’سرحد کا بجٹ عوام دوست ہوگا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے لیے صوبائی بجٹ کا حجم سو ارب روپے ہوگا جس میں اکتیس فیصد رقم ترقیاتی کاموں کے لیے مختص کی گئی ہے۔ صوبہ سرحد کے وزیر خزانہ شاراز خان نے پشاور میں صحافیوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ میں کسی قسم کا کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا اور حکومت اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے عوام دوست بجٹ پیش کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبہ سرحد حکومت کی مالی کارکردگی کافی بہتر ہوئی ہے اور عالمی بینک نے بھی اس کی کافی تعریف کی ہے۔ وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ بجٹ میں ترقیاتی کاموں کے لیے مجموعی بجٹ کا اکتیس فیصد یعنی اکتیس ارب روپے جبکہ غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے پچپن فیصد رقم مختض کی جائے گی۔ ان کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی پندرہ فیصد تک کا اضافہ کیا جائے گا اور اس کے علاوہ اساتذہ کے لیے ٹیچنگ الاؤنس کا اعلان بھی متوقع ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آئندہ مالی سال کے دوران صوبے کے مختلف علاقوں میں پانچ چھوٹے ڈیم تعمیر کیے جائیں گے اور زیادہ توجہ نئے منصوبوں کے بجائے صوبے میں جاری ترقیاتی کاموں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے پر مرکوز ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت عالمی بینک سے آسان شرائط پرقرضے حاصل کرکے اس کے ذمےمرکزی حکومت کے واجب الاداء قرضے ادا کرے گی۔ متحدہ مجلس عمل کی حکومت پر یہ تنقید کی جاتی رہی ہے کہ شریعت کے نفاد اور سودی نظام کے خاتمے کے نام پر لوگوں سے ووٹ حاصل کرنے کے باوجود اپنی چار سالہ دور اقتدار کے دوران وہ عالمی مالیاتی اداروں سے کم شرح سود پر قرضے وصول کررہی ہے اور اسےاپنا ایک بڑا کارنامہ قرار دی رہی ہے۔ صوبہ سرحد کی حکومت سولہ جون کو بجٹ پیش کرے گی۔ | اسی بارے میں سرحد بجٹ: دینی اساتذہ کو مراعات 17 June, 2006 | پاکستان سرحد میں خسارے کا بجٹ 19 June, 2005 | پاکستان وفاقی کابینہ سے بجٹ کی منظوری09 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||