BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 26 August, 2007, 11:57 GMT 16:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈیا میں حالیہ دھماکے اور حقیقت

News image
 میڈیا میں یہ رائے قائم کی جارہی ہے کہ حیدر آباد دھماکے ’سائبر سٹی‘ کے نام سے مشہور اس شہر کو نقصان پہنچانے کے مقصد سے کیے گئے ہیں
سنیچر کی شام حیدرآباد میں دو مختلف مقامات پر بم دھماکے ہوئے جس میں چالیس افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔ اس وقت میڈیا میں یہ رائے قائم کی جارہی ہے کہ یہ دھماکہ ’سائبر سٹی‘ کے نام سے مشہور اس شہر کو نقصان پہنچانے کے مقصد سے کیا گيا ہے۔ تاہم یہ دھماکے ایک ایسے وقت ہوئے ہیں جب ملک کی سیاسی صورت حال بحران کا شکار ہے۔

حالیہ برسوں میں ہندوستان کی جمہوریت کو دو چیزیں تقریباً بیک وقت ملی ہیں جہاں چوبیس جولائی انیس سو اکانوے کو ملک نے اقتصادی اصلاحات کا عمل شروع کیا تو دوسری جانب انیس سو ترانوے میں اقتصادی شہر ممبئی میں سلسلہ وار بم دھماکوں کا جوسلسلہ شروع ہوا وہ پورے ملک میں پھیل گيا اور اس میں مزید شدت آتی گئی۔ ماضی کے برعکس حال میں ہونے والے دھماکوں کی نوعیت مختلف ہے۔

ایسا نہیں کہ ممبئی بم دھماکوں سے پہلے ملک میں بم دھماکے نہیں ہوئے ہوں اور اس سے کسی کا جانی نقصان نہیں ہوا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کو ایک بم دھماکے میں ہی اپنی جان گنوانی پڑی تھی۔

فائل فوٹو
1993میں ممبئی میں سلسلہ وار بم دھماکوں کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ پورے ملک میں پھیل گيا

بحرحال انیس سو ترانوے میں ممبئی دھماکوں سے جو ملک میں بم دھماکے کا سلسلہ شروع ہوا اور ان پندرہ سالوں کی مدت میں ملک کے اندر متعدد دھماکے ہوئے، ان میں ایک بات مشترک ہے کہ چاہے ان سبھی دھماکوں کا مقام مسجد، مندر، قبرستان یا پرہجوم بازار رہا ہو ان کی ذمہ داری کسی مسلم شدت پسند گروپ کے ماتھے پر ہی آئی۔ ہر بار ملک کی انٹیلیجنس ایجنسیاں دھماکے کے بعد حرکت میں آئیں۔ عوام ان دھماکے کے پیچھے کی حقیقت کبھی جان نہیں پاتے جبکہ ملک کا ایک طبقہ ان دھماکوں کے سبب انتہائی مشکل حالات میں زندگی بسرکرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔

مبصرین اور ملکی ذرائع ابلاغ بھی اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ حالیہ دھماکوں کے پیچھے صرف امن و امان کو خراب کرنا اور نفرت پیدا کرنا مقصود نہیں ہوتا بلکہ دیگر مضمرات بھی شامل حال ہوتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں کے ذریعے ملک کی معیشت کو نقصان پہنچانا بھی ہوتا ہے۔ اس لیے اقتصادی طور پر مضبوط شہروں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اس سے پہلے بنگلور کے انڈین انسٹیٹیوٹ آف سائنس کے احاطے میں شدت پسند حملہ بھی اس کی ایک مثال ہے۔

فائل فوٹو
اٹھارہ مئی دو ہزار سات کو حیدرآباد کی تاریخی مکہ مسجد میں دھماکہ ہوا

سب جانتے ہیں کہ ممبئی ہندوستان کا اقتصادی شہر ہے اور گزشتہ پندرہ برس میں یہاں تین بڑے دھماکے ہوئے ہیں جبکہ حیدرآباد ’نئے انڈیا‘ کا اصل ترجمان بنتا جارہا ہے اور اس شہر کو ملک کا ’سائبر سٹی‘ کہا جانے لگا ہے۔ اس شہر میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے پندرہ صنعتی مراکز ہیں تو دووسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ اس شہر کے مسلمان ہندوستان کے دیگر شہروں کے مسلمانوں سے زیادہ خواندہ یا بہتر اقتصادی حالت میں ہیں۔

گزشتہ چند برسوں میں ہونے والے بم دھماکوں کا ذکر یہاں کرنا ضروری ہے۔

اٹھارہ مئی دو ہزار سات کو حیدرآباد کی تاریخی مکہ مسجد میں دھماکہ ہوا اور یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب لوگ جمعہ کی نماز ادا کرکے واپس جارہے تھے۔ ان دھماکوں میں کم از کم چودہ افراد ہلاک ہوئے۔ بعد میں مسلمانوں نے انصاف کے لیے احتجاج کیا تو پولیس نے گولیاں برسائیں اور پانچ مزید جانیں چلی گئیں۔

آٹھ ستمبر دو ہزار چھ کو لوم صنعت کے لیے مشہور شہر مالیگاؤں میں دو مقامات پر بم دھماکے ہوئے جن میں تینتالیس افراد ہلاک جبکہ سو سے زائد افراد زخمی ہو‏ئے۔ مسلم اکثریت والے اس شہر میں بحرحال کوئی ہندو مسلم فساد نہیں ہوا تاہم اس کا اثر یہ ہوا کہ بلدیاتی انتخاب میں کانگریس کو شکست کا سامنا کرناپڑا۔

فائل فوٹو
سات جولائی کو ممبئی لوکل ٹرینوں میں ہونے والے دھماکوں میں سینکڑوں زخمی ہوئے

سات جولائی دوہزار چھ میں ممبئی کی لوکل ٹرینوں میں سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے اور چند گھنٹوں کے لیے شہر کو خاموش کردیا گیا لیکن اس طرح کے دھماکوں اور زبردست فسادات کی آگ میں جل چکے اس شہر کی رفتار میں کوئی کمی نہیں آئی اور کہا گيا کہ اب شہر کو کسی کی بد دعا نہیں لگ سکتی۔ بحرحال ان دھماکوں میں ایک سو تراسی افراد کو اپنی جانی گنوانی پڑی اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔

اٹھارہ مئی دوہزار چھ کو دلی کی تاریخی جامع مسجد میں دھماکہ ہوا جس میں کوئی ہلاک نہیں ہوا۔ حساس سمجھے جانے والے اس فیصل بند شہر میں واقع اس مسجد کے میناروں سے جب دھماکہ کے فورا بعد امن کی اپیل کی گئی تو کہا گيا کہ اب ملک میں ہندو اور مسلمانوں کے درمیان رشتے مضبوط ہو رہے ہیں کیونکہ یہ واقعہ بنارس بم دھماکوں کے بعد پیش آيا تھا۔

سات مارچ دو ہزار چھ کو ہندوؤں کے مقدس شہر بنارس کے سنکٹ موچن مندر اور ریلوے سٹیشن پر دھماکہ ہوا۔ ہندو مسلم فسادات کے لیے بدنام اس شہر میں بھی ہندو مسلم خیر سگالی جذبے کو دھچکا نہیں لگا لیکن یہ بات بھی قابل امر ہے کہ بنارس جہاں ہندوؤں کا مقدس شہر ہے تو اس شہر میں مسلمان اقتصادی طور پر مستحکم ہیں۔ بحرحال ان دھماکوں میں کم از کم چودہ افراد ہلاک ہوئے لیکن دھماکوں کے بعد شاید پہلی باراس شہر کے ہندوؤں اور مسلمانوں نے مشترکہ طور پر دھماکوں کی مذمت کی اور سنکٹ موچن مندر کے پجاری نے دھماکوں کے دوسرے دن ایک بڑے ہندو رہنما کو مندر میں آنے سے روک دیا۔

فائل فوٹو
بنارس دھماکوں کے باوجود ہندو مسلم خیر سگالی جذبے کو دھچکا نہیں پہنچا (فائل فوٹو)

انتیس اکتوبر دو ہزار پانچ کو دیوالی اور عید کے موقع پر دلی کے دو مصروف بازاروں سمیت تین مقامات پر دھماکے ہوئے جن میں باسٹھ افراد ہلاک ہوگئے لیکن ان دھماکوں کے بعد بھی شہر اپنی رفتار سے چلتا رہا اور کوئي ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

اگست دو ہزار تین میں ممبئی میں ایک اور دھماکہ ہوا جس میں ترپن افراد ہلاک ہوئے۔ شہر کو اس طرح دھماکوں کی عادت ہے لیکن اب شہر سنبھل چکاہے، اس لیے اس شہر کے افراد نے نقص امن کے دامن کو نہیں توڑا۔

لیکن یہ بات اہم ہے کہ گزشتہ چند سال میں ہونے والے دھماکوں کے بعد کسی بھی شہر میں ہندو مسلم فسادات نہیں ہوئے جبکہ اس سے قبل ایسے واقعات عام تھے۔ اس کی بدترین مثال گودھرا ٹرین میں آتشزنی کے بعد گجر ات میں ہونے والے مسلم کش فسادات ہیں۔ پھر بھی یہ سوال اہم ہے کہ دھماکے کرنے والے قانون کی گرفت سے دور ہیں اور شاید حکومت ان مجرموں کو پکڑنے میں عوام کی نظر میں ناکام ثابت ہو رہی ہو۔

ممبئی دھماکوں کی برسی11 جولائی 2006
ممبئی میں ٹرین دھماکوں کی پہلی برسی
پاک انڈیا ٹرین المیہ
حساس ٹرین کی سکیورٹی پر سمجھوتہ کیوں؟
شعیب’مکہ مسجد دھماکہ‘
شعیب قصوروار یا نعیم شیخ سے تعلق کی سزا
فائل فوٹوممبئی بم دھماکے
ممبئی کے دھماکوں میں نو ملزمان مجرم ثابت
ذمہ دار کون؟
ممبئی دھماکوں کے پیچھے کون ہو سکتا ہے؟
مالیگاؤں دھماکے
میں زخمی کا نام نہ پوچھ پایا: ایک عینی شاہد
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد