BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 May, 2007, 15:12 GMT 20:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
93 دھماکوں کے ملزمان رہا

فائل فوٹو
سنجے دت نے عدالت سے باہر آکر کہا کہ انہیں اوپر والے پر بھروسہ ہے
انیس سو ترانوے کے ممبئی بم دھماکہ کیس کی خصوصی عدالت نے جن تیئس ملزمان کو ناکافی ثبوت کی وجہ سے بری کر دیا تھا انہیں بدھ کو رہا کر دیا گیا ہے۔

تاہم جج پرمود دتاتریہ کوڈے نے اعلان کیا کہ اس مقدمے کے بقیہ سو مجرموں رمین کو سزا سنانے کا عمل وہ اٹھارہ مئی سے شروع کریں گے۔

جج نے کہا کہ سولہ مئی کو عدالت پہلے سنجے دت سمیت ان تمام ملزمین کی اپیل کی سماعت کرے گی جنہوں نے عدالت سے رجوع کیا ہوا ہے لیکن ان پر فیصلے کو محفوظ رکھ لیا جائے گا۔

سنجے دت اپنے دوست اجے مارواہ کے ہمراہ نیلے رنگ کے شرٹ اور جینز میں عدالت پہنچے۔ انہوں نے عدالت کے احاطے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے عدالت کے فیصلہ پر یقین ہے‘۔ اس کے بعدانہوں نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہا کہ ’مجھے اوپر والے پر بھی بھروسہ ہے۔اس لیے میں اپنی فلموں کی شوٹنگ میں مصروف ہوں‘۔

بدھ کو عدالت نے تیئس ملزمان کو باضابطہ طور پر رہا کر دیا۔

جن میں سے تین ملزم ٹائیگر میمن کی والدہ حنیفہ میمن، دیوی داس گھولے اور محمد احمد منصور سہیل احمد عدالت میں حاضر نہیں ہوئے۔

ٹائیگر میمن کے بھائی یعقوب میمن کو عدالت نے مجرم قرار دیا لیکن ان کی بیوی راحین بری کر دی گئیں۔ ٹائیگر میمن کے بھائی سلیمان میمن کو عدالت نے بری کر دیا البتہ ان کی بیوی روبینہ میمن کو مجرم قرار دیا ہے۔رخسانہ زری والا میمن خاندان کے بعد واحد خاتون ہیں جنہیں عدالت نے بدھ کو بری کر دیا لیکن دیگر تین خواتین کو مجرم قرار دیا گیا ہے۔

فائل فوٹو
انیس سو تیرانوے میں ممبئی میں بارہ بم دھماکے ہوئے تھے

رہائی کے بعد عبدالعزیز عبدالقادر کا کہنا تھا’ آخر ہمارے ان چودہ برسوں کا کیا جو ہم نے جیل کی کالی کوٹھری اور سماج کی نفرت کے ساتھ گزارے‘۔

لیکن بیشتر ملزمین نے کچھ بھی کہنے سے انکار کر دیا۔ ان کے چہروں پر خوف اب بھی برقرار تھا۔ سلطان روم، قادر رحمن فضل، رخسانہ زری والا نے کہا کہ اللہ نے انہیں اتنی بڑی مصیبت سے نکالا ہے اب وہ کچھ بھی کہہ کر دوبارہ مصیبت مول لینا نہیں چاہتے اس لیے میڈیا کے کیمرے اور ان کے سوالات سے بچنے کے لیے انہوں نے پولس کی مدد مانگی اور پولس اپنے گھیرے میں انہیں باہر نکالنے میں کامیاب ہو گئی۔

جو ملزمان رہا ہوئے ان میں سے بیشتر نے پانچ ماہ سے لے کر آٹھ سال تک جیل میں گزارے۔ اس دوران انہیں کافی صعوبتوں سے گزرنا پڑا۔ لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان تیئس ملزمین میں سے کوئی بھی ہرجانہ کے لیے دعوی کرنے کی ہمت نہیں رکھتا۔

وکیل عباس کاظمی نے بتایا کہ ’ قانون نے انہیں یہ حق دیا ہے کہ وہ جیل میں گزارے برسوں کو عدالت میں چیلنج کر سکیں۔لیکن کچھ ملزمان کے پاس اتنا سرمایہ نہیں ہے کہ وہ اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کریں اور جن کی استطاعت ہے وہ بھی خوف زدہ ہیں‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد