BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 29 October, 2006, 16:42 GMT 21:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جزائر کے حق ملکیت پر تنازعہ

جزیرہ
وفاقی حکومت نے جزیروں کوتعمیرات کے لیےغیرملکی کمپنی کو دے دیا ہے
وفاق اور صوبہ سندھ کے درمیان کراچی کے قریب واقع دو جزائر کے حق ملکیت پر تنازعہ طول پکڑ گیا ہے۔

وفاق اور صوبے کےدرمیان اختلافات اس وقت شروع ہوئے جب وفاقی حکومت نے کراچی سے چار کلومیٹر دور بحیرہ عرب میں واقع دو جزیروں بنڈال اور ڈنگی کو متحدہ عرب امارات کی ایک نجی کمپنی کےحوالے کرتے ہوئے رہائشی منصوبے کی منظوری دی ۔

بارہ ہزارایکڑ پر بنائی جانے والی اس رہائشی اسکیم میں پورٹ قاسم اتھارٹی کے پندرہ فیصد حصص ہونگے۔

وفاقی محکمہ پورٹس اور شپنگ نےان جزائر کواپنی ملکیت قرار دیتے ہوئے ان پر رہائئشی منصوبے کی منظوری حاصل کی تھی۔ جبکہ وفاقی حکومت نےاس منصوبے سےاتفاق کرتے ہوئے سندھ حکومت سے موقف طلب کئے بغیر منظوری دے دی تھی۔ وزیراعظم شوکت عزیز نے بھی اپنے حالیہ دورہ کراچی میں ان جزائر کو وفاقی ملکیت قرار دیا تھا۔

سندھ نے وفاقی حکومت کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے ان جزائر کوصوبائی ملکیت قرار دیا ہے۔

ان جزیروں سے ماہی گیروں کے مفادات بھی جڑے ہیں

سندھ کے محکمہ بورڈ آف ریوینیو کے مطابق صوبائی حکومت نےانیس سو تہتر میں پورٹ قاسم اتھارٹی کو ساڑھے تیرہ ہزار ایکڑ زمین دی تھی۔ اس معاہدے میں ان جزائر کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ یہ جزائر بدستور سندھ حکومت کی ملکیت ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت نے انیس سو تہتر میں پانچ روپے فی اسکوائر فٹ کے حساب سے یہ زمین پورٹ قاسم اتھارٹی کو فروخت کی تھی۔ یہ زمین اتھارٹی کوصرف آپریشن اور صنعت کاری کے لیے دی گئی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ وہ وفاقی حکومت سے رابطہ کرکےآگاہ کریں گے کہ صوبائی حکومت نے کبھی بھی جزائر کی الاٹمنٹ نہیں کی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت ان جزائر پر ہر قسم کی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے گی کیونکہ اس سے صوبے میں ترقی ہوگی۔

قانونی اور آئینی ماہرین بھی جزائر پر صوبائی حکومت کے حق کو درست قرار دیتے ہیں۔ بیریسٹر ضمیرگھمرو کے مطابق ملکی آئین کے تحت وفاقی حکومت کسی بھی صوبے کی حد میں کوئی زمین حاصل نہیں کرسکتی۔ یہ زمین صوبائی ملکیت ہے تاہم وفاقی حکومت کسی خاص مقصد کے لیے زمین کے حصول کے لیے صوبائی حکومت سے رابطہ کرسکتی ہے۔

دس ہزار ایکڑ ایراضی پر مشتمل بنڈال جزیرے سے ماہی گیروں کے ثقافتی اور معاشی مفادات منسلک ہیں۔ ماہی گیروں کی تنظیم فشر فوک پاکستان کے رہنما محمد علی شاہ کا کہنا ہے کہ جزائر پر شہر بنانے کا منصوبہ سمندری ماحولیات کے لیےانتہائی نقصان دہ ہے۔ جزائر پر بڑی تعداد میں مینگروز کے درخت موجود ہیں جو مچھلی کی افزائش کا بڑا ذریعہ ہیں اور شہر بننے کے بعد یہ درخت کاٹ دیئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس راستے سے ماہی گیر کھلے سمندر میں جاتے ہیں۔ ان جزائر پر شہر بننے کے بعد ان کا راستہ بند ہوجائےگا۔ بنڈال جزیرہ ماہی گیروں کے لیے روزگار کا ذریعہ ہیں۔

کراچی سے چار سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ان جزائر کی زمین سرمایہ کاروں اور شہری اداروں کی نگاہوں کا مرکز رہی ہے۔

کراچی کے سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان نے ان جزائر پر کراچی ٹیکنالوجی آئی لینڈ سٹی بنانے کا منصوبہ بنایا تھا۔

نعمت اللہ کےمطابق اس منصوبے کے لیے شہری حکومت کراچی کے ساتھ آرمی ویلفیئر ٹرسٹ، پاکستان سوفٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن اور تھائی لینڈ کی فرم ایکسز کیپٹل نےایک یادداشت نامے پر دستخط بھی کیے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ او آئی سی، اسلامک ڈولپمنٹ بینک اور ملائشیا کی حکومت نے بھی اس منصوبے کے لیے تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی۔

موجودہ سٹی ناظم مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ ان کو ایسے کسی یادداشت نامے کے بارے میں علم نہیں ہے تاہم انہوں نےکہا کہ کچھ ابتدائی کارروائی ہوئی تھی مگر اس کے بعد وہ ختم ہوگئی اور ان کی انتظامیہ کی اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

اس سے قبل دو مرتبہ پورٹ قاسم اتھارٹی ان جزائر پر ملکیت کا دعویٰ کرچکی ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق بنڈال پر ایل این جی گیس ٹرمینل لگانے کے لیے اتھارٹی نے جاپان اور کوریا کی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کیے تھےمگر صوبائی حکومت کے رد عمل کے بعد اسے پیچھے ہٹنا پڑا۔

ایک موقع پر پورٹ قاسم اتھارٹی نےاختیار نہ ہونے کے باوجود ڈھائی ہزارایکڑ زمین پاکستان بحریہ کو دے دی تھی۔ بعد میں نیوی کا منصوبہ اوماڑا منتقل ہوگیا اور بنڈال کسی تعمیرات سے بچ گیا۔

 سابق وزیر اعلی سندھ اور پیپلز پارٹی کے رہنما سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ ملک کے آئین کے تحت یہ جزائر صوبے کی ملکیت ہیں، اور اس پر یہاں کے عوام کا حق ہے۔

کراچی کے ای ڈی او روینیو کے مطابق ڈفینس ہاؤسنگ اتھارٹی نے بنڈال پرایک پارک تعمیر کرنے کے لیے چیف ایگزیکیوٹیو سیکریٹریٹ سے رجوع کیا تھا مگر جب اس پر سندھ حکومت سے موقف طلب کیاگیا تو صوبائی حکومت نے اس پر اپنا دعویٰ برقرار رکھا اور یوں ایک مرتبہ پھر یہ زمین بچ گئی ۔

وزارت پورٹس اور شپنگ کا قلمدان ایم کیو ایم کے پاس ہے جبکہ سٹی ناظم بھی اس جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ صدر جنرل پرویز مشرف کی قریبی اتحادی اور حمایتی جماعت تسلیم کی جاتی ہے جبکہ سندھ کی قوم پرست جماعتیں اس کی روایتی مخالف رہی ہیں ۔

قومپرست جماعتوں اور اپوزیشن کی جانب سے اس منصوبے کی شدید مخالفت کی جارہی ہے۔

سابق وزیر اعلی سندھ اور پیپلز پارٹی کے رہنما سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ ملک کے آئین کے تحت یہ جزائر صوبے کی ملکیت ہیں، اور اس پر یہاں کے عوام کا حق ہے۔

موجودہ وزیر اعلیٰ سندھ ان دو جزائر پر پورٹ قاسم اتھارٹی کے مالکانہ حقوق کو تسلیم نہیں کرتے تاہم وہ منصوبے کے حامی ہیں۔ ان کے موقف کے برعکس قوم پرست اور ماہی گیر ان جزائر پر کسی بھی منصوبے کے مخالف ہیں اور قوم پرست اس کو سندھ کے خلاف سازش قرار دیتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد