BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 22 May, 2007, 08:55 GMT 13:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
93 ممبئی دھماکے: مزید چھ کو سزا

1993 بم دھماکے (فائل فوٹو)
1993 کے ممبئی دھماکوں میں 257 افراد ہلاک ہوئے تھے (فائل فوٹو)
انیس سوترانوے بمبئی بم دھماکوں کی خصوصی عدالت نے منگل کو سب انسپکٹر وجے پاٹل کو عمر قید اور دو لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی ہے۔

ان کے علاوہ جج پی ڈی کوڈے نے مزید چھ مجرموں کو بھی چھ اور سات سال کی سزا سنائی ہے۔ ان پر پاکستان جا کر اسلحہ کی تربیت حاصل کرنے اور پاکستان اور دبئی میں بم دھماکوں کی سازش کے لیے ہونے والی میٹنگ میں حصہ لینے کا جرم ثابت ہوا تھا۔

عدالت نے منگل کو پہلے سب انسپکٹر وجے پاٹل کو سزا سنائی۔ ان پر بم دھماکوں کی سازش اور دہشت گرد سرگرمیوں میں مدد فراہم کرنے کا جرم ثابت ہوا تھا۔

مجرم پاٹل نے نو جنوری کو رائے گڑھ میں دیگھی ساحل اور تین اور نو فروری کو شیکھاڑی ساحل سے اسلحہ اور دھماکہ خیز اشیاء کو ساحل پر اتارنے میں مدد فراہم کی اور ٹرکوں کے ذریعہ ان اشیاء کو وہاں سے لے جانے کی اجازت دی تھی۔ اس کے بدلے پاٹل نے ساٹھ لاکھ روپے رشوت لی تھی۔ پاٹل سری وردھن پولیس سٹیشن کے انچارج تھے۔

جج نے پاٹل کو سزا سناتے ہوئے کہا:’حکومت جنہیں عوام کی حفاظت کی ذمہ داری دیتی ہے،اس کا غلط فائدہ اٹھا کر اپنے ذاتی مفاد کے لیے رشوت لے کر دہشت گرد سرگرمیوں میں مدد کرنا ناقابل معافی جرم ہے۔ یہ ایک سنگین جرم ہے اور سماج میں اس سے ایک غلط پیغام جاتا ہے اس لیے مجرم کو سخت سزا دے کر دیگر سرکاری ملازمین کے لیے عدالت ایک سبق دینا چاہتی ہے‘۔

جج کا کہنا تھا کہ مجرم پر دو جرم ثابت ہوئے ہیں اور اس لیے ان پر ہر جرم کے لیے ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔ پاٹل کو دو لاکھ روپے جرمانہ دینا ہوگا اور عدم ادائیگی پر انہیں تین سال مزید قید بامشقت کی سزا ہو گی۔

1993 میں سلسلہ وار بارہ بم دھماکے ہوئے تھے (فائل فوٹو)

اس سے قبل عدالت نے پیر کو چار سپاہیوں کو تین سال قید کی سزا سنائی تھی۔ مجرم پاٹل نے گرفتاری کے بعد سے پانچ سال سات ماہ آٹھ دن کی سزا کاٹی ہے۔

عدالت نے اس کے علاوہ ایک اور اہم فیصلہ سنایا جس میں چھ مجرموں کو پاکستان جا کر اسلحہ کی تربیت لینے اور پاکستان اور دبئی میں بم دھماکہ کی سازش کے لیے ہونے والی میٹنگ میں حصہ لینے کا مجرم قرار دیا۔

مجرم شیخ ابراہیم حسین، محمد اسحق، محمد رفیق شیخ، گل محمد شیخ اور عثمان جان خان کو عدالت نے چھ سال قید با مشقت اور تیس ہزار روپے جرمانہ کی سزا دی جبکہ ایک اور مجرم محمد رفیق شیخ کو سات سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔ ان میں سے بیشتر مجرم چار سال سے زائد سزا کاٹ چکے ہیں۔

فائل فوٹو’نئی زندگی مل گئی‘
1993 بم دھماکوں کے رہا ہونے والے ملزم
فائل فوٹوممبئی بم دھماکے
ممبئی کے دھماکوں میں نو ملزمان مجرم ثابت
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد