انڈیا میں حالیہ دھماکے اور حقیقت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حالیہ برسوں میں ہندوستان کی جمہوریت کو دو چیزیں تقریباً بیک وقت ملی ہیں جہاں چوبیس جولائی انیس سو اکانوے کو ملک نے اقتصادی اصلاحات کا عمل شروع کیا تو دوسری جانب انیس سو ترانوے میں اقتصادی شہر ممبئی میں سلسلہ وار بم دھماکوں کا جوسلسلہ شروع ہوا وہ پورے ملک میں پھیل گيا اور اس میں مزید شدت آتی گئی۔ ماضی کے برعکس حال میں ہونے والے دھماکوں کی نوعیت مختلف ہے۔ ایسا نہیں کہ ممبئی بم دھماکوں سے پہلے ملک میں بم دھماکے نہیں ہوئے ہوں اور اس سے کسی کا جانی نقصان نہیں ہوا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کو ایک بم دھماکے میں ہی اپنی جان گنوانی پڑی تھی۔
بحرحال انیس سو ترانوے میں ممبئی دھماکوں سے جو ملک میں بم دھماکے کا سلسلہ شروع ہوا اور ان پندرہ سالوں کی مدت میں ملک کے اندر متعدد دھماکے ہوئے، ان میں ایک بات مشترک ہے کہ چاہے ان سبھی دھماکوں کا مقام مسجد، مندر، قبرستان یا پرہجوم بازار رہا ہو ان کی ذمہ داری کسی مسلم شدت پسند گروپ کے ماتھے پر ہی آئی۔ ہر بار ملک کی انٹیلیجنس ایجنسیاں دھماکے کے بعد حرکت میں آئیں۔ عوام ان دھماکے کے پیچھے کی حقیقت کبھی جان نہیں پاتے جبکہ ملک کا ایک طبقہ ان دھماکوں کے سبب انتہائی مشکل حالات میں زندگی بسرکرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ مبصرین اور ملکی ذرائع ابلاغ بھی اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ حالیہ دھماکوں کے پیچھے صرف امن و امان کو خراب کرنا اور نفرت پیدا کرنا مقصود نہیں ہوتا بلکہ دیگر مضمرات بھی شامل حال ہوتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں کے ذریعے ملک کی معیشت کو نقصان پہنچانا بھی ہوتا ہے۔ اس لیے اقتصادی طور پر مضبوط شہروں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اس سے پہلے بنگلور کے انڈین انسٹیٹیوٹ آف سائنس کے احاطے میں شدت پسند حملہ بھی اس کی ایک مثال ہے۔
سب جانتے ہیں کہ ممبئی ہندوستان کا اقتصادی شہر ہے اور گزشتہ پندرہ برس میں یہاں تین بڑے دھماکے ہوئے ہیں جبکہ حیدرآباد ’نئے انڈیا‘ کا اصل ترجمان بنتا جارہا ہے اور اس شہر کو ملک کا ’سائبر سٹی‘ کہا جانے لگا ہے۔ اس شہر میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے پندرہ صنعتی مراکز ہیں تو دووسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ اس شہر کے مسلمان ہندوستان کے دیگر شہروں کے مسلمانوں سے زیادہ خواندہ یا بہتر اقتصادی حالت میں ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں ہونے والے بم دھماکوں کا ذکر یہاں کرنا ضروری ہے۔ اٹھارہ مئی دو ہزار سات کو حیدرآباد کی تاریخی مکہ مسجد میں دھماکہ ہوا اور یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب لوگ جمعہ کی نماز ادا کرکے واپس جارہے تھے۔ ان دھماکوں میں کم از کم چودہ افراد ہلاک ہوئے۔ بعد میں مسلمانوں نے انصاف کے لیے احتجاج کیا تو پولیس نے گولیاں برسائیں اور پانچ مزید جانیں چلی گئیں۔ آٹھ ستمبر دو ہزار چھ کو لوم صنعت کے لیے مشہور شہر مالیگاؤں میں دو مقامات پر بم دھماکے ہوئے جن میں تینتالیس افراد ہلاک جبکہ سو سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ مسلم اکثریت والے اس شہر میں بحرحال کوئی ہندو مسلم فساد نہیں ہوا تاہم اس کا اثر یہ ہوا کہ بلدیاتی انتخاب میں کانگریس کو شکست کا سامنا کرناپڑا۔
سات جولائی دوہزار چھ میں ممبئی کی لوکل ٹرینوں میں سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے اور چند گھنٹوں کے لیے شہر کو خاموش کردیا گیا لیکن اس طرح کے دھماکوں اور زبردست فسادات کی آگ میں جل چکے اس شہر کی رفتار میں کوئی کمی نہیں آئی اور کہا گيا کہ اب شہر کو کسی کی بد دعا نہیں لگ سکتی۔ بحرحال ان دھماکوں میں ایک سو تراسی افراد کو اپنی جانی گنوانی پڑی اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ اٹھارہ مئی دوہزار چھ کو دلی کی تاریخی جامع مسجد میں دھماکہ ہوا جس میں کوئی ہلاک نہیں ہوا۔ حساس سمجھے جانے والے اس فیصل بند شہر میں واقع اس مسجد کے میناروں سے جب دھماکہ کے فورا بعد امن کی اپیل کی گئی تو کہا گيا کہ اب ملک میں ہندو اور مسلمانوں کے درمیان رشتے مضبوط ہو رہے ہیں کیونکہ یہ واقعہ بنارس بم دھماکوں کے بعد پیش آيا تھا۔ سات مارچ دو ہزار چھ کو ہندوؤں کے مقدس شہر بنارس کے سنکٹ موچن مندر اور ریلوے سٹیشن پر دھماکہ ہوا۔ ہندو مسلم فسادات کے لیے بدنام اس شہر میں بھی ہندو مسلم خیر سگالی جذبے کو دھچکا نہیں لگا لیکن یہ بات بھی قابل امر ہے کہ بنارس جہاں ہندوؤں کا مقدس شہر ہے تو اس شہر میں مسلمان اقتصادی طور پر مستحکم ہیں۔ بحرحال ان دھماکوں میں کم از کم چودہ افراد ہلاک ہوئے لیکن دھماکوں کے بعد شاید پہلی باراس شہر کے ہندوؤں اور مسلمانوں نے مشترکہ طور پر دھماکوں کی مذمت کی اور سنکٹ موچن مندر کے پجاری نے دھماکوں کے دوسرے دن ایک بڑے ہندو رہنما کو مندر میں آنے سے روک دیا۔
انتیس اکتوبر دو ہزار پانچ کو دیوالی اور عید کے موقع پر دلی کے دو مصروف بازاروں سمیت تین مقامات پر دھماکے ہوئے جن میں باسٹھ افراد ہلاک ہوگئے لیکن ان دھماکوں کے بعد بھی شہر اپنی رفتار سے چلتا رہا اور کوئي ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ اگست دو ہزار تین میں ممبئی میں ایک اور دھماکہ ہوا جس میں ترپن افراد ہلاک ہوئے۔ شہر کو اس طرح دھماکوں کی عادت ہے لیکن اب شہر سنبھل چکاہے، اس لیے اس شہر کے افراد نے نقص امن کے دامن کو نہیں توڑا۔ لیکن یہ بات اہم ہے کہ گزشتہ چند سال میں ہونے والے دھماکوں کے بعد کسی بھی شہر میں ہندو مسلم فسادات نہیں ہوئے جبکہ اس سے قبل ایسے واقعات عام تھے۔ اس کی بدترین مثال گودھرا ٹرین میں آتشزنی کے بعد گجر ات میں ہونے والے مسلم کش فسادات ہیں۔ پھر بھی یہ سوال اہم ہے کہ دھماکے کرنے والے قانون کی گرفت سے دور ہیں اور شاید حکومت ان مجرموں کو پکڑنے میں عوام کی نظر میں ناکام ثابت ہو رہی ہو۔ |
اسی بارے میں 93 ممبئی دھماکے: مزید چھ کو سزا22 May, 2007 | انڈیا مسجد میں دھماکہ، چودہ افراد ہلاک18 May, 2007 | انڈیا بنارس کے بڑے مندر میں دھماکہ07 March, 2006 | انڈیا مالیگاؤں دھماکے:37 ہلاک، سو زخمی08 September, 2006 | انڈیا دلی: جامع مسجد میں دھماکے14 April, 2006 | انڈیا حیدرآباد دھماکے، تحقیقات شروع26 August, 2007 | انڈیا لواحقین سراپا انتظار مگر لاشوں کی شناخت دشوار20 February, 2007 | انڈیا حیدرآباد دکن میں دھماکے، 30 ہلاک25 August, 2007 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||