’اقتصادی ترقی کو کوئی خطرہ نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیرِاعظم کے مشیر برائے اقتصادی امور ڈاکٹر سلمان شاہ کا کہنا ہے کہ ملک میں سیاسی و عدالتی بحران سے اقتصادی ترقی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اسلام آباد میں پوسٹ بجٹ بریفنگ کے دوران وزیرِاعظم کے مشیر نے کہا کہ ملک میں اس وقت سیاسی درجہ حرارت یقینا زیادہ ہے لیکن ’چند دوست معیشت کو نہیں بلکہ حکومت کو پٹری سے اتارنا چاہ رہے ہیں‘۔ بریفنگ میں وزیرِ مملکت برائے خزانہ عمر ایوب خان کے علاوہ وزارت خزانہ اور سی بی آر کے اعلی اہلکار بھی موجود تھے تاہم صحافیوں کے اکثر سوالات کے جواب ڈاکٹر سلمان شاہ نے ہی دیے البتہ اقتصادی ماہرین کی اس سات رکنی ٹیم نے ایک صحافی کا یہ سوال گول کر دیا کہ وہ چھیالیس سو کی کم از کم ماہانہ تنخواہ میں کسی چار افراد کے کنبے کا بجٹ بنا کر دیں۔ ڈاکٹر سلمان شاہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کہ ملک کی اقتصادی گاڑی کو پٹری سے اترنے نہیں دیا جائے گا۔ آئندہ مالی سال کا بجٹ تیار کرنے والی سرکاری ٹیم نے بجٹ کا بھرپور دفاع کیا اور اسے غربت کے خاتمے، زرعی و صعنتی ترقی اور اقتصادی ترقی کا ضامن میزانیہ قرار دیا۔
ڈاکٹر سلمان شاہ کا کہنا تھا کہ اس بجٹ کو الیکشن بجٹ کہنا اس پر کوئی تنقید نہیں بلکہ یہ جمہوری ممالک میں ایک روایت ہے۔ انہوں نے اس بات کی نفی کی کہ حکومت عوامی پیسے پر اپنی انتخابی مہم لڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر کسی گاؤں میں کوئی سڑک بن جائے یا سکول کھل جائے تو اس سے کسی کو فائدہ ہی ہوگا نقصان نہیں‘۔ انہوں نے بتایا کہ اگر صوبوں میں بھی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پندرہ فیصد اضافہ کیا جاتا ہے تو وفاقی حکومت پر تینتیس ارب روپے کا بوجھ پڑے گا جبکہ پنشن میں اضافے سے اس میں مزید تیرہ ارب روپے کا اضافہ ہوگا۔ بریفنگ میں دیگر صوبوں سے آنے والے صحافیوں کی بڑی تعداد بھی شریک تھی۔سندھ کے ایک صحافی کے سوال پر کہ عوام کو مزید تین برس تک بجلی کی کمی سہنی پڑے گی، ڈاکٹر سلمان شاہ نے کہا کہ ’ آپ لوگ ہی تو ڈیم نہیں بنانے دیتے حالانکہ اس منصوبے سے سب سے زیادہ فائدہ سندھ کو ہوگا‘۔ وزیرِاعظم کے مشیر نے کہا کہ وہ محنت کش کی کم از کم تنخواہ میں اضافے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ ڈاکٹر سلمان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کو کم تنخواہوں والا ملک نہیں بلکہ مناسب تنخواہوں والا ملک کہلوانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے یہ اعتراف کیا کہ کم تنخواہ کا بھی ملک میں مکمل نفاذ نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر شاہ نے صعنتکاروں کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ تنخواہوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ پیداوار میں بھی اضافہ ہونا چاہیے۔ ایک سو گیارہ ارب روپے کے ریلیف پیکیج کے بارے میں ڈاکٹر سلمان کا کہنا تھا کہ یہ امداد مستقل بنیاد پر دی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نئے یوٹیلٹی سٹورز غریب علاقوں اور محلوں میں کھولنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ اس سے غریب عوام کو زیادہ فائدہ ہو۔ ٹیکسوں سے متعلق حکومتی پالیسی کی وضاحت سی بی آر کے حکام پیر کو ایک اور بریفنگ میں کریں گے۔ | اسی بارے میں عوام کے لیے 111 ارب کا’ریلیف‘09 June, 2007 | پاکستان ترقیاتی کام 520 ارب، دفاع 275 ارب09 June, 2007 | پاکستان ’اضافہ اونٹ کےمنہ میں زیرے کے برابر‘09 June, 2007 | پاکستان ’سرحد کا بجٹ عوام دوست ہوگا‘09 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||