BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 09 June, 2007, 16:19 GMT 21:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اضافہ اونٹ کےمنہ میں زیرے کے برابر‘

لیاقت عزیز
تنخواہوں میں کم سے کم پچاس فیصد اضافہ ہونا چاہیے تھا:لیاقت عزیز
وفاقی حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پندرہ فیصد اضافے کو ملازمین نے ناکافی اور توقعات کے خلاف قرار دیا ہے۔

سرکاری ملازمین کا کہنا ہے کہ تنخواہوں میں کم از کم پچاس فیصد اضافہ ہونا چاہیے تھا کیونکہ پہلے ہی مہنگائی آسمانوں سے باتیں کر رہی ہے۔

واپڈا ملازمین کی یونین کے رہمنا لطیف نظامانی کا کہنا ہے کہ تنخواہوں میں پندرہ فیصد اضافہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے اور کم سے کم پچاس فیصدہ اضافہ ہونا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا ’ہم تو سمجھ رہے تھے کہ کافی اضافہ کیا جائے گا لیکن گزشتہ سال بھی پندرہ فیصد اضافہ ہوا تھا اس سال بھی اتنا ہی اضافہ ہوا ہے‘۔

لطیف نظامانی کا کہنا ہے کہ’مہنگائی تقریباً دو سو فیصد بڑھ گئی ہے ، چیزوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور لوگوں کی قوتِ خرید کم ہوتی جا رہی ہے‘۔ ان کے مطابق اس بجٹ سے حکومت کے خلاف لوگوں میں مزید بے چینی پیدا ہو جائے گی۔

پہلے ہی مہنگائی آسمانوں سے باتیں کر رہی ہے: لطیف نظامانی

پاکستان ٹیلی کمیونیکشن ایمپلائیز یونین کے رہنما حاجی خان بھٹی کا کہنا ہے’مزدوروں پر جو بوجھ ہے انہیں اس پندرہ فیصد اضافے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ جو نجی ادارے ہیں ان کے ملازمین کی تنخواہوں میں تو پندرہ فیصد اضافہ نہیں ہوگا اور عام مزدور کی زندگی پر بھی اس سے کوئی خاص اثر نہیں پڑےگا اور جو جس عذاب میں مبتلا ہے اس وقت تک رہےگا جب تک یہ حکومت نہیں جاتی‘۔

سرکاری ملازمین میں اساتذہ کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہے جو بھی حکومتی اعلان سے ناخوش ہے۔ سندھ ٹیچرز الائنس کے رہنما لیاقت عزیز کا کہنا ہے کہ ’حکومت خود مانتی ہے کہ مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے اس لیے تنخواہوں میں کم سے کم پچاس فیصد اضافہ ہونا چاہیے تھا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ بجٹ سے کھانے پینے کی تمام چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، اب یوٹیلٹی بلز میں بھی مزید اضافہ کیا جائےگا اور دشواریاں بڑھ جائیں گی۔

موجودہ حکومت کی جانب سے چار مرتبہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کیا گیا مگر سرکاری ملازمین کا کہنا ہے کہ اس سے انہیں کوئی ریلیف نہیں ملا ہے ۔

اسی بارے میں
205 ارب روپے خسارے کا بجٹ
09 June, 2007 | پاکستان
پنجاب کو مالی بحران کا سامنا
26 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد