BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 December, 2005, 06:33 GMT 11:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حفاظتی ٹیکوں کی مہم کا آغاز

خیمہ بستی میں ایک بچہ
حکومت نے اس سے قبل بھی بچوں کے لیے حفاظتی ٹیکوں کی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا تھا
پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کی ایک نواحی تحصیل میں خسرہ (میزلز) پھیلنے کے بعد وہاں حفاظتی ٹیکوں کی ہنگامی مہم شروع کی گئی ہے۔

ایک خیمہ بستی میں پھوٹ پڑنے والی اس وباء سے کم سے کم ایک بچے کی موت بھی واقع ہوچکی ہے جبکہ خسرہ میں مبتلا مزید چودہ بچوں کو ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ خسرہ ہٹیاں بالا میں قائم نیالی نام کی ایک خیمہ بستی میں پھیلی ہے۔

خسرہ میں مبتلا بچوں کو ہٹیاں بالا میں قائم غیر سرکاری تنظیم ’میڈیسن ود آؤٹ فرنٹئیرز‘ کے فیلڈ اسپتال میں رکھاگیا ہے جہاں دوسروں سے بالکل الگ تھلگ یا آئسولیشن وارڈ میں ان کا علاج کیا جا رہا ہے۔

تنظیم کے پاکستانی مشن کے سربراہ مائیک فارک نے بی بی سی سے باتیں کرتے ہوئے بتایا کہ پورے کیمپ کو قرنطینہ کرنے کے تو انتظامات موجود نہیں ہیں۔ اس لیے ان کی تنظیم یہ کررہی ہے کہ خیمہ بستی میں جا کر ان تمام بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے جا رہے ہیں جن کے خسرہ میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہوسکتا ہے۔

 لوگوں کے لیے حفاظتی ٹیکوں کی ایک بڑی مہم چلائی گئی تھی لیکن آبادی کے بڑے پیمانے پر بے گھر ہوجانے اور ان کی نقل و حرکت کی صورت میں سو فیصد آبادی کو حفاظتی ٹیکے لگانا بہت دشوار ہوتا ہے اس لیے یہ کہنا تو بہت مشکل ہے کہ تمام لوگوں کو حفاظتی ٹیکے لگا دیے گئے تھے۔
مائیک فارک

تین ہفتے پہلے حکومت نے عالمی ادارۂ اطفال اور عالمی ادارۂ صحت کے تعاون سے تمام زلزلہ زدگان خصوصاً بچوں کے لیے حفاظتی ٹیکوں کی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

مقامی محکمۂ صحت کا دعوٰی ہے کہ ہٹیاں بالا کے مذکورہ کیمپ میں بھی یہ حفاظتی ٹیکے لگا دیے گئے تھے۔

میڈیسن ود آؤٹ فرنٹئیرز کے مائیک فارک نے اس حوالے سے بتایا کہ ان کی معلومات کے مطابق اس علاقے میں لوگوں کے لیے حفاظتی ٹیکوں کی ایک بڑی مہم چلائی گئی تھی لیکن آبادی کے بڑے پیمانے پر بے گھر ہوجانے اور ان کی نقل و حرکت کی صورت میں سو فیصد آبادی کو حفاظتی ٹیکے لگانا بہت دشوار ہوتا ہے اس لیے یہ کہنا تو بہت مشکل ہے کہ تمام لوگوں کو حفاظتی ٹیکے لگا دیے گئے تھے۔

مظفرآباد ریجن کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر سردار محمود خان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہٹیاں بالا میں خسرہ سے مرنے والے دس ماہ کے بچے کی موت کی وجہ کی حتمی طور پر تصدیق خون کے نمونوں کے کیمیائی تجزیے کے بعد ہی ہوسکے گی۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہٹیاں بالا کی متاثرہ خیمہ بستی میں آس پاس کے علاقوں سے آئے ہوئے متاثرینِ زلزلہ ٹھہرائے گئے ہیں۔

اسی بارے میں
کیمپوں میں خسرہ پھیل گیا
04 December, 2005 | پاکستان
’نوّے فیصد خیمے غیر موزوں‘
02 December, 2005 | پاکستان
خیمہ بستیوں میں خارش کا مرض
01 December, 2005 | پاکستان
خیموں میں سردی کا عذاب
30 November, 2005 | پاکستان
’نمونیہ سب سے بڑا خطرہ ہے‘
20 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد