BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 October, 2006, 14:07 GMT 19:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رہائشی سکیموں کے خلاف احتجاج

عید کے بعد اس سکیم کے خلاف صوبے میں احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے
سندھ میں ماہی گیروں کے ساتھ قومپرست اور اپوزیشن جماعتیں بھی کراچی کے قریبی دو جزیروں پر رہائشی سکیموں کی مخالفت کر رہی ہیں۔ اس منصوبے کے خلاف بدھ کے روز کراچی میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

پاکستانی حکومت نے کراچی سے چار کلومیٹر دور دو جزیروں بنڈار اور ڈنگی کو متحدہ عرب امارات کے حوالے کرتے ہوئے رہائشی منصوبے کی منظوری دی ہے۔
ان جزیروں پر ڈائمنڈ سٹی کے نام سے مجوزہ منصوبے کے خلاف کراچی میں ماہیگیروں اور قومپرست جماعتوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔

مظاہرین کو پاکستان فشر فوک، جئے سندھ قومی محاذ، سندھ ترقی پسند پارٹی کے رہنما محمد علی شاہ، شفیع جاموٹ، بشیر قریشی اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ کیسی ترقی ہے، جس میں صدیوں سے آباد ماہیگیروں کی تباہی و بربادی چھپی ہوئی ہے ، ہم ایسی نام نہاد ترقی کو کبھی بھی نہیں قبول کریں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ عوام اور ان کے حقوق کے لیئے جدو جہد کرنے والے رہنما حکمرانوں سے زیادہ وفادار ہیں۔انہیں اصولی اور عوامی حقوق کی بات کرنے پر ریاست اور ترقی کا دشمن قرار دینا حکمرانوں کی ذہنی پسماندگی کا ثبوت ہے۔
دوسری جانب بنڈار اور ڈنگی کے حق ملکیت پر بھی اختلافات سامنے آئے ہیں۔ پورٹ قاسم اتھارٹی نے جزائر کو محکمے کی ملکیت قرار دیتے ہوئے دبئی کی کنسٹرکشن کمپنی امارات سے ان بارہ ہزار ایکڑ زمین پر ہاؤسنگ سکیم بنانے کی منظوری حاصل کی تھی، جس کی تینتالیس بلین ڈالر کی سرمایہ کاری میں پچاسی فیصد امارات اور پندرہ پورٹ قاسم اتھارٹی فراہم کرے گی۔

یہ کیسی ترقی ہے۔۔
 یہ کیسی ترقی ہے، جس میں صدیوں سے آباد ماہیگیروں کی تباہی و بربادی چھپی ہوئی ہے ، ہم ایسی نام نہاد ترقی کو کبھی بھی نہیں قبول کریں گے
مظاہرین

سندھ کے وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم کا کہنا ہے کہ محکمہ بورڈ آف ریونیو نے انہیں بتایا ہے کہ یہ زمین صوبائی ملکیت ہے، جو پورٹ قاسم اتھارٹی کو دی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ’میں نے بورڈ آف ریوینیو کو ہدایت کی ہے کہ عید کے بعد انہیں تفصیلی طور پر آگاہ کیا جائے اگر یہ زمین سندھ حکومت کی ہے تو پھر اس کی آمدنی صوبے کو ملنی چاہیئے‘۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بیرونی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے مگر کچھ لوگ قومپرستی کے نام پر اس کی مخالف کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ قومپرست جماعتوں کے دو اہم اتحاد سندھ نینشل الائنس اور پونم بنڈار اور ڈنگی جزیروں پر رہائشی اسکیموں کے منصوبے کی مخالف کرچکے ہیں، جبکہ عید کے بعد اس کے خلاف صوبے میں احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے۔

سابق وزیر اعلیُ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ ملک کے آئین کے تحت یہ جزائر صوبے کی ملکیت ہیں، اور اس پر یہاں کے عوام کا حق ہے۔

مظفرآبادموت سے بھی صلح
’بعض مجبوریاں زندگی سے بڑی ہوتی ہیں‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد