہزار چھ کے دوران پاکستانی درآمد کنند گان نے تین ہزار گیارہ کلو سونا درآمد کیا تھا جبکہ سن دو ہزار سات میں درآمدی مقدار صرف گیارہ کلو رہ گئی ہے
ان بدلے ہوئے حالات کے بارے میں محمود علی نے بتایا کہ ’ گزشتہ تین برسوں کے دوران سونے کی عالمی منڈی میں نرخوں میں ہونے والے بے پناہ اضافے کے سبب ملکی مارکیٹ میں بھی سونے کے دام بہت بڑھ چکے ہیں۔ جس کی وجہ سے زیورات کی طلب میں بھی کمی آئی ہے اور کھپت بھی کمی ہوچکی ہے، نیز درآمدی ڈیوٹی میں اضافے سے لاگت بھی بڑھی ہے۔ اس لیے یہاں سے کی جانے والی اسمگلنگ بھی کم ہوئی ہے۔ دوسری طرف ملکی معیشت میں استحکام نظر آتا ہے، جس سےسونے میں کی جانے والی سرمایہ کاری پر منفی اثر پڑا۔ یہی وجہ ہے گزشتہ سات آٹھ مہینوں کے دوران ملک میں سونے کی درآمد بہت کم ہوئی ہے۔ فی الوقت جو حالات ہیں انہیں دیکھتے ہوئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ درآمد اگلے مہینوں میں بڑھ سکتی ہے یا نہیں۔ ہاں اگر حکومت سونے پر عائد درآمدی ڈیوٹی ختم کردے اور عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہوں تو پھر بہتری کی امید کی جاسکتی ہے۔،

سونے کی درآمد پر عائد مختلف ٹیکسوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کراچی کے صراف سید مظہر سعیدی کا کہنا تھاکہ ’جاری مالی سال 2007-2006 ء سے قبل درآمدی ڈیوٹی اور انکم ٹیکس وغیرہ ملا کر فی تولہ بتیس روپے مجموعی محصولات بنتے تھے، تاہم جاری مالی سال کے بجٹ میں وفاقی حکومت نے مزید ایک فیصد ویلتھ ٹیکس نافذ کردیا۔ اس طرح فی تولہ ٹیکس کی مجموعی رقم دو سو نوے روپے ہوگئی۔ اس وجہ سے پاکستان میں کی جانے والی اسمگلنگ کی حوصلہ افزائی ہوئی اور یوں غیر قانونی طور پر، زیادہ تر دبئی سے سونا اسمگل کیا جانے لگا ہے۔،

سونے کی تجارت سے وابستہ ٹیسوری گروپ کے ایک افسر نےنام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کرتے ہوئے اعداد وشمار میں تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ سعیدی کی بات کی تائید کرتے ہیں مگران کا کہنا تھا! ’جاری مالی سال کے بجٹ سے قبل مجموعی محصولات فی تولہ باسٹھ روپے بنتے تھے جو اب بڑھ کر دو سو تین روپے ہوچکے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ قانونی درآمد تیزی سے کم ہوئی اور غیر قانونی طریقے سے ملک میں سونے کی درآمد بڑھ رہی ہے۔ یہی وہ بنیادی سبب ہے جس کے باعث قانونی تقاضوں کے مطابق درآمد میں نہایت شدید کمی آئی ہے۔،

سونے کی زیورات کی تیاری اور فروخت سے وابستہ شیخ محمد سلیم کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران سونے کی عالمی منڈی میں قیمتوں کے تیز رفتار اضافے کے سبب لوگوں کی قوتِ خرید میں خاصی کمی آئی ہے۔ صرف یہی نہیں روز مرہ اشیائے استعمال کی قیمتوں میں اضافے نے عام آدمی کی جیب پر دباؤ بڑھادیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب زیادہ تر لوگ شادی بیاہ کے لیے بھی بہت کم زیورات بنواتے ہیں۔ جھومر اور ٹیکا تو اب دلہن کے لیے ہم سے کرائے پر لیے جاتے ہیں۔،

شادی کے زیور کرائے پر
 گزشتہ چند مہینوں کے دوران سونے کی عالمی منڈی میں قیمتوں کے تیز رفتار اضافے کے سبب لوگوں کی قوتِ خرید میں خاصی کمی آئی ہے۔ اب زیادہ تر لوگ شادی بیاہ کے لیے کم زیورات بنواتے ہیں۔ یہاں تک کہ اب دلہن کے لیے جھومر اور ٹیکا ہم سے کرائے پر لیے جاتے ہیں۔،
شیخ محمد سلیم
اس وقت ملکی صرافہ مارکیٹ میں چوبیس قیراط فی دس گرام سونے کے نرخ چودہ ہزار روپے کے لگ بھگ ہیں، جن میں روزانہ چند روپوں کا اتار چڑھاؤ رہتا ہے۔ سن انیس سو ننانوے تک یہ نرخ پانچ سے سوا پانچ ہزار روپے کے درمیان تھے جوسن دو ہزار ایک کے آخر تک بڑھ کر چھ سے ساڑھے چھ ہزار روپے تک پہنچے۔ مئی 2004 ء میں فی دس گرام سونے کے نرخ سات ہزار، تین سو روپے کے لگ بھگ رہے۔ یکم جنوری 2005 ء کو یہ بھاؤ نو ہزار نو سو ننانوے روپے تھا۔ قیمت میں پہلی بار سب سے بلند سطح پر اضافہ اٹھارہ اپریل، دو ہزار چھ کو ہوا جب دس گرام سونے کے نرخ بارہ ہزار روپے کی حد عبور کرگئے۔ اضافے کا سبب سترہ اپریل کو سونے کی عالمی منڈی میں ہونے والا وہ اضافہ تھا جس سے گزشتہ ساڑھے پچیس برس بعد قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ شروع ہوا اور فی اونس سونے کے نرخ پانچ سو ترانوے سے چھ سو سولہ امریکی ڈالر تک جا پہنچے تھے۔

ملکی تاریخ میں پہلی بار سونے کے نرخ میں تیز ترین اضافہ مئی سن دو ہزار چھ میں ہوا ہے۔ جب پاکستانی صرافہ مارکیٹ میں ایک تولہ (لگ بھگ بارہ گرام) سونے کے نرخ تقریبا سولہ ہزار روپے ہوگئے، جبکہ یکم جنوری سن دو ہزار چھ کو چوبیس قیراط فی تولہ سونے کے نرخ گیارہ ہزار سات سوروپے تھے۔ یکم جنوری دو ہزار چھ سے مئی کے وسط تک نرخوں میں ساڑھے چھ ہزارروپے کا ریکارڈ اضافہ کیا گیا ہے۔

ملک میں پرچون سطح پرصرافہ کاروبار کے حوالے سے اعداد و شمار بالعموم دستیاب نہیں ، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں صرافہ بازار کی سطح پر روزانہ اوسط کی بنیاد پر تیس تا پینتیس ہزار تولہ سونا فروخت ہوتا تھا، تاہم قیمتوں میں اضافے کے بعد اس تجارت میں پچاس فیصد سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی ہے۔ جس کا اثر درآمدات پر بھی پڑا ہے۔

جزیرہجزائر پر تنازع
ملکیت پر صوبائی اور وفاقی حکومت میں ٹکڑاو
کرنسی پر اثرات
پاکستان میں سونے کے نرخ میں ریکارڈ اضافہ
پاکستان کی بلند ترین چوٹی کے ٹوکے ٹو:گولڈن جوبلی
کوہ پیماؤں کو تمغے دینے کا اعلان
سونے کی اینٹیںخاشاک سے سونا
سونے کے ذرات، کئی افراد کا ذریعہ معاش
اسی بارے میں
پشاور میں تاجروں کا احتجاج
30 December, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد