ممبئی: میمن فیملی کے چار ارکان مجرم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی کی ایک خصوصی عدالت نے 1993 میں ہونے والے بم دھماکوں میں ممین فیملی کے چار ارکان کو قصور وار قرار دیا ہے جبکہ تین کو بری کر دیا ہے۔ لیکن اس کیس کے اہم ملزمان فرار ہیں۔ جسٹس پی ڈی کوڈے نے منگل کو سب سے پہلے ان بم دھماکوں کے اہم ملزم ٹائیگر میمن کے خاندان کے گرفتار سات ملزمین کے خلاف فیصلہ سنانا شروع کیا۔عدالت نے یعقوب میمن، عیسی میمن، یوسف میمن اور روبینہ میمن کو مجرم قرار دیا۔ لیکن اسی کے ساتھ عدالت نے ٹائیگر میمن کی والدہ حنیفہ میمن، راحین میمن اور سلیمان میمن کو ناکافی ثبوت کی وجہ سے بری کر دیا۔ ایک دیگر ملزم عبد الرزاق انتقال کر چکے ہیں۔ یعقوب میمن گزشتہ بارہ برس سے جیل میں ہیں۔ عدالت جب یہ فیصلہ سنا رہی تھی اس وقت یعقوب عدالت میں موجود تھے۔ فیصلہ آنے سے قبل تو ان کے چہرے پر کوئی شکن دکھائی نہیں دے رہی تھی لیکن فیصلہ سنتے ہی وہ عدالت میں بر ہم ہوگئے ۔ انکا کہنا تھا کہ ’یہاں بےقصوروں کو دہشتگرد بنایا جا رہا ہے، یہاں سب ڈرامہ چل رہا ہے۔‘ آج عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے وقت جب یعقوب کی بھابھی روبینہ میمن کو بھی مجرم قرار دیا تو یعقوب میمن برہم ہوگئے۔ وہ کہنے لگے کہ ’اس (ٹائگر میمن) نے کہا تھا کہ تو مہاتما گاندھی بننے چلا ہے۔ اس کی سزا بھگتے گا۔ آج تیرہ برس جیل میں گزارکر اس بات کا اچھی طرح اندازہ ہوگیا۔‘ سینٹرل بیورو آف انویسٹیگیشن (سی بی آئی)، پولیس اور دیگر تفتیشی ایجنسیوں نے بارہ مارچ 1993 کے بم دھماکوں کے لیے مافیا سرغنہ داؤد ابراہیم، ان کے بھائی انیس ابراہیم، ٹائیگر میمن ، انور تھیبا، جاوید چکنا، یعقوب ایڑا، سمیت تیس ملزمان کو اس سازش کے اہم ملزمان قرار دیا تھا۔ یہ تمام ملزمان ملک سے باہر ہیں۔ سی بی آئی اور پولیس کے مطابق ٹائیگر میمن نے مافیا سرغنہ داؤد ابراہیم، انیس ابراہیم، انور تھیبا، جاوید چکنا، محمد ڈوسا طاہر ٹکلیا اور دیگر کے ساتھ مل کر دھماکہ کی سازش دبئی کے ایک ہوٹل میں رچی۔ میمن خاندان ماہم میں الحسینی بلڈنگ میں رہتے تھے۔ اسی بلڈنگ میں روبینہ میمن کے نام سے ایک فلیٹ ہے۔ اس عمارت میں دو منزلے ٹائیگر میمن خاندان کے تھے۔ پولیس کے مطابق اسی عمارت کے زیر زمین گیراج میں آر ڈی ایکس کا ذخیرہ جمع کیا گیا، یہیں بم بنائے گئے اور یہیں سے گاڑیوں میں بم نصب کر کے شہر میں لے جایا گیا۔ دھماکہ سے قبل ٹائیگر میمن کا پورا خاندان ملک سے باہر دبئی چلا گیا اور گیارہ مارچ کو سارا کام ختم کرنے کے بعد ٹائیگر میمن بھی ملک سے فرار ہوگئے۔ اس دوران بارہ مارچ 1993 کو شہر میں سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے جس میں 257 ہلاک اور 713 افراد زخمی ہوئے اور کروڑوں کی املاک تباہ ہوگئی۔ پولیس کو سب سے پہلے ورلی میں ایک گاڑی ملی جس میں آر ڈی ایکس تھا۔ وہ گاڑی روبینہ کے نام سے تھی اور یہیں سے کیس کی گتھیاں سلجھتی گئیں۔ پولیس نے سب سے پہلے ٹائیگر میمن کے مینجر ضمیر قادری کو گرفتار کیا۔
میمن خاندان جس الحسینہ بلڈنگ میں رہتا تھا انہوں نے وہاں سے اپنی رہائش گاہ بدل دی۔ پھر انہوں نے کئی مرتبہ اپنا ٹھکانہ بدلا اور آج وہ ایک بار پھر ماہم میں رہتے ہیں لیکن چند چھوٹے کمروں کے مکان میں۔ جہاں وہ اب کسی سے بات چیت نہیں کرتے لیکن ان کی ضعیف والدہ ہر روز بلا ناغہ بیمار ہونے کے باوجود ماہم میں مخدوم مہائمی کے مزار پر دعا مانگنے ضرور جاتی ہیں۔ میمن خاندان کے اہم ملزم مشتاق عرف ٹائیگر میمن اپنی بیوی شبانہ میمن ، بھائی ایوب عبدالرزاق اور ان کی بیوی ریشماں میمن فرار ہیں۔ ملزموں میں فلم اسٹار سنجے دت بھی شامل ہیں۔ ان کے اوپر غیرقانونی طور پر اسلحہ رکھنے کا الزام ہے جو فرد جرم کے مطابق مافیا ڈان ابوسالم نے فراہم کیا تھا۔ اس معاملے میں سنجے دت ڈیڑھ برس جیل میں گزار چکے ہيں اور اس وقت وہ ضمانت پر رہا ہیں۔ ممبئی دھماکوں میں 123 ملزمین ہیں جن کے خلاف عدالت کو فیصلہ سنانا تھا۔ باقی ملزمین کا فیصلہ بدھ سے آٹھ آٹھ کے گروپ میں سنائے جانے کی توقع ہے۔ |
اسی بارے میں داؤد، مبینہ کمپلیکس منہدم 29 July, 2006 | انڈیا انڈیا: بڑے شدت پسند حملوں کی فہرست12 July, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے:مقدمہ لڑنےسےانکار21 July, 2006 | انڈیا چھاپے مگر ’ابھی سراغ نہیں‘12 July, 2006 | انڈیا بمبئی دھماکے، فیصلہ دس اگست کو27 July, 2006 | انڈیا 1993 ممبئی دھماکے: فیصلہ مؤخر10 August, 2006 | انڈیا ابو سالم کے بعدمونیکا کا ریمانڈ12 November, 2005 | انڈیا ابو سالم اور مونیکا انڈیا کے حوالے10 November, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||