ممبئی دھماکے: سزاوں کا اعلان کل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انیس سو ترانوے بم دھماکوں کے مجرموں کو ٹاڈا کی خصوصی عدالت بدھ سے سزا کی مدت پر فیصلہ سنانا شروع کر ری ہے۔ جج پرمود دتاتریہ کوڈے نے فلم سٹار سنجے دت سمیت سو مجرموں کو عدالت میں حاضر رہنے کا حکم دیا ہے۔ جج نے ان تئیس ملزمان کو بھی حاضر رہنے کا حکم دیا ہے جنہیں بری کر دیا گیا ہے کیونکہ ان کے بری ہونے کا باضاطہ اعلان عدالت میں کیا جائے گا۔ بارہ مارچ انیس سو ترانوے کو ممبئی شہر میں بارہ سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے تھے جن میں 258 افراد کی موت واقع ہو گئی تھی۔ اس واقعے میں ایک ہزار کے قریب افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ تقریبا چودہ سال تک ایک سو تئیس ملزمان پر طویل مقدمہ چلا جس میں سے جج نے تین خواتین سمیت سوافراد کو مجرم قرار دیا۔ جج پی ڈی کوڈے نے سو مجرموں میں سے 48 کو بم دھماکہ کی سازش رچنے کا مجرم قرار دیا ہے۔ان میں سے بارہ مجرموں کو شہر کے مختلف مقامات پر بم نصب کرنے کا قصوروار قرار دیا گیا۔ سولہ مجرموں پر پاکستان جا کر تربیت لینے کا جرم ثابت ہوا۔ تیرہ ایسے مجرموں تھے جن کے پاس اسلحہ تھا اور عدالت نے انہیں ٹاڈا قانون کے تحت مجرم پایاہے۔البتہ چار مجرموں جن کے پاس اسلحے تھے انہیں ٹاڈا سے بری کر کےمجرموں کو صرف اسلحہ قانون کے تحت قصوار ٹھہرایا ہے۔ سات ایسے مجرم تھے جنہیں اسلحہ اور ٹاڈا دونوں کا مجرم پایاگیا ہے۔ دس ملزموں کوجرم پر اکسانے کا قصورار قرار دیا گیا۔ آٹھ پولیس والوں کے خلاف بھی مقدمہ چلا اور عدالت نے ان میں سے پانچ کو قصوروار پایا گیا اور تین کو بری کر دیا گیا۔ پانچ کسٹم افسران کوبھی عدالت نے قصوروار پایا۔ فلم سٹار سنجے دت بھی اس کیس کے ملزم تھے عدالت نے انہیں ٹاڈا جیسے سخت قانون سے بری کر دیا لیکن وہ اسلحہ قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے۔ سنجے نے عدالت میں ’پروبیشن آف اوفینڈرز ایکٹ‘ کے تحت رحم کی اپیل کی تھی۔
ان کے وکلاء کا کہنا تھا کہ سنجے نے کسی غلط مقصد کے تحت اے کے 56 رائفل نہیں رکھی تھی اور یہ کہ انہوں نے اس کا غلط استعمال بھی نہیں کیا تھا اس لیے عدالت انہیں خطرناک مجرموں کے درمیان رکھنے کے بجائے بری کر دے اور ایک افسر مقرر کیا جائے جو ان کے اخلاق کی نگرانی کرے۔ مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی کے وکیل اجول نکم نے اس کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ سنجے اس وقت بالغ تھے اور وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ اے کے 56 رکھنے کا کیا مقصد تھا۔ عدالت سنجے دت کی قسمت کا بھی فیصلہ کرے گی۔ سی بی آئی کے وکیل اجول نکم نے بم دھماکہ کی سازش میں ملوث مجرموں اور بم نصب کرنے والے مجرموں سمیت چوالیس کو پھانسی کی سزا دینے کا مطالبہ کیا لیکن ان میں سے تین کے لیے ہمدردی ظاہر کی۔ کسٹم افسر تھاپا جن کی نگرانی میں اسلحہ رائے گڑھ کے ساحل پر اترا تھا، انہیں جان لیوا بیماری ہے، امتیاز گاؤٹے جن پر زویری بازار میں سکوٹر پر بم نصب کرنے کا جرم ثابت ہوا وہ ہمیشہ بیمار رہتے ہیں اور میمن خاندان کی روبینہ سلیمان جن پر الزام تھا کہ ان کی گاڑی میں اسلحہ سمگل کیا گیا تھا۔ عدالت نے میمن خاندان کے چار افراد کو مجرم قرار دیا۔اس کیس کے اہم ملزم ٹائیگر میمن کے بھائی یعقوب میمن کو مجرم قرار دیاہے لیکن ان کی بیوی راحین کو بری کر دیا۔ سلیمان میمن کو عدالت نے بری کر دیا لیکن ان کی بیوی روبینہ کو مجرم قرار دیا۔عیسی میمن اور یوسف میمن کو بھی عدالت نے قصوروار قرار دیا ہے۔ البتہ ٹائیگر میمن کی ستر سالہ والدہ کو عدالت نے بری کر دیا۔ اس مقدمہ کے دوران ٹائیگر کے والد کی موت واقع ہو گئی تھی۔ بارہ مارچ کے بم دھماکہ ممبئی کی تاریخ میں اپنی نوعیت کے پہلے بم دھماکے تھے جن سے ممبئی لرز اٹھا تھا۔ ٹاڈا عدالت اور سری کرشنا کمیشن رپورٹ نے قبول کیا کہ یہ دھماکے بابری مسجد کے انہدام اور اس کے بعد پھوٹ پڑنے والے فسادات کے ردعمل کے طور پر ہوئے تھے۔ | اسی بارے میں ممبئی1993: سزائے موت کا مطالبہ15 February, 2007 | انڈیا 1993 دھماکے: ملزم فاروق پاؤلے مجرم 09 October, 2006 | انڈیا ممبئی: میمن فیملی کے چار ارکان مجرم12 September, 2006 | انڈیا ممبئی: 1993 کے دھماکوں پر فیصلے12 September, 2006 | انڈیا 1993 ممبئی دھماکے: فیصلہ مؤخر10 August, 2006 | انڈیا بمبئی دھماکے، فیصلہ دس اگست کو27 July, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||