رفعت اللہ اورکزئی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | حال میں اس علاقے میں کئی حملےہوئے ہیں |
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں دو افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں میں ضلعی ناظم سوات کے والد اور سابق صوبائی وزیر شجاعت علی خان، انکے بیٹے اور خاندان کے دیگر خواتین شامل ہیں۔ ہپستال ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں دو کی حالت تشویش ناک بتائی جارہی ہے۔ سوات کے ضلعی رابطہ افسر سید جاوید علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ جمعہ کی شام مٹہ سب ڈویژن کے علاقے میں پیش آیا۔ ان کے مطابق ضلعی ناظم سوات جمال ناصر خان کے خاندان کے افراد دو گاڑیوں میں اپنے گھر جا رہے تھے کہ جورہ کے مقام پر سڑک کے کنارے ایک گاڑی میں نصب بم پھٹنے سے دوافراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والے راہگیر ہیں جبکہ زخمیوں میں ضلعی ناظم کے والد شجاعت علی خان، ان کے بھائی ناظم یونین کونسل ارکوٹ ملک احمد خان اور خواتین شامل ہیں۔ زخمیوں کو مینگورہ ہپستال پہنچا دیا گیا ہے۔ واقعہ کے فوری بعد اعلی حکام جائے وقوع پر پہنچے جبکہ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو چاروں اطراف سے گھیرے میں لیکر سڑک کچھ دیر کےلئے بند کردیا۔ عینی شاہدین کا کہنا کہ جس مشکوک گاڑی میں دھماکہ ہوا وہ صبح کے وقت سے سڑک کے کنارے کھڑی کی گئی تھی۔ مقامی لوگوں کے مطابق دھماکے میں تین گاڑیاں تباہ ہوگئی ہیں۔ سوات کے علاقے مٹہ میں پولیس اور سکیورٹی فورسز پر حملوں میں گزشتہ کچھ عرصہ سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ چند دن قبل بھی مٹہ کے علاقے میں دو پولیس چوکیوں کونشانہ بناکر دھماکوں سے اڑا دیا گیا تھا تاہم حملوں میں کوئی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا تھا۔ تقریباً تین ہفتے قبل مٹہ سب ڈویژن میں ہی ایک فوجی قافلے پر دو خودکش حملوں میں گیارہ فوجی جوانوں سمیت چودہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ |