ممبئی1993: سزائے موت کا مطالبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے شہر ممبئی میں 1993 میں ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں کے مقدمے میں سرکاری وکیلوں نے چوالیس مجرموں کے لیے موت کی سزا کا مطالبہ کیا ہے۔ اس مقدمے میں خصوصی عدالت نے ایک سو لوگوں کو قصور وار ٹھہرایا تھا۔ ان میں سے سینتالیس مجرموں کو برہ راست دھماکوں کی سازش اور مختلف مقامات پر دھماکہ خیز مادہ رکھنے کے جرم میں خصوصی عدالت نے مجرم قرار دیا تھا لیکن ان میں سے تین کو چھوڑ کر چوالیس مجرموں کے لیے سرکاری وکیلوں نے موت کی سزا کا مطالبہ کیا ہے۔ جمعرات کو مجرموں کو سزا سنائے جانے کی آخری سماعت تھی۔ سرکاری وکیل اجوّل نکم نے بی بی سی کو بتایا ’تین مجرموں کے لیے کم سزا کا مطالبہ اس لیے کیا گیا کیونکہ ان میں سے ایک (ٹائگر ممن کی رشتےدار) رنینہ ممن خاتون ہیں جبکہ دیگر دو ملزم اکثر بیمار رہتے ہیں۔‘ سرکاری وکیلوں نے دہشتگردی کی کارروائیوں میں مدد فراہم کرنے کے الزام میں قصوروار قرار دیے گئے 44 مجرموں میں سے دو بزرگ خواتین مجرموں کو چھوڑ کر باقی کے لیے عمر قید کی سزا کا مطالبہ کیا ہے۔ باقی نو مجرم کسٹم کے قانون اورغیر قانونی طریقے سے ہتھیار رکھنے کے قانون کے تحت قصوروار قرار دیے گئے تھے۔ ان میں بالی ووڈ ادا کار سنجے دت بھی شامل ہیں۔ سرکاری وکیل نے ان لوگوں کے لیے بھی زیادہ سے زیادہ سزا سنائے جانے کی مانگ کی ہے۔ ہندوستان کے قانون کے تحت ان’ایکٹس‘ کے تحت مجرم کو تین سے دس سال تک کی سزا ہو سکتی ہے ۔ مجرموں کی طرف سے وکیلوں کو اس مہینے کی 23 تاریخ کو سزا کے خلاف جرح کرنے کو کہا گیا ہے۔ اس کے بعد ہی جج مجرموں کی سزا سنائے جانے کی تاریخ کا اعلان کریں گے۔ تیرہ برس تک چلنے والے اس مقدمے میں 123 ملزمان میں سے سو کو مجرم قرار دیا گیا تھا۔ بارہ مارچ 1993 کو ان بم دھماکوں ميں ڈھائی سے زیادہ افراد ہلاک اور ایک ہزار لوگ زخمی ہوئے تھے۔ | اسی بارے میں سنجے دت کی رحم کی درخواست 16 January, 2007 | انڈیا سنجے دت کی ضمانت میں توسیع21 December, 2006 | انڈیا 1993 دھماکے: ملزم فاروق پاؤلے مجرم 09 October, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے، دو اور ملزم قصور وار22 September, 2006 | انڈیا 1993 بم دھماکے، چار قصوروار11 October, 2006 | انڈیا چھ مزید مقدمات کا فیصلہ: مجرم 10004 December, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||