1993 دھماکے: ملزم فاروق پاؤلے مجرم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انیس سو ترانوے بم دھماکوں کی خصوصی ٹاڈا عدالت نے پیر کو ایک اور ملزم فاروق پاؤلے کو قصوروار قرار دیا ہے۔ سینٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن ( سی بی آئی ) نے فاروق پاؤلے پر ٹاڈا اور فوجداری قوانین کے تحت کل تیئس الزامات عائد کئے تھے۔ فاروق پر بمبئی سٹاک ایکسچینج اور نریمان پوائنٹ پر واقع ایئر انڈیا بلڈنگ کے پاس بم رکھنے کا الزام تھا۔ بارہ مارچ کو سب سے پہلا بم شیئر مارکیٹ میں پھٹا تھا جس میں 84 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ ایئر انڈیا بلڈنگ دھماکہ میں بیس افراد کی جان گئی تھی۔ فاروق پر ٹائیگر میمن کے ساتھ دبئی اور ممبئی میں بھی بم دھماکے کی سازش میں ملوث رہنے کا بھی الزام تھا۔ انہیں عدالت نے شیکھاڑی میں اسلحہ اور آر ڈی ایکس کی لینڈنگ میں بھی قصوروار پایا۔ فاروق پر بم دھماکہ کے اہم ملزم ٹایئگر میمن کے ساتھ بم نصب کرنے کے لئے شیئر مارکیٹ، ایئر انڈیا بلڈنگ اور سینا بھون کا معائنہ کرنے کا بھی جرم ثابت ہوا ہے۔ اب تک عدالت نے جن 32 مجرمان کو سزا سنائی ہے ان میں فاروق پر سب سے زیادہ سنگین الزامات تھے۔ عدالت گزشتہ ماہ بارہ ستمبر سے انیس سو ترانوے بم دھماکوں کا فیصلہ سنا رہی ہے اور اب تک عدالت نے پینتالیس ملزمان کی قسمت کا فیصلہ سنایا ہے جن میں سے بتیس کو سزا اور تیرہ کو رہائی مل چکی ہے۔ بارہ مارچ انیس سو ترانوے میں بارہ مقامات پر بم دھماکے ہوئے تھے جن میں 257 افراد ہلاک اور 713 زخمی ہوئے تھے۔ سی بی آئی ریکارڈ کے مطابق چھبیس کروڑ روپے سے زائد کی املاک تباہ ہوئی تھی۔ |
اسی بارے میں بمبئی دھماکے، فیصلہ دس اگست کو27 July, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے:مقدمہ لڑنےسےانکار21 July, 2006 | انڈیا دھماکے: تحقیقات جاری ، ٹھوس ثبوت نہیں ملے13 July, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||