رہائشی سکیموں کے خلاف احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ میں ماہی گیروں کے ساتھ قومپرست اور اپوزیشن جماعتیں بھی کراچی کے قریبی دو جزیروں پر رہائشی سکیموں کی مخالفت کر رہی ہیں۔ اس منصوبے کے خلاف بدھ کے روز کراچی میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ پاکستانی حکومت نے کراچی سے چار کلومیٹر دور دو جزیروں بنڈار اور ڈنگی کو متحدہ عرب امارات کے حوالے کرتے ہوئے رہائشی منصوبے کی منظوری دی ہے۔ مظاہرین کو پاکستان فشر فوک، جئے سندھ قومی محاذ، سندھ ترقی پسند پارٹی کے رہنما محمد علی شاہ، شفیع جاموٹ، بشیر قریشی اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ کیسی ترقی ہے، جس میں صدیوں سے آباد ماہیگیروں کی تباہی و بربادی چھپی ہوئی ہے ، ہم ایسی نام نہاد ترقی کو کبھی بھی نہیں قبول کریں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ عوام اور ان کے حقوق کے لیئے جدو جہد کرنے والے رہنما حکمرانوں سے زیادہ وفادار ہیں۔انہیں اصولی اور عوامی حقوق کی بات کرنے پر ریاست اور ترقی کا دشمن قرار دینا حکمرانوں کی ذہنی پسماندگی کا ثبوت ہے۔
سندھ کے وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم کا کہنا ہے کہ محکمہ بورڈ آف ریونیو نے انہیں بتایا ہے کہ یہ زمین صوبائی ملکیت ہے، جو پورٹ قاسم اتھارٹی کو دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’میں نے بورڈ آف ریوینیو کو ہدایت کی ہے کہ عید کے بعد انہیں تفصیلی طور پر آگاہ کیا جائے اگر یہ زمین سندھ حکومت کی ہے تو پھر اس کی آمدنی صوبے کو ملنی چاہیئے‘۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بیرونی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے مگر کچھ لوگ قومپرستی کے نام پر اس کی مخالف کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ قومپرست جماعتوں کے دو اہم اتحاد سندھ نینشل الائنس اور پونم بنڈار اور ڈنگی جزیروں پر رہائشی اسکیموں کے منصوبے کی مخالف کرچکے ہیں، جبکہ عید کے بعد اس کے خلاف صوبے میں احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے۔ سابق وزیر اعلیُ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ ملک کے آئین کے تحت یہ جزائر صوبے کی ملکیت ہیں، اور اس پر یہاں کے عوام کا حق ہے۔ |
اسی بارے میں نیا دبئی اور ماہیگروں کے خواب05 October, 2006 | پاکستان ’نیا دبئی‘ بنانے کا منصوبہ منظور28 September, 2006 | پاکستان کراچی میں شدید بخار، پانچ ہلاک03 October, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||