BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 05 October, 2006, 02:16 GMT 07:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نیا دبئی اور ماہیگروں کے خواب

 80 سالہ رحیمان
80 سالہ رحیمان برسوں سے کراچی کے قریب بنڈاڑ جزیرے پر رہائش پذیر ہیں
’میں کسی صورت میں یہاں سے زندہ نہیں جاؤں گی، صرف موت آنے کی صورت میں یہ جگہ چھوڑ سکتی ہوں۔‘ یہ الفاظ اسی برس کی رحیماں کے ہیں جو گزشتہ طویل عرصے سے کراچی کے قریب بنڈاڑ جزیرے پر رہائش پذیر ہیں۔

پاکستان حکومت نے کچھ روز قبل ہی کراچی سے چار کلومیٹر کے فاصلے پر واقعے دو جزیروں بنڈاڑ اور ڈنگی کو متحدہ عرب امارت کی ایک تعمیراتی کمپنی کے حوالے کرتے ہوئے ایک رہائشی سکیم بنانے کی منظوری دی ہے۔

اس منصوبے کو ڈائمنڈ آئی لینڈ سٹی کا نام دیا گیا، جس پر تینتالیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائیگی۔

بنڈاڑ جزیرے کا رقبہ دس ہزار ایکڑ ہے جس کے اطراف میں مینگروز کے درخت ہیں جن میں مچھلی کی افزائش ہوتی ہے۔

ماہیگیروں کی بستی ابراہیم حیدری سے کھلے سمندر میں جانے اور پورٹ قاسم بندرگاہ کا گزر بھی ان جزیروں کے سامنے سے ہے۔

 بنڈاڑ جزیرہ ماہیگیروں کے عارضی قیام اور مچھلی سکھانے کے کام آتا ہے، یہاں کھلے سمندر میں جانے والے ماہیگیر واپسی پر چھوٹی چھوٹی جگہیوں میں رہتے ہیں جبکہ جزیرے کے کھلے میدان میں مچھلی اور جھینگے دھوپ میں سوکھائے جاتے ہیں

بنڈاڑ جزیرہ ماہیگیروں کے عارضی قیام اور مچھلی سکھانے کے کام آتا ہے، یہاں کھلے سمندر میں جانے والے ماہیگیر واپسی پر چھوٹی چھوٹی جگہیوں میں رہتے ہیں جبکہ جزیرے کے کھلے میدان میں مچھلی اور جھینگے دھوپ میں سوکھائے جاتے ہیں۔

اس جزیرے پر اس وقت صرف ایک خاتون رہتی ہیں، اسی سالہ اس خاتون رحیماں کا کہنا ہے کہ ’میں نے اپنی آنکہوں کا نور اس جزیرے پر کھویا ہے اور بال بھی یہیں سفید کئے ہیں۔‘

وہ اپنے بیٹوں اور شوہر کے ساتھ رہتی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ’میں آٹھ برس کی تھی کہ میرا شوہر مجھے بیاہ کر یہاں لایا تھا، اس وقت تو ابھی پاکستان بھی نہیں بنا تھا۔‘

’اگر ترقی دینی تھی تو یہاں کے ماہیگیر بچوں کے لیئے سکول قائم کرتے‘

ان کے مطابق پہلے اس جزیرے پر کافی لوگ رہتے تھے مگر بعد میں وہ شہر کی طرف منتقل ہوگئے۔

ان کو جب بتایا گیا کہ یہ زمین حکومت نے بیچ دی ہےتو انہوں نے اپنے سینے پر زور سے ہاتھ مارتے ہوئے کہا کہ ہمارا اس زمین پر حق ہے، ہم نے یہاں اپنی زندگی گذاری ہے، اس لیئے جب تک زندہ ہیں یہاں سے نہیں جائیں گے۔
انہوں نے حکومت کی طرف سے کسی ممکنہ معاوضے کو بھی قبول کرنے سے انکار کیا۔

بنڈاڑ جزیرے پر یوسف شاہ نامی بزرگ کا مزار ہے جہاں لوگ چڑہاوے اور چادر چڑھاتے ہیں۔ ان کاماننا ہے کہ بزرگ کی دعا سے ان کی روزی میں برکت ہوتی ہے جبکہ ہر نئی لانچ سمندر میں اتارنے سے قبل بھی مزار پر چادر چڑھانے کا رواج ہے۔
ہر سال یوسف شاہ کا عرس منایا جاتا ہے جس میں ساحلی پٹی کے ماہیگیر کی بہت بڑی تعداد شریک ہوتی ہے۔

ماہیگیروں کی جگہیاں

ایک ماہیگیر ابراہیم مولانی کا کہنا تھا کہ ’بنڈاڑ جزیرہ ہمارا تاریخی ورثہ ہے جس سے ہاتھ چراند کی جارہی ہے، یہاں سے گھرے سمندر کی طرف ہماری گزر گاہ ہے اگر حکومت اسے فروخت کردیگی تو وہ لوگ تو ہمیں یہاں سے گزرنے بھی نہیں دینگے۔‘

ابراہیم نے بتایا کہ ہم یہاں مچھلی اور جھینگے سوکھاتے ہیں اور ہفتے بھر کے لیئے یہاں قیام کرتے ہیں کیونکہ شہر سے آنے جانے کے اخراجات زیادہ ہوتے ہیں اس لیئے مچھلی کو یہاں سوکھا کر آگے لے جاتے ہیں۔

ایک اور ماہیگیر سلطان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اپنے طور پر فیصلہ کیا ہے اور ماہگیروں کی رائے بھی معلوم نہیں کی گئی ہے۔ یہاں نہ صرف کراچی بلکہ سندھ کے دیگر ساحلی علاقوں کے بھی لوگ عارضی طور پر قیام کرتے ہیں اور مچھلی کی سیزن کے بعد واپس جاتے ہیں اگر حکومت یہاں قبضہ کرلے گی تو یہ لوگ کہاں جائیں گے ان کے پاس تو اتنے پیسے نہیں ہوتے ہیں کہ کرائے پر گھر لے کر رہیں۔

’بنڈاڑ جزیرہ ہمارا تاریخی ورثہ ہے‘

جب ایک ماہیگیر محمد صدیق سے کہا گیا کہ حکومت تو کہتی ہے کہ اس منصوبے سے ترقی ہوگی تو ان کا کہنا تھا کہ ترقی ان لوگوں کی ہوگی جو باہر سے آکر آباد ہونگے یہاں کے اصل لوگ جو ماہگیر ہیں انکا تو معاشی قتل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اگر ترقی دینی ہے تو یہاں کہ ماہیگیر بچوں کے لیئے سکول قائم کیا جائے اور قدرتی گئس، پینے کے پانی اور صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ ان کے مطابق ہم تو سمجھتے ہیں جزیروں پر آبادی سے سمندر اور بھی آلودہ ہوگا۔

 فشرمین کوآپریٹو سوسائیٹی کے سابق چیئرمین شفیع جاموٹ کا کہنا ہے کہ جزائر پر شہر بنانے کا منصوبہ سمندری ماحولیات کے لیئے انتہائی نقصاندہ ہے، جزائر پر جو مینگروز کے درخت ہیں ان میں ہی مچھلی کی افزائش ہوتی ہے اور شہر بننے کے بعد وہ کٹ جائینگے

فشرمین کوآپریٹو سوسائیٹی کے سابق چیئرمین شفیع جاموٹ کا کہنا ہے کہ جزائر پر شہر بنانے کا منصوبہ سمندری ماحولیات کے لیئے انتہائی نقصاندہ ہے، جزائر پر جو مینگروز کے درخت ہیں ان میں ہی مچھلی کی افزائش ہوتی ہے اور شہر بننے کے بعد وہ کٹ جائینگے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا دوہرا معیار ہے ایک طرف کہا جاتا ہے کہ سمندر کو آلودہ ہونے سے بچانا ہے مینگروز کی افزائش کرنی ہے جبکہ دوسری طرف ان کے خلاف کام کیا جارہا ہے۔

پاکستان میں ماہیگیروں کے حقوق کے لیئے سرگرم تنظیم پاکستان فشر فوک کی چیئرمین محمد علی شاہ کا کہنا ہے کہ جن جزائر پر حکومت جدید شہر بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے یہ ماہگیروں کی ملکیت ہیں۔ حکومت کا یہ فیصلہ ان کے معاشی قتل کے برابر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت کا یہ فیصلہ پاکستان کے آئین اور بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس کے خلاف ماہگیر احتجاج کرینگے۔

مظفرآبادموت سے بھی صلح
’بعض مجبوریاں زندگی سے بڑی ہوتی ہیں‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد