ہارون رشید بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | حیدرآباد دھماکوں میں چالیس سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں |
پاکستان نے بھارت سے کہا ہے کہ وہ حیدرآباد دکن میں ہونے والے بم دھماکوں کی تحقیقات مکمل ہونے سے قبل الزامات لگانے سے گریز کرے۔ یہ بات وزارت خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے پیر کے روز بریفنگ کے دوران صحافیوں کو بتائی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ خود پاکستان کا شمار دہشت گردی کے شکار ممالک میں ہوتا ہے۔ وزارت خارجہ میں منعقد اس ہفتہ وار بریفنگ میں تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ حیدرآباد بم دھماکے ہر اعتبار سے قابل مذمت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی اعلی قیادت کی جانب سے سرکاری طور پر پاکستان پر الزام سے متعلق کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ بھارت کی ریاست آندھرا پردیش کے دارالحکومت حیدر آباد میں سنیچر کی شام بم دھماکوں میں چالیس سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس واقعہ کی ذمہ داری ریاستی وزیراعلی نے بنگلہ دیش میں واقع تنظیموں اور پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر ڈالی تھی۔ ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے بتایا کہ لائن آف کنٹرول پر تجارت جلد شروع ہونے کی توقع ہے۔ اس امید کی وجہ بقول ان کے دونوں ممالک کے درمیان اس بابت جاری مذاکرات ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ ڈیورنڈ لائن کا اب کوئی مسئلہ نہیں رہا ہے۔ انہوں نے امریکہ اور طالبان کے درمیان افغانستان میں مذاکرات کے بارے میں افواہوں کے بارے میں بھی لاعلمی کا اظہار کیا۔ ’ہمیں اس کے بارے میں کچھ علم نہیں اور نہ ہم ان کا حصہ ہیں۔‘ |