کراچی میں شدید بخار، پانچ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران مختلف ہسپتالوں میں شدید بخار کی وجہ سے پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مون سون کی حالیہ بارشوں کے بعد شہر میں جراثیم کش ادویات کا سپرے کیا جانا چاہیئے تاکہ ہیمرجک وائرل فیور کو وبائی صورت اختیار کرنے سے روکا جاسکے۔ کراچی کے تین سرکاری اور ایک غیر سرکاری ہسپتال میں پچھلے ایک ماہ میں شدید بخار میں مبتلا ساٹھ سے زائد مریض علاج کے لیئے لائے گئے تھے۔ ان میں سے کچھ کے ناک اور منہ سے خون نکل رہا تھا بعد میں ان مریضوں میں سے چھ ہلاک ہوگئے۔ کراچی کے سول ہسپتال کے میڈیکل سپرانٹنڈنٹ ڈاکٹر کلیم بٹ نے بتایا کہ ایک ماہ میں ان کے ہسپتال میں 29 مریض لائے گئے تھے، جن میں سے ایک ہلاک ہوچکا ہے جبکہ باقی مریض علاج کے بعد فارغ کردیئے گئے ہیں۔ اس طرح جناح ہسپتال کے شعبہ ایمرجنسی کی انچارج ڈاکٹر سیمی جمالی نے بتایا کہ ان کے پاس اس وقت بھی چودہ مریض زیر علاج ہیں جبکہ دو فوت ہوچکے ہیں۔ کراچی کی نجی ہسپتال آغا خان کے ترجمان کے مطابق ماہ جون سے اب تک شدید بخار میں مبتلا ساٹھ کے قریب مریض ہپستال لائے گئے ہیں جن میں سے چھ کی موت واقع ہوگئی۔ تیز بخار میں مبتلا مریضوں کے مرض کی تشخیص کے لیئے ان کے ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں تاکہ معلوم ہوسکے کہ ان پر کانگو وائرس یا ڈینگی وائرس کا حملہ ہوا ہے۔ ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق ان مریضوں کے ٹیسٹ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد اور آغا خان سے کروائے جاتے ہیں۔ اسلام آباد میں ہونے والے ٹیسٹ مفت ہوتے ہیں مگر اس میں تھوڑا وقت لگتا ہے جبکہ نجی طور پر اس کی فیس مہنگی ہے۔ ڈاکٹر کلیم بٹ نے بتایا کہ ڈینگی وائرس مچھر کی ایک خاص قسم سے پھیلتا ہے۔ اس مچھر کی افزائش گھروں میں وہاں ہوتی ہے جہاں گندگی ہوتی ہے۔ یہ مچھر عام مچھر کی طرح رات کو نہیں بلکہ دن کے وقت کاٹتا ہے۔ سول ہسپتال میں کام کرنے والے دو ڈاکٹر بھی گزشتہ سال شدید بخار میں مبتلا ہونے کے بعد فوت ہوگئے تھے،جس کے بعد پیرا میڈیکل سٹاف اور ڈاکٹروں نے احتجاج کیا تھا۔ سول ہسپتال کے ایم ایس نے بتایا کہ موجودہ وقت ڈاکٹروں اور نرسنگ سٹاف کے لیِئے ماسک اور دستانے لازمی قرار دیِئےگئے ہیں اور ہسپتال میں جراثیم کش سپرے کروایا گیا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ حالیہ مون سون کی بارشوں کے بعد مچھروں کی افزائش میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ ہیمرجک وائرل فیور کو وبائی صورت اختیار کرنے سے روکنے کے لیئے شہر میں اسپرے کروانا چاہیئے۔ | اسی بارے میں ممبئی: وبائی امراض سےسّتر ہلاک 12 August, 2005 | انڈیا ’بیماریاں، صورت حال نہیں چھپائی‘11 December, 2005 | پاکستان حفاظتی ٹیکوں کی مہم کا آغاز05 December, 2005 | پاکستان بھارت: برڈ فلو گجرات پہنچ گیا 25 February, 2006 | انڈیا ایڈز کے پھیلاؤ میں کمی30 March, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||