BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 July, 2007, 10:02 GMT 15:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان: چھ ماہ میں انیس خودکش حملے

خود کش
اس برس خود کش حملوں میں 186 افراد ہلاک ہوئے ہیں
منگل کی شب اسلام آباد میں وکلاء کنونشن کے پنڈال کے قریب ہونے والا بم دھماکہ سال رواں کے دوران ملک میں ہونے والا انیسواں اور دارالحکومت میں ہونے والا تیسرا خودکش حملہ ہے۔

ان حملوں میں مجموعی طور پر 186 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں چھیالیس فوجی اور سکیورٹی اہلکاروں کے علاوہ ڈی آئی جی پولیس پشاور، کوئٹہ کے سول جج اور سات وکلاء بھی شامل ہیں۔

سنہ2007 کے پہلے ہی ماہ میں چار خود کش حملے ہوئے۔ پہلا خود کش حملہ بائیس جنوری کو شمالی وزیرستان کے شہر میر علی کے قریب فوجی گاڑیوں کے قافلے پر ہوا جس میں حملہ آور، چار فوجی اور ایک عورت ہلاک جبکہ تیئس زخمی ہوئے۔

اس حملے کے چار دن بعد 26 جنوری کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں میریٹ ہوٹل کے باہر خودکش حملے میں حملہ آور اور سکیورٹی گارڈ ہلاک جبکہ 5 لوگ زخمی ہوئے۔

 ان حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں چھیالیس فوجی اور سکیورٹی اہلکاروں کے علاوہ ڈی آئی جی پولیس پشاور، کوئٹہ کے سول جج اور سات وکلاء بھی شامل ہیں۔

ایک دن بعد ہی یعنی27 جنوری کو پشاور کے قصہ خوانی بازار میں ایک مسجد کے قریب خود کش حملہ ہوا جس میں ڈی آئی جی پولیس پشاور، ڈی ایس پی سمیت اور دو یونین کونسل ناظمین سمیت 13 افراد ہلاک اور 30 زخمی ہوئے۔

ماہ جنوری کا آخری خودکش حملہ انتیس جنوری کو صوبہ سرحد کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوا جس میں ایک مرتبہ پھر پولیس نشانہ بنی۔ پولیس چیک پوسٹ کے قریب ہونے والے خودکش حملے میں 2 پولیس اہلکار اور حملہ آور مارے گئے۔

فروری کے مہینے میں بھی خود کش حملوں کے تین واقعات پیش آئے۔ تین فروری کو صوبہ سرحد کے ضلع ٹانک کے علاقے بارہ خیل میں فوجی گاڑیوں کے قافلے پر خودکش حملہ ہوا جس میں حملہ آور اور دو فوجی مارے گئے۔تین دن بعد 6 فروری کو اسلام آباد ایئرپورٹ کے احاطے میں ایک اور خود کش حملہ ہوا جس میں صرف حملہ آور ہلاک ہوا جبکہ 3 سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔

سترہ فروری کو کوئٹہ میں ایک بڑا خود کش حملہ سینئر سول جج کی عدالت میں ہوا جس میں سول جج اور چھ وکلاء سمیت سترہ افراد ہلاک اور پینتیس زخمی ہوئے۔

آفتاب شیر پاؤ کے جلسے پر خودکش حملے میں31 افراد ہلاک ہوئے

اس کے بعد 29 مارچ کو صوبہ پنجاب کے علاقے کھاریاں میں فوجی چھاؤنی کے قریب فوجی تربیتی مرکز میں ہونے والے خودکش حملے میں دو فوجی اور حملہ آور مارے گئے جبکہ سات لوگ زخمی ہوئے۔

ماہ اپریل کی 28 تاریخ کو وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد شیرپاؤ کے حلقہ انتخاب چارسدہ میں ان کے جلسے میں خودکش حملہ ہوا جس میں کم سے کم 31 افراد ہلاک ہوئے جبکہ آفتاب شیرپاؤ اور ان کے بیٹے سکندر شیرپاؤ سمیت درجنوں زخمی ہوئے۔

مئی کے مہینے میں 15 تاریخ کو پشاور کے مرحبا ہوٹل میں خودکش دھماکہ ہوا جس میں 25 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں بیشتر افغان شہری تھے۔ 28 مئی کو صوبہ سرحد کے ہی ضلع بنوں میں فرنٹئر کانسٹیبلری کی ایک گاڑی سے خودکش حملہ آور نے اپنی گاڑی ٹکرادی جس سے حملہ آور اور دو اہلکار ہلاک ہوگئے۔

ڈی آئی خان میں پولیس بھرتی مرکز پر ہونے والے حملے میں چھ پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوئے

رواں ماہ جولائی خودکش حملوں کے حوالے سے مہلک ترین ثابت ہوا ہے جب اسلام آباد کی لال مسجد اور اس سے متصل جامعہ حفصہ کے خلاف آپریشن کے آغاز کے کچھ ہی دنوں بعد خودکش حملوں کا بظاہر نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔

چار جولائی کو قبائلی علاقے میران شاہ سے بنوں آنے والے ایک فوجی قافلے کو مبینہ خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں حکام کے مطابق چھ فوجیوں سمیت آٹھ افراد ہلاک اور بارہ زخمی ہوئے۔ دو دن بعد چھ جولائی کو صوبہ سرحد کی مالاکنڈ ایجنسی کے چکدرہ پل کے ساتھ ہونے والے خودکش حملے میں چار فوجیوں کو ہلاک جبکہ ایک کو زخمی کر دیا گیا۔

اس حملے کے چھ روز بعد یعنی بارہ جولائی کو ایک مبینہ خودکش بمبار نے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ میں قائم پولٹیکل ایجنٹ کے دفتر پر حملہ کردیا تھا جس میں دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہوگئے تھے۔ بارہ جولائی کو ہی صوبہ سرحد کے ضلع سوات کے صدر مقام مینگورہ میں گاڑی میں سوار دو مبینہ خوکش حملہ آوروں نے اس وقت خود کو دھماکے کے ساتھ اڑادیا جب فوجی قافلے کا پیچھا کرتے ہوئے پولیس نے ان کی گاڑی روکی اور تلاشی کے دوران گاڑی میں دھماکہ ہوا جس میں تین پولیس اہلکار اور دو حملہ آور ہلاک ہوگئے۔

دھماکوں میں چھیالیس فوجی اور سکیورٹی اہلکار مارے گئے

پندرہ جولائی کو صوبہ سرحد کے ضلع سوات اور ڈیرہ اسماعیل خان میں دو مختلف مبینہ خودکش حملوں میں گیارہ فوجیوں سمیت چالیس افراد ہلاک ہوئے۔ پہلا خودکش حملہ سوات کے علاقہ مٹہ میں پیش آیا تھا جس میں دو مبینہ خودکش حملہ آوروں نے فوجی قافلے کو نشانہ بنایا اور نتیجے میں تیرہ افراد ہلاک اور باون زخمی ہوگئے جبکہ دوسرے واقعے میں ڈی آئی خان میں پولیس بھرتی مرکز پر ہونے والے حملے میں چھ پولیس اہلکاروں سمیت ستائیس افراد ہلاک اور چالیس زخمی ہوئے۔

دو دن بعد سترہ جولائی کو قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی کھجوری چیک پوسٹ پر خود کش حملے میں دو فوجی اور خود کش حملہ آور سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے جبکہ تاحال سنہ 2007 کا آخری خود کش حملہ اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار میں ہونے والے وکلاء کنونشن کے پنڈال کے قریب ہوا جس میں سترہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

مٹہ سوات دھماکے’ہر طرف فائرنگ‘
مٹہ دھماکوں کا آنکھوں دیکھا حال
سرحد میں حملے
سوات اور ڈی آئی خان میں خود کش حملے
صوبہ سرحد میں نامعلوم نقاب پوش آپریشن کے بعد
لال مسجد آپریشن کے بعد حملوں کا سلسلہ
بم دھماکہرپورٹرزنے کیا دیکھا
’انسانی اعضا دور دور تک بکھرے ہوئے تھے‘
عینی شاہدینعینی شاہدین
’وہ جھلس چکے تھے اور بھاگ رہے تھے‘
جسٹس ریلی کے راستے میں دھماکہاسلام آباد دھماکہ
جسٹس ریلی پنڈال سے کچھ ہی دور
اسی بارے میں
دیر میں پولیس پر بم حملہ
17 July, 2007 | پاکستان
خودکش حملے، چالیس ہلاک
15 July, 2007 | پاکستان
سوات: فوجیوں سمیت14 ہلاک
15 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد