ترقیاتی کام 520 ارب، دفاع 275 ارب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت نے یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال کے لیے تقریباً سولہ کھرب روپے کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے۔ اس برس کے بجٹ کا حجم گزشتہ برس کے مقابلے میں اکیس اعشاریہ سات فیصد زیادہ ہے۔ بجٹ تقریر میں وزیرِ مملکت برائے خزانہ عمر ایوب نے کہا کہ وہ تاریخ کا ایک بڑا بجٹ پیش کر رہے ہیں جس میں عوام کو بہت زیادہ ریلیف دیا گیا ہے۔ اس سے قبل وفاقی کابینہ نے یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال کے لیے 15 کھرب 99 ارب 61 کروڑ 10 لاکھ روپے کے بجٹ کی منظوری دی۔ اس بجٹ میں موجودہ اخراجات کے لیے 1056 ارب روپے اور ترقیاتی اخراجات کی مد میں 543 ارب رکھے گئے ہیں۔ اس سال ترقیاتی اخراجات کی مد میں 37.7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ نئے مالی سال کے بجٹ میں موجودہ اخراجات کا حصہ 66 فیصد ہے جبکہ پچھلے سال یہ اخراجات 72.4 فیصد تھے۔ نئے مالی سال میں دستیاب وسائل کا تخمینہ 1394 ارب روپے رکھا گیا ہے جبکہ گزشتہ مالی سال میں اس مد میں گیارہ سو ارب مختص کیےگئے تھے ۔ حکومت کی جانب سے شائع کردہ بجٹ کی تفصیلات کے مطابق دفاع کے لیے پونے تین سو ارب روپے جبکہ ملک بھر میں ترقیاتی کاموں کے لیے پانچ سو بیس ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔مالی سال 07 - 2006 میں دفاعی بجٹ کے لیے دو سو پچاس ارب روپے مختص کیے گئے تھے لیکن اس مد میں پونے تین سو ارب روپے خرچ ہوئے۔ جنرل پبلک سروس کی مد میں چھ سو اکتالیس ارب ستاسی کروڑ پچاس لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں جو موجودہ اخراجات کا ساٹھ اعشاریہ آٹھ فیصد ہیں۔ قرضہ جات اور ان پر سود کی ادائیگی کی مد کا نیا نام جنرل پبلک سروس رکھ دیا گیا ہے۔ نئے مالی سال کے بجٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ دس کھرب تیس ارب چون کروڑ ستر لاکھ روپے کی ٹیکس وصولی ہوگی اور نان ٹیکس ریونیو کی مد میں تین کھرب سینتیس ارب انسٹھ کروڑ تیس لاکھ روپے آمدن ہوگی۔ اعداد وشمار کے مطابق نئے مالی سال میں نقد ٹیکس کی وصولی کا ٹارگٹ نو سو دو ارب روپے رکھا گیا ہے جو گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں اٹھائیس فیصد زیادہ ہے۔ نئے بجٹ میں کہا گیا ہے کہ پچھہتر ارب روپے کی آمدنی نجکاری سے ہوگی، لیکن اس کے باوجود بھی خسارہ پورا کرنے کے لیے ایک کھرب تیس ارب ترانوے کروڑ ستر لاکھ روپے کا قرض لینا ہوگا۔ نئے مالی سال میں صوبوں کو چار کھرب پینسٹھ ارب چھیانوے کروڑ چالیس لاکھ روپے دیے جائیں گے۔ یہ رقم گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں35 ارب زیادہ ہے۔وفاق کے محاصل میں صوبائی حصہ 466 ارب روپے مختص کیا گیا ہے جو پچھلے مالی سال کی نسبت 23.2 فی صد زیادہ ہے۔
نائب وزیرِخزانہ نے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں پندرہ سے بیس فیصد اضافے کا اعلان کیا۔ انہوں نےگریڈ ایک سے گیارہ تک ملازمین کو اوپری گریڈز میں ترقی کا اعلان بھی کیا۔ حکومت نے بجلی، کھاد، آٹے اور دیگر اشیاء پر ایک کھرب تیرہ ارب روپوں سے زائد رقم کی سبسڈی یعنی رعایت تجویز کی ہے۔ لیکن نجی شعبے کے حوالے کیے گئے فوجی فرٹیلائیزر اور کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کو بیس ارب روپوں سے زائد کی سبسڈی بھی دی گئی ہے۔ بجٹ میں35 ارب روپے زلزلہ متاثرین کی بحالی اور تعمیرِنو کے ارادے ایرا کے لیے رکھے گئے ہیں۔ حزب مخالف کی جماعتیں اس حکومتی دعوے سے متفق نہیں ہیں کہ بجٹ ’ٹیکس فری‘ ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ البتہ اعداد وشمار کے ہیر پھیر سے ایسا تاثر دینے کی کوشش ضرور کی جائے گی۔ ان کے مطابق ہر دو ہفتوں بعد تیل، بجلی، گیس اور اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافہ کر کے سال بھر ’مِنی بجٹ‘ پیش کیے جاتے ہیں اور کئی باالواسطہ ٹیکس نافذ کر کے عوام کا خون چُوسا جاتا ہے۔ قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کیے جانے کے بعد سپیکر نے بجٹ پر بحث منگل تک ملتوی کر دی ہے جبکہ اس سے قبل بجٹ پیش کیے جانے کے موقع پر حزب مخالف نے ایوان میں کراچی میں بارہ مئی کی صورتحال کے بارے میں احتجاج کیا اور بعد میں بجٹ کارروائی کا واک آؤٹ کیا۔یاد رہے کہ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی قومی اسمبلی ہے جس میں مسلسل پانچ بجٹ پیش کیے گئے ہیں۔ | اسی بارے میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے08 June, 2007 | پاکستان پنجاب کو مالی بحران کا سامنا26 December, 2006 | پاکستان حکومت کے اضافی اخراجات پر ہنگامہ22 June, 2006 | پاکستان بلوچستان کا بجٹ، بھاری خسارہ20 June, 2006 | پاکستان سندھ وفاقی حکومت کا مقروض 16 June, 2006 | پاکستان پنجاب کے ارکان: جرنیلوں پر تنقید16 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||