BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 10 May, 2007, 07:43 GMT 12:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ آج مجھے نئی زندگی ملی ہے‘

منظور احمد قریشی
منظور کو جس وقت سی بی آئی نے گرفتار کیا اس وقت وہ صرف اٹھارہ برس کے تھے
’ آج مجھے نئی زندگی ملی ہے۔ عدالت میں جج نے جب رہائی کا حکم سنایا تو لگا دل دماغ پر پڑا ایک بڑا سا بوجھ ہٹ گیا ہو ۔ مجھے لگتا ہے آج میں آزاد ہو گیا ہوں۔ اب نہ عدالت کے چکر نہ پولس کا خوف ، شاید آج کی رات میں سکون کے ساتھ سو سکوں گا‘۔

عدالت سے 1993 میں ممبئی بم دھماکوں کے مقدمے سے بری کر دیے جانے کے بعد منظور احمد قریشی کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔ وہ یہ خبر اپنی 78 سالہ والدہ صابرہ بی کو سنانے کے لیے بے چین تھے۔

منظور کا گھر ممبئی کے مضافاتی علاقہ باندرہ میں نوپاڑہ کی تنگ گلیوں میں ہے جہاں روشنی اور ہوا کا گزر نہیں ہوتا۔ تین بھائی اور تین بہنوں میں سب سے چھوٹے منظور کو جس وقت سی بی آئی نے گرفتار کیا اس وقت وہ صرف اٹھارہ برس کے تھے۔

منظور پر پولیس نے دبئی میں بم دھماکوں کی سازش کے لیے ہوئی میٹنگ میں شریک ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔

منظور کے مطابق انہوں نے چونکہ صرف چوتھی جماعت تک ہی تعلیم حاصل کی تھی اس لیے وہ شروع سے اپنے چچا کی گوشت کی دکان پر کام کرتے تھے۔انہیں علاقے کے کچھ لوگوں نے کہا کہ دبئی میں کھانا پکانے کی ملازمت ہے اور تین ماہ کا ویزا ہے۔ منظور بتاتے ہیں کہ وہ دبئی گئے لیکن پندرہ دنوں بعد ہی انہیں وطن واپس بھیج دیا گیا۔

جس وقت بم دھماکے ہوئے وہ بنگلور میں اپنے دوست کی شادی میں گئے ہوئے تھے۔ اس وقت پولیس نے ان کے گھر والوں کو پریشان کرنا شروع کر دیا تھا۔ان کے بڑے بھائی سلیم قریشی کو پولیس نے حراست میں لے لیا تھا جبکہ وہ اس وقت بی اے کے آخری سال کے امتحان میں شریک ہونے والے تھے۔

منظور احمد قریشی
منظور پر پولیس نے دبئی میں بم دھماکوں کی سازش کے لیے ہوئی میٹنگ میں شریک ہونے کا الزام عائد کیا تھا

منظور نے یکم اپریل کو سی بی آئی کے سامنے خود سپردگی کر دی تھی۔ پولیس کی مبینہ اذیت کی داستان سناتے ہوئے منظور کہتے ہیں کہ انہیں خوف ہے کہ کہیں کچھ کہنے پر پولیس پھر کوئی الزام عائد کر کے پکڑ نہ لے۔’ہمیں دہشت گرد کہہ کر اذیت دی جاتی تھی۔کبھی الٹا لٹکا دیا جاتا تھا۔ میں نے ماہم پولیس چوکی میں دیکھا تھا کہ کس طرح عورتوں کو بے عزت کیا جارہا تھا‘۔

منظور نے مزید بتایا کہ زندگی آسان نہیں تھی، گرفتاری کے تین ماہ بعد ہی صدمہ سے ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔ والد اکبری جہاز علاقہ میں ملازم تھے۔منظور نے بتایا کہ ایک سال کی حراست کے بعد انہیں عبوری ضمانت مل گئی تھی۔ لیکن پھر رشتہ داروں نے ہی بقول ان کے انہیں جھوٹے کیس میں پھنسا دیا جس کے نتیجے میں انہیں پھر گرفتار کر لیا گیا۔ تین سال بعد جب وہ واپس گھر آئے تو سن دو ہزار دو میں والدہ نے اتر پردیش میں شادی کروا دی۔ وہاں کچھ دن لگ گئے اور وہ عدالت میں حاضر نہیں ہو سکے۔ اس دوران سی بی آئی نے وطن واپسی پر انہیں گرفتار کر لیا۔

جب منظور جیل میں تھے تو ان کی بیوی نے ایک بیٹے کوجنم دیا۔ چالیس دن کے اندر بیٹے کا انتقال ہو گیا کیونکہ علاج کے لیے پیسے نہیں تھے۔ منظور نے بتایا ’ آج میرا بیٹا چار سال کا ہوتا۔ میں اس کی شکل تک نہیں دیکھ سکا تھا آج بھی لگتا ہے کہ اگر میں جیل کی بجائے آزاد ہوتا تو کہیں نہ کہیں سے پیسے لا کر اپنے بیٹے کا علاج کرواتا۔ یہ غم زندگی بھر رہے گا‘۔

منظور کے گھر میں رقم ادا نہ کرنے کی وجہ سے بجلی کاٹ دی گئی ہے۔ پڑوسیوں نے بجلی کنکشن دیا ہے۔دیواروں پر رنگ و روغن نہیں ہے۔ ’یہ گھر بھی ہماری زندگی کی طرح بے رونق ہے۔میں نے آٹھ سال جیل میں گزارے یعنی میری جوانی جیل کی نذر ہو گئی لیکن ان آٹھ برسوں کا نہیں بلکہ چودہ برسوں کا حساب کون دے گا؟ کیونکہ جیل سے ضمانت ملنے کے بعد بھی تو ہمیشہ پولیس سٹیشن میں حاضری اور عدالت کے دھکے کھانے پڑتے تھے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد