’ہر طرف سے فائرنگ ہو رہی تھی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوات کے صدر مقام مینگورہ سے پچیس کلومیٹر کے فاصلے پر فوجی قافلے پر ہونے والے دو خودکش حملوں اور ایک دھماکے میں فوجیوں سمیت ایک درجن سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ مٹہ کے ایک مقامی صحافی شرین زادہ نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر جائے وقوعہ کا آنکھوں دیکھا حال بتایا ہے۔اگر آپ یا آپ کا کوئی عزیز بھی علاقے میں موجود ہے تو آپ بھی ہمیں دھماکوں اور ان کے بعد کا آنکھوں دیکھا حال بھیج سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے آپ صفحہ کے بائیں جانب دیا ہوا ای میل فارم استعمال کر سکتے ہیں۔ اس فارم کے ذریعے آپ رابطے کے لیے اپنا ٹیلی فون نمبر بھی بھجوا سکتے ہیں۔
’’ جب میں جائے وقوعہ پہنچا تو ہر طرف سے فائرنگ ہو رہی تھی اور کچھ معلوم نہیں ہو رہا تھا کہ کون کس پر فائرنگ کر رہا ہے۔ ہر طرف افراتفری اور چیخ و پکار تھی۔ سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی بھاری ہتھیاروں سے قریبی گھروں کو نشانہ بنا رہے تھے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے میدان جنگ ہوں۔ میرے ساتھ ایک اور صحافی بھی تھا۔ ہم دونوں پر بھی فوجی جوانوں نے بندوقیں تان لیں تاہم میں نے ان کی طرف کیمرہ ہلایا کہ ہم صحافی ہیں جس کے بعد ہم نے وہاں سے بھاگ کرایک قریبی بلڈنگ میں پناہ لی۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ انہوں نے گولی نہیں چلائی ورنہ اس وقت سب کچھ ممکن تھا۔ تقریباً چھ سے سات گاڑیوں کا ایک فوجی قافلہ کابل گاؤں سے مٹہ آ رہا تھا جس میں فوجی جوان سوار تھے اور ان کے آگے ایک پولیس کی گاڑی بھی تھی۔ یہ قافلہ جب کراچی اڈہ کے سامنے پہنچا تو ان کے ساتھ دو کار ٹکرائیں جس میں خودکش حملہ سوا ر تھے جبکہ تھوڑی دیر بعددھماکہ خیز مواد پھٹنے سے بھی ایک دھماکہ ہوا جو سڑک کے کنارے نصب کیا گیا تھا۔ یہ دھماکے اتنے اچانک ہوئے کہ سکیورٹی فورسز کو سنبھلنے کا موقع نہیں مل سکا اور انہوں نے مزید حملوں سے بچنے کےلئے اردگرد کی آبادی پر فائرنگ شروع کردی ۔’ حملوں سے سڑک کے کنارے ایک درجن گھراور دوکانیں بھی تباہ ہوئی ہیں جس میں چار عام شہری بھی مارے گئے ۔ ہلاکتوں کی تعداد چودہ سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔‘‘ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||