BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 June, 2006, 11:24 GMT 16:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکومت کے اضافی اخراجات پر ہنگامہ

قومی اسمبلی
قومی اسمبلی نے بجٹ منظور کر دیا ہے
پاکستان کی قومی اسمبلی میں رواں مالی سال میں حکومت کی جانب سے منظور کردہ بجٹ سے زائد کیئے گئے اربوں روپے کے اخراجات کی منظوری کے موقع پر حزب اختلاف اور حکومت کے اراکین میں خاصی گرما گرمی اور تلخ کلامی ہوئی۔

ایوان میں پیپلز پارٹی کی خاتون رکن شیری رحمٰن نے جب حکومت پر مختلف وزارتوں کے لیے منطور کردہ بجٹ سے زائد رقم خرچ کرنے پر تنقید کی تو ایوان میں ہنگامہ ہوگیا۔

حکومتی رکن شیخ وقاص نے ان پر تنقید کی کہ آپ ایک طرف وزیراعظم سے مراعات لیتی ہیں اور دوسری طرف تنقید کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شیری نے اپنے شوہر کے لیے مائیکرو فنانس بینک کا لائیسنس حاصل کیا ہوا ہے۔

حکومت اضافی اخراجات
 حکومت کے اضافی اخراجات میں صدر جنرل پرویز مشرف کے سٹاف اور گھریلو اخراجات کی مد میں پونے دو کروڑ روپے، وزارت خارجہ کے دیگر اخراجات کے لیے دس کروڑ روپے، سپریم کورٹ کے پونے چار کروڑ روپے، دفاع کے لیے اٹھارہ ارب روپے کی منظوری کے مطالبات پیش کیئے ہیں۔

جس پر شیری رحمٰن اور شیخ وقاص کے درمیان بحث و تکرارا شدت تیز ہو گئی اور انہوں نے کہا کہ ان کے شوہر سمیت جس کسی نے بھی حکومت کے پاس درخواست دی تھی ان سب کی منظور ہوگئیں ہیں اور انہوں نے کبھی وزیراعظم سے اس بارے میں بات تک نہیں کی۔

یاد رہے کہ چند رو قبل شیری رحمٰن پر حکومتی رکن کشمالہ طارق نے وزیراعظم سے مراعات لینے کا الزام لگایا تھا اور قومی اسمبلی کی دونوں نمایاں نظر آنے والی خواتین میں بھی خاصی گرما گرمی ہوئی تھی۔

الزامات اور وضاحتوں کا سلسلہ جاری تھا کہ اس دوران مسلم لیگ نواز کے رکن خواجا سعد رفیق اور حکمران مسلم لیگ کے شیخ وقاص نے ایک دوسرے کو برا بھلا کہنا شروع کردیا اور دونوں ایک دوسرے کی طرف بڑھنے لگے تو ان کے حامیوں نے انہیں روک لیا۔

شیری رحمٰن نے جب بتیس مرسیڈیز گاڑیاں منگوانے اور حکومتی پروپیگنڈہ کے لیے کروڑوں روپے خرچ کرنے کی نشاندہی کی اور حکومت کے پیش کردہ اعداد وشمار پڑھتے ہوئے حکومت پر تنقید کی تو سپیکر چودھری امیر حسین نے ان کا مائیک بند کرادیا۔ جس پر ایوان میں شدید شور پڑ گیا اور دونوں جانب کے کئی اراکین ایک ساتھ بولتے رہے۔

سپیکر نے شیری رحمٰن سے کہا کہ ’شیری جب بھی بولتی ہیں ایوان کا ماحول خراب کرتیں ہیں اور ہنگامہ ہوتا ہے اور آپ ہمیشہ متنازعہ باتیں کرتی ہیں،۔

جس پر شیری رحمٰن نے کہا کہ وہ حکومت کے پیش کردہ اعداد وشمار پڑھ رہی ہیں کہ آخر عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے اربوں روپے حکمرانوں نے اپنے عیش و عشرت پر کیوں زائد خرچ کیئے ہیں۔

قبل ازیں جب پیپلز پارٹی کے رکن اعتزاز احسن نے کابینہ ڈویزن اور دفاع کے بجٹ میں بھی منظور کردہ حد سے اربوں روپے زائد خرچ کیئے جانے کا معاملہ اٹھایا تھا تو ان کی جہاز رانی کے متعلق وزیر بابر غوری سے تلخی ہوگئی۔

بابر غوری نے کہا کہ ضمنی مطالبات زر ماضی کی تمام حکومتیں پیش کرتی رہی ہیں اور یہ کوئی نئی بات نہیں۔ انہوں نے حزب مخالف پر الزام لگایا کہ وہ تنقید برائے تنقید ہی کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ حکومت نے یکم جولائی سے شروع ہونے والےنئے مالی سال کا بجٹ بدھ کی رات منظور کرالیا تھا اور اب تیس جون کو ختم ہونے والے رواں مالی سال کے دوران مختلف محکموں کی جانب سے منظور کردہ بجٹ سے زائد اخراجات کی منظوری کے لیے ضمنی مطالبات زر پیش کیئے ہیں۔

حکومت کے اضافی اخراجات میں صدر جنرل پرویز مشرف کے سٹاف اور گھریلو اخراجات کی مد میں پونے دو کروڑ روپے، وزارت خارجہ کے دیگر اخراجات کے لیے دس کروڑ روپے، سپریم کورٹ کے پونے چار کروڑ روپے، دفاع کے لیے اٹھارہ ارب روپے کی منظوری کے مطالبات پیش کیئے ہیں۔

حکومت کی طرف سے سینیٹ، تعلیم، صحت اور بیشتر وزارتوں کے اضافی اخراجات کے متعلق ایک سو ستائیس مطالبات زر جن کی مالیت دو سو ارب روپے سے زائد ہے قومی اسمبلی نے اکثریت رائے سے منظور کر لیئے ہیں۔ قومی اسمبلی کا اجلاس اب غیر معینہ مدت کے لیئے ملتوی کر دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
بجٹ: پچیس ارب کے ٹیکس
06 June, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد